دبئی میں ایک ایسی پولیس لانے کی تیاری کہ کوئی جرم کرنے کا سوچے گا بھی نہیں، یہ 30 فٹ دور سے ہی۔۔۔

دبئی میں ایک ایسی پولیس لانے کی تیاری کہ کوئی جرم کرنے کا سوچے گا بھی نہیں، یہ ...
دبئی میں ایک ایسی پولیس لانے کی تیاری کہ کوئی جرم کرنے کا سوچے گا بھی نہیں، یہ 30 فٹ دور سے ہی۔۔۔

  


دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر اب آپ دبئی جائیں اور وہاںکوئی وردی پوش روبوٹ آپ کو کسی جگہ روکے تو اسے محض ایک مشین سمجھ کر نظر انداز نہ کردیجئے گا کیونکہ حکومت دبئی نے روبوٹ پولیس بھرتی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جسے عام پولیس کی طرح اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

نوازشریف کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا خط، یوم پاکستان کے موقع پر مبارک باد پیش کی 

ویب سائٹ ’پولیس ون‘ کی رپورٹ کے مطابق دبئی پولیس اپنے پہلے روبوٹ سپاہیوں کو رواں سال مئی میں خوش آمدید کہنے کے لئے تیار ہے۔ دبئی پولیس کے فیوچر شیپنگ سنٹر کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر عبداللہ بن سلطان کا کہنا تھا کہ توقع کی جارہی ہے کہ 2030ءتک دبئی پولیس کے تقریباً 25 فیصد اہلکار روبوٹ ہوں گے۔

یہ کوئی عام پولیس والے نہیں ہوں گے بلکہ ان کی نظریں اتنی تیز ہوں گی کہ یہ 30 فٹ دور سے ہی کسی شخص کے چہرے پر ایک نظر ڈال کر نہ صرف اس کی شناخت کرلیں گے بلکہ اس کا تمام بائیوڈیٹا بھی لمحوں میں حاصل کرلیں گے۔ شہری روبوٹ سپاہیوں کو جرائم کی اطلاع دے سکیں گے، انہیں شکایات درج کرواسکیں گے، اور انہیں جرمانہ بھی ادا کرسکیں گے۔

بریگیڈیئر عبداللہ بن سلطان کا کہنا تھا کہ 2025ءتک دبئی سکیورٹی کے لحاظ سے دنیا کے پانچ بہترین شہروں میں شامل ہوگا۔ مستقبل کے حالات سے نمٹنے کے لئے روبوٹ پولیس جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی ابھی سے متعارف کروائی جارہی ہے۔ ایک جامع ڈی این اے ڈیٹا بینک پر بھی کام شروع ہوچکا ہے، جس کی مدد سے روبوٹ پولیس اہلکار کسی بھی شخص کو شناخت کرکے اس کے متعلق تمام معلومات لمحوں میں حاصل کرسکیں گے۔

دبئی پولیس کے شعبہ سمارٹ سروسز کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر خالد ناصر الرزوقی کا کہنا تھا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ اپنے ہر شعبے کو سمارٹ بنانے اور مصنوعی ذہانت سے لیس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2030ءتک ایسے پولیس سٹیشن بھی قائم ہوجائیں گے جن میں صرف روبوٹ سپاہی ہوں گے۔

یعنی آپ دبئی کے کسی پولیس سٹیشن جائیں گے تو وہاں آپ کی مدد کے لئے پولیس کی وردی میں ملبوس صرف چاق و چوبند روبوٹ ہوں گے۔ آپ امید کر سکتے ہیں کہ روبوٹ سپاہی آپ کے لئے انسانوں کی نسبت کہیں زیادہ مددگار ثابت ہوں گے، اور کچھ بعید نہیں کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے یہ ’سپاہی‘ ہمدردی جیسے جذبات بھی رکھتے ہوں۔

مزید : عرب دنیا