18 سالہ نوجوان لڑکی نے خود کشی کرلی، اس سے پہلے اپنے کمرے کی دیوار پر کیا پیغام لکھ گئی، جان کر ہر شخص کانپ اٹھے

18 سالہ نوجوان لڑکی نے خود کشی کرلی، اس سے پہلے اپنے کمرے کی دیوار پر کیا پیغام ...
18 سالہ نوجوان لڑکی نے خود کشی کرلی، اس سے پہلے اپنے کمرے کی دیوار پر کیا پیغام لکھ گئی، جان کر ہر شخص کانپ اٹھے

  


لندن (نیوز ڈیسک) ذہنی مسائل سے دوچار ایک برطانوی لڑکی نے گلے میں پھندا ڈال کر خود کو ہلاک کرلیا، لیکن جانے سے پہلے اپنے کمرے کی دیوار پر ایسی بات لکھ گئی کہ دیکھ کر گھر والوں کا غم دوچند ہو گیا۔

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق 18 سالہ کورٹنی ڈیوس نے اپنے کمرے میں خود کشی کی۔ اس نے کمرے کے دروازے کو اندر سے لاک کررکھا تھا جسے توڑ کر گھر والے اندر داخل ہوئے۔ اس کی لٹکتی ہوئی لاش کے پیچھے دیوار پر ایک تصویر بنی تھی جس میں ایک لڑکی گلے میں پھندا ڈالے لٹکتی نظر آتی ہے۔ تصویر کے ساتھ ہی لکھا تھا ”موت کو گلے لگا لینا کتنی زبردست مہم جوئی ہوگی۔“

نوعمر لڑکی کے ساتھ فیس بک لائیو سٹریم پر گینگ ریپ، دیکھنے والے درجنوں لوگ اس دوران کیا کرتے رہے؟ ایسا انکشاف کہ انسانیت شرما کر رہ گئی

گلوکیسٹر شائر کے علاقے سے تعلق رکھنے والی کورٹنی ڈپریشن کی مریضہ تھی اور ایک حالیہ نفسیاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس کی خود کشی کا امکان درمیانے درجے کا ہے۔ اس کے جارحانہ مزاج اور تشدد پسند رویے کی وجہ سے ماہرین نفسیات کو زیادہ خدشہ یہ تھا کہ وہ کسی اور کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔ اکتوبر 2015ءمیں اس کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا ”مریضہ سخت ڈپریشن سے دوچار ہے لیکن میرے گزشتہ معائنے میں مَیں نے نوٹ کیا کہ وہ خود کشی پر مائل نہیں ہے، اس کا خود کشی کا امکان درمیانے درجے کا ہوسکتا ہے جبکہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کا خدشہ بلند درجے کا ہے۔“

حالیہ طبی رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ آٹزم، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر اور ذہنی پسماندگی کے مسائل کا سامنا کررہی تھی۔ ماضی میں بھی وہ سکون آور ادویات کھا کر خود کشی کی کوشش کرچکی تھی۔ آخری بار کورٹنی کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کرسٹوفرمارٹن کو اس نے بتایا تھا کہ وہ خود کشی نہیں کرے گی کیونکہ وہ اپنے خاندان کو دکھ نہیں دینا چاہتی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کی موت کی وجہ نشہ آور اشیاءیا ادویات کو قرار نہیں دیا گیا بلکہ نفسیاتی مسائل کے نتیجے میں خود کشی کو موت کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس