سب سے بلند۔۔۔شان مصطفی ﷺ

سب سے بلند۔۔۔شان مصطفی ﷺ

جناب سینیٹر پروفیسر ساجد میر

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا اور آپ سے آپ کا بوجھ ہم نے اتار دیا جس نے کمر بوجھل کر دی تھی اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا ہے۔‘‘

نبی اکرمﷺ کی دنیا میں تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ فرمایا:

(وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ)

(الانبیاء: ۱۰۷)

آپ کو سارے جہانوں اور سارے جہان والوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے خصوصی رحمت بنا کر بھیجا۔ آپؐ نے خود ایک حدیث میں بڑے خوبصورت الفاظ میں ارشاد فرمایا:

میں اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی رحمت ہوں جس کو اس نے مخلوق کو تحفے کے طور پر دیا ہے۔ میں مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ کا خاص تحفہ ہوں، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صورت اور سیرت دونوں کا کمال آپ کی ذات بالا میں جمع فرما دیا ہے ؂

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

اور تیری سیرت کے سوا دنیامیں رکھا کیا ہے؟

حقیقت میں یہ ایک بڑی طویل داستان ہے، اگر انسان اسے مختلف زاویوں سے بیان کرنا چاہے۔ نبی اکرمﷺ کے فضائل، کردار، آپ ؐ کے اسوۂ، سیرت اور سنت کی بات ہو تو اس میں بہت وقت درکار ہے۔

نبی اکرمﷺ کے ذکر اور شان کو اللہ تعالیٰ نے بلند کرنے کا اعلان اس سورۃ مبارکہ میں باقی باتوں کے علاوہ فرمایا کہ:

(وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ)

ہم نے آپ کی شان اور مرتبے کے ذکر کو، دوسرے لفظوں میں آپ کے مقام کو بہت اونچا اور بلند کر دیا ہے۔ یہ کردار کی ایسی بلندی ہے کہ اس کا اعتراف اپنوں نے بھی کیا ہے، پرایوں نے بھی کیا ہے۔ دوستوں نے بھی کیا ہے، دشمنوں نے بھی کیا ہے اور بلندی کردار، اخلاق عالیہ، سیرت مطہرہ اور اسوہ حسنہ کی تعریف میں اپنے تو اپنے ہیں، امتی تو امتی ہیں، عقیدت مند تو عقیدت مند ہیں، محبت رکھنے والے تو محبت رکھنے والے ہیں لیکن جو دشمن اور غیر ہیں انہیں بھی ماننا اور تسلیم کرنا پڑا کہ اگر دنیا میں بلندی کردار کوئی چیز ہے تو وہ محمد کریمﷺ میں پائی جاتی ہے اور اس میں مزے کی بات یہ ہے۔ دور سے کوئی شخصیت، کوئی چیز، کوئی کردار بڑا اچھا اور بلند نظر آتا ہے۔ ذرا اور قریب آ کر کچھ عرصے تک دیکھتے رہیں تو پھر کچھ انسانی کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ ہم نے جس کو بہت اونچا، بہت بڑا اور اچھا سمجھا تھا وہ تو ایک عام انسان ہے۔ اس میں انسانی کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ ہمارا تصور جو پہلے تھا وہ یا تو بالکل پاش پاش ہو جاتا ہے یا اس میں فرق ضرور پڑتا ہے۔ لیکن نبی کریمﷺ کے اخلاق، کردار، سیرت اور اسوہ کی بلندی، خوبصورتی اور عظمت یہ ہے کہ جتنا کوئی قریب آتا ہے اتنا ہی اور گرویدہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ جتنا کوئی قریب آتا ہے اتنا ہی اپنے آپ کو تعریف کرنے پر مجبور پاتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ قریب سے دیکھنے پر اس کے پہلے تصور کو کوئی ٹھیس پہنچے، یا اس میں کوئی فرق آئے۔ بلکہ وہ اور زیادہ معترف ہوتا ہے کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخلاق، کردار، سیرت، حسن اور عظمت کی بلندی عطا فرمائی ہے۔

ابھی آپ نے نبوت کا اعلان بھی نہیں فرمایا، ابھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت کے منصب پر فائز نہیں کیا، اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں تو شروع سے آپؐ نبی ہیں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

کہ آدم کی ابھی تشکیل بھی نہیں ہوئی، حضرت آدمؑ کو ابھی بنایا بھی نہیں گیا تھا کہ اس وقت سے میں اللہ کے علم اور تقدیر میں نبی ہوں۔

(صحیح، جامع الصغیر ۸۷۱۰، سبل الھدی والرشاد: ۲/۲۹۳، طبقات ابن سعد:۱/۹۵)

کوئی آج کا نیا نبی نہیں، مجھے اللہ تعالیٰ نے ازل سے نبی مقرر فرمایا ہے لیکن نبوت کے ملنے اور نبوت کے اعلان سے پہلے جو آپؐ کا کردار تھا جسے قریبی لوگوں نے دیکھا، میں اس کی ایک مثال دینا چاہتا ہوں کہ آپؐ کے خطبہ نکاح میں جب حضرت خدیجۃ الکبریٰ سے آپ کا نکاح ہوا تو جناب ابو طالب نے آپ کے سرپرست اور وکیل کی حیثیت سے وہاں ایک تقریر کی۔ سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ اس نے اس میں یہ الفاظ استعمال کئے:

کہ’’یہ جو میرا بھتیجا محمدﷺ ہے میں اس کے بارے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج مکے کا، بلکہ عرب کا کوئی جوان اپنے شرف، فضیلت اور اپنے حسن کردار کے حوالے سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، یہ سب میں ممتاز ہے‘‘۔

ام المومنین حضرت خدیجہؓ نے جن الفاظ میں نبی محترمﷺ کو تسلی دی، جب آپ فطری طور پر پریشانی کا شکار ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو مسلمان بنانے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنانے کی اتنی بڑی ذمہ داری مجھ اکیلے فرد پر ڈال دی ہے،کیا ہوگا؟ کیسے کروں گا؟ اس وقت قدرتی طور پر آپ کو کچھ پریشانی تھی، حضرت خدیجہؓ نے ایک اچھی اور ہمدرد بیوی کی طرح تسلی دی اور تسلی کن الفاظ میں دی؟ آپ کے کردار اور عظمت کا ایک نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔

یاد رکھیں کہ یہ الفاظ اس کے ہیں جس نے قریب سے آپ کے دن رات کی زندگی کو دیکھا، اس کے علم میں ہے کہ آپ کا اصلی اور حقیقی کردار کیا ہے؟ انہوں نے کہا:

’’اللہ کے رسولﷺ اور میرے آقائے نامدار! گھبراہٹ اور پریشانی کی کوئی بات نہیں، مجھے تو یقین ہے کہ آپ کو کوئی گزند، ضرر اور نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بنایا ہے تو اس میں خیر ہی خیر ہوگی۔ اس میں گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں ہے۔ اس لئے کہ آپ بے بسوں کا سہارا ہیں۔ آپ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور جن پر کسی قسم کا بوجھ لدا ہوا ہو، آپ ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں‘‘۔

ہماری دوسری ماں ام المومنین حضرت عائشہؓ نے صرف تین لفظوں میں آپؐ کے کردار اور اخلاق کا نقشہ کھینچا ہے کہ ایک شخص جو آپ کا عزیز بھی ہے، تابعی بھی ہے، اس کو آپؐ کی صحبت کا موقع میسر نہیں آیا، اس نے آپؓ سے سوال کیا کہ ہمیں بتائیں نبی اکرمﷺ کا کردار، آپ کا اخلاق، اسوہ، آپؐ کی سیرت اور زندگی کیسی تھی؟ تا کہ ہم بھی اس سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں۔

حضرت عائشہؓ نے براہ راست جواب دینے کی بجائے جوابی سوال کیا:

’’پوچھنے والے! تو نے کبھی قرآن نہیں پڑھا؟‘‘

اس نے کہا جی ہاں! قرآن تو پڑھتا ہوں، مسلمان ہوں، قرآن کے بغیر کیسے گزار ہو سکتا ہے۔

حضرت عائشہؓ نے تین لفظوں میں فرمایا:

قرآن پڑھتا ہے تو جان لے کہ قرآن جس طرح کا اخلاق چاہتا ہے، جس طرح کا عمل چاہتا ہے، جس طرح کی زندگی چاہتا ہے، وہی زندگی اور وہی عمل رسول اکرمﷺ کا تھا۔

اسی طرح حضرت انسؓ جنہوں نے ایک خادم کی حیثیت سے آپؐ کے دن رات کو دیکھا اور قریب سے مشاہدہ کیا، وہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک لمبے عرصے تک آپؐ کے ساتھ رہا، کوئی دوچار، دس دن یا دو چار ہفتوں کی بات نہیں، کہتے ہیں: مسلسل دس برس تک میں آپ کے ساتھ رہا، آپ کی خدمت کرتا رہا،

ان دس برسوں کی طویل مدت میں آپﷺ نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، ڈانٹا تک بھی نہیں، میں بچہ تھا مجھ سے غلطی ہو جاتی تھی، اگر آپؐ کسی کام کے لئے بھیجتے تو میں کھیل کود میں مصروف ہو جاتا، بھول جاتا کہ آپ ؐ نے کسی کام یا کسی آدمی کو بلانے کے لئے بھیجا ہے، آپ ؐ پیچھے آتے تھے، اگر آپ کو بڑا ہی غصہ آتا تو صرف یہ لفظ فرماتے: یا ذالاذنین۔ اے دو کانوں والے! اللہ تعالیٰ نے تجھے دو کان دئیے ہیں، میری بات کیوں نہیں سنتا، اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں کہتے تھے، دس برس کوئی ایک یا دو دن کی بات نہیں، ہم تو ایک مہینے میں اپنا آپ دکھا دیتے ہیں کہ یہ ہمارا غصہ اور جلال ہے، یہ ہماری طبیعت ہے لیکن نبی اکرمﷺ کے اخلاق عالیہ پر قربان جائیں واقعی بے مثال ہیں کہ دس برس کی طویل مدت میں ایک بچے کو بھی شکایت کا موقعہ نہیں دیا۔

یہ احترام اور محبت جو اپنوں کے دلوں میں تھا، غیروں نے بھی اس کا مشاہدہ کیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ یہ بے مثال قسم کا احترام اور محبت ہے جو آپ کے کردار اور اخلاق کی وجہ سے ان کے دلوں میں پیدا ہوا تھا اس کا اعتراف کیا۔ حدیث پاک میں ہے کہ صحابہ کرامؓ آپﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے:

اس طرح محسوس ہوتا تھا کہ ان کے کندھوں یا سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، کیا مطلب؟ بے حس و حرکت بیٹھتے تھے، جیسے کوئی پرندہ بیٹھا ہے، ذرا حرکت کی تو وہ اڑ جائے گا۔ اسی طرح ادب و احترام کے ساتھ بیٹھتے تھے اور یہ احترام اور ادب مصنوعی اور عارضی نہیں تھا بلکہ دلی اور قلبی تھا جس کی بنیادی وجہ آپ ؐ کا حسن کردار اور حسن اخلاق تھا۔

’’اگر آپ (خدانخواستہ) سخت دل، تند خو اور بداخلاق ہوتے‘‘ تو یہ لوگ آپ کے گرد جمع نہ ہوتے،(آل عمران: ۱۵۹) بھاگ جاتے اور آپ کے گرد پروانوں کی طرح اکٹھے نہ ہوتے، اقبال نے اپنے رنگ میں بات کہی:

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں

فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق

رسول اکرمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ خوبی بھی عطا فرمائی کہ جو احترام اور محبت صحابہ کرامﷺ اور قریب آنے والوں کے دلوں میں آپ کے لئے پائی جاتی تھی، وہ حقیقی تھی، مصنوعی نہ تھی، ان کا احترام دوسروں نے بھی کیا۔

عروہ جو قریش کا سفیر بن کر آیا اور اس نے آپؐ سے بات چیت کی، مسلمانوں کا رنگ ڈھنگ دیکھا، آپؐ کی عقیدت، احترام اور دلی محبت جو ات کے اندر تھی اس کو ملاحظہ کیا تو قریش کو جا کر کہا:

‘‘میں نے دنیا کے دربار اور بادشاہ دیکھے ہیں، روم گیا ہوں، ایران گیا ہوں، شام گیا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ ظاہری اور وقتی طور پر بادشاہوں کے درباری، امراء، اس کے ساتھی اور ماتحت احترام کرتے ہیں لیکن وہ دلی احترام نہیں ہوتا، جب کہ محمد ؐ کے ساتھی جو احترام کرتے ہیں، ان جیسی محبت اور احترام دنیا بھر میں کہیں نہیں دیکھا‘‘۔

یہ اس کا بیان ہے جو ابھی مسلمان بھی نہیں ہوا تھا اور یہ اپنوں کی بات نہیں، بلکہ غیر بھی آپ کی عظمت و کردار، آپ کے اسوہ حسنہ کی خوبصورتی اور آپ کے اخلاق کو ماننے پر مجبور ہیں۔

کفار مکہ کہتے تھے کہ عرب بھر میں اگر کوئی سچا، خیانت سے پاک اور دیانت دار انسان ہے تو وہ محمدﷺ، وہ آپ کو صادق اور امین کہتے تھے اور کوہ صفا کے وعظ سے پہلے آپ نے ان سے پوچھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے سے پہلے میں تم سے پوچھتا ہوں کہ میرے کردار کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ خاص طور پر بات کی سچائی کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ مولانا حالی کے الفاظ میں ؂

سمجھتے ہو تم مجھ کو صادق کہ کاذب؟

لبثت فیکم عمراً کیف وجدتمونی؟

یہ بتاؤ کہ تم مجھے سچا جانتے ہو یا جھوٹا سمجھتے ہو؟ سب نے بیک زبان ہو کر کہا کہ آج تک ہم نے یہی دیکھا ہے کہ آپ جب بھی بولے ہیں سچ بولے ہیں۔

ابوسفیان جو قائد کفر تھے، ان کو بعد میں اسلام کی دولت ملی لیکن ایک لمبے عرصے تک یہی کافروں کے سردار تھے، بدر کی جنگ کے بعد کس نے ساری لڑائیاں منظم کیں؟ کس نے قوم کو ابھارا؟ کون میدان جنگ میں عرب کے لوگوں کو بار بار لے کر آیا؟ کس نے اپنا اور دوسروں کا مال خرچ کیا اور کروایا؟ یہی دشمنوں کے سردار ابوسفیان تھے، لیکن خود کہتے ہیں کہ میں اسی دشمنی کے زمانے میں (حدیبیہ کی عارضی طور پر صلح ہو چکی تھی) تجارتی سفر کے سلسلے میں روم گیا، روم کے بادشاہ کے پاس نبی اکرمﷺ246 کا خط آیا ہوا تھا کہ اگر دنیا اور آخرت کی بہتری چاہتا ہے تو تو بھی مسلمان ہو جا۔ اسے یہ تجسس تھا کہ یہ کون شخص ہے جس نے مجھے اتنی بے باکی اور جرأت سے لکھا ہے۔

بادشاہ کو پتہ چلا کہ عرب کے تاجر آئے ہوئے ہیں، اس نے کہا ان کو بلاؤ۔ ابوسفیان ان کے لیڈر تھے، یہ آئے اور اس نے چند سوال کئے، ایک سوال یہ تھا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے آپ کا کردار کیا تھا؟ آپ جھوٹے تھے یا سچے تھے؟ تمہارا تجربہ کیا ہے؟ یہ بھی پوچھا کہ وہ عہد کی پابندی کرنے اور وعدے کو نبھانے والے تھے یا توڑنے والے ؟

ابوسفیان کہتے ہیں: اس وقت چونکہ دشمنی تھی، میرا دل چاہا کہ میں جواب میں ذرا آمیزش کرلوں اور کہہ دوں کہ ہاں کبھی کبھی جھوٹ بھی بول لیتے تھے، کبھی کبھی عہد کی پابندی نہیں بھی کرتے تھے۔ میں نے کہنا تو چاہا لیکن حق نے میری زبان کو پکڑ لیا، میرے منہ سے سچی بات ہی نکلی، جھوٹی بات نہیں نکل سکی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے مخالف تو ہے، لیکن میں یہ مانتا ہوں کہ ہم نے آپ کا کوئی جھوٹ نہیں دیکھا۔ آپ کی کوئی بے کرداری، خیانت اور بدعہدی نہیں دیکھی۔

یہ وہ خراج تحسین ہے جو دشمن نے دشمنی کے وقت پیش کی اور کوئی اس وقت تردید کرنے یا کہنے والا موجود نہیں تھا کہ تم غلط کہہ رہے ہو، لیکن ضمیر کی آواز جو اندر تھی وہ باہر نکل آئی۔

مزید : ایڈیشن 1