حیدر آباد کے دو شرجیل

حیدر آباد کے دو شرجیل
حیدر آباد کے دو شرجیل

  


عجیب اتفاق ہے کہ حیدرآباد شہر کے دونوں شرجیل اچھی اڑان کے باوجود اپنی اپنی اڑان برقرار نہیں رکھ سکے۔ دونوں کو مالی بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ سیاست داں شرجیل میمن ہوں یا کرکٹر شرجیل خان ، دونوں کو اپنے اوپر لگے داغ دھونے ہوں گے۔ کھلاڑی شرجیل خان یوں نمایاں ہوئے کہ حیدرآباد شہر سے طویل عرصے بعد کوئی ایسا کھلاڑی سامنے آیا جس نے کرکٹ میں نام پیدا کیا اور اونچا مقام حاصل کر رہا تھا کہ اچانک ایسے الزام کی زد میں آگیا جس نے اس کا کرکٹ میں مقام ہی داغ دار کر دیا ۔ ان پر میچ میں اپنی ہی ٹیم کی کارکردگی کو متاثر کرنے کے عوض رقم طے کرنے کا الزام ہے۔ انہیں ایسے الزامات کا سامنا ہے جس کے داغ تو انہیں دھونا ہی پڑیں گے۔ مختلف قسم کے حیلے بہانے کام نہیں آئیں گے۔ ایک ذرا سا لالچ کسی بھی شخص کو کہا ں سے کہاں پھینک دیتا ہے۔ شرجیل کو جو مقام حاصل ہورہا تھا اس کے والد سہیل خان پھولے نہیں سماتے تھے۔ وہ خود کرکٹ کے کھلاڑی رہے ہیں۔وہ ٹیسٹ میچ تک نہیں پہنچ سکے تھے، لیکن ان کا بیٹا پہنچ گیا۔ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے کہتے تھے کہ شرجیل اچھی کرکٹ کھیل رہا ہے۔ حیدرآباد کے نچلے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والا شرجیل لالچ میں نہیں آتا تو اس کے لئے کتنا اچھا ہوتا۔ کرکٹ بورڈ کے ٹربیونل میں ان کا معاملہ زیر سماعت ہے،اِس لئے اس پر زیادہ گفتگو غیر مناسب ہو گی۔

سیاست دان شرجیل میمن کا تعلق بھی متوسط گھرانے سے ہے۔ ان کے ننھیال میں وہ پہلے شخص ہیں جس نے عملی سیاست کا آغاز کیا۔ ان کے دادا مرحوم یعقوب میمن پرائمری ٹیچر تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم پر بھر پور توجہ دی۔ بڑا بیٹا سراج الحق میمن مرکزی حکومت کے مقابلے کے امتحانات میں کامیاب ہوا اور محکمہ انکم ٹیکس میں ملازمت ملی۔ سراج مرحوم جنرل یحیی خان کے دور میں ملازمت سے فارغ کر دیئے گئے۔ انہوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کر لیا اور ادب سے دلچسپی کی وجہ سے کہانی نویسی میں نام کمایا۔ شرجیل کے والد انعام الحق میمن محنتی اور خوددار شخص تھے ۔ اپنے اکلوتے بیٹے کو انجینئرنگ کی تعلیم دلائی۔والد کے انتقال کے بعد شرجیل کراچی منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبا رشروع کردیا۔ قسمت نے ساتھ دیا اور وہ کامیابی کی منازل طے کرتے رہے۔ مخدوم امین فہیم کی محفلوں میں رسائی کی وجہ سے انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2008ء کے انتخابات میں انہوں نے تھرپارکر کے دور افتادہ علاقے ننگر پارکر سے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا۔ تھرپارکر میں مخدوم امین فہیم کے مرید بھی رہائش رکھتے ہیں یہ بھی ایک وجہ بنی کہ شرجیل کو اس حلقے سے انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ دیا گیا۔ وہ دور ایسا تھا جس میں ارباب غلام رحیم طاقت ور تصور کئے جاتے تھے۔ شرجیل ان کے چھوٹے بھائی ارباب عبداللہ کے مقابلے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ جب عبداللہ ایک حادثے کا شکار ہو گئے اور ضمنی انتخاب ہوئے تو شرجیل دوبارہ امیدار بنے اور کامیاب ہو گئے۔ اِسی دوران آصف علی زرداری کے اس وقت کے دست راست ذوالفقار مرزا کے ساتھ انہوں نے تعلقات استوار کر لئے۔ صوبائی اسمبلی میں پہنچ کر وہ وزیر مقرر ہو گئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ محکمہ اطلاعات کا وزیر ہونے کے ناطے حکومت سندھ کے ترجمان ہو گئے۔ کوئی دن ایسا نہیں تھا جب شرجیل ٹی وی اسکرین کی زینت نہ ہوتے۔محکمہ اطلاعات میں سرکاری اشتہارات کا بجٹ نمایاں ہوتا ہے وہ شرجیل کی دست رس میں تھا۔

جب کراچی کے حالات کو صحیح ڈگر پر لانے کے لئے رینجرز کو با اختیار بنایا گیا۔ رینجرز نے کارروائیوں کا آغاز کیا تو قومی احتساب بیورو بھی سرگرم ہوا یا بنا دیا گیا۔ نیب نے جب محکمہ اطلاعات کے معاملات کی چھان بین کی اور محکمہ کے سیکریٹری ذوالفقار شالیانی سمیت کئی افسران کو حراست میں لیا گیا تو شرجیل میمن بھی ان الزامات کی زد میں آ گئے۔ محکمہ کے افسران نے تمام بدعنوانیوں کی ذمہ داری شرجیل میمن پر ڈال کر اپنے آپ کو ایک طرح سے سلطانی گواہ بنانے کی کوشش کی۔ نیب نے احتساب عدالت میں محکمہ اطلاعات کے سیکرٹری سمیت دس افسران اور نجی اشتہاری کمپنیوں کے مالکان کے خلاف پانچ ارب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔ نیب کا دعویٰ ہے کہ 2013ء سے 2015ء کے درمیاں عوامی آگہی کے نام پر چلائے گئے اشتہارات میں مالی بدعنوانی موجود ہے۔ نیب کے دعوے کو عدالت کس حد تک تسلیم کرتی ہے ، وہ بعد کی بات ہے، لیکن تحقیقاتی مرحلے میں ہی معاملات کے ذمہ دار افسران اور نجی اشتہاری کمپنیوں کے لوگوں خاصی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ نیب کے ریفرنس کے بعد شرجیل میمن کی وزارت بھی تبدیل کر دی گئی تھی اور انہیں محکمہ بلدیات کا وزیر مقرر کر دیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی ہونے کے باوجود شرجیل میمن نے گرفتاری سے محفوظ رہنے کے لئے جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔ بیماری کے عذر پر وہ دو سال سے کچھ کم عرصے تک بیرون مُلک مقیم رہے اور اپنے وکلاء کی معرفت اپنے خلاف مقدمات میں سہولتیں حاصل کرتے رہے حتیٰ کہ پارٹی قیادت نے انہیں ہدایت کی کہ وہ مقدمہ کا سامنا کریں ۔ وہ گزشتہ ہفتہ ہی ملک واپس لوٹے۔ تین صوبائی وزراء ،امداد پتافی، مکیش کمار فیاض علی بھٹ اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی تیمور تالپور بھی ان کے ساتھ آئے۔نیب نے شرجیل میمن کی ضمانت قبل از گرفتاری کے احکامات دیکھنے کے بعد انہیں دو گھنٹوں بعد ہی رہا کر دیا۔ شرجیل کو اپنے ساتھ لانے والے صوبائی وزرا نے تو برہمی دکھائی ہی تھی، لیکن اسلام آباد واپسی پر نیب کے اہلکاروں کے ہاتھوں شرجیل کی گرفتاری پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اس حد تک برہم ہوئے کہ انہوں نے دھمکی دے دی کہ اگر وفاقی محکموں نے رویہ درست نہیں کیا تو انہیں صوبہ سندھ سے بستر لپیٹنا ہوگا۔ رینجرز اور نیب کی کارروائیوں پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی تحفظات ہیں جس کی وجہ سے وفاقی محکمہ داخلہ اور ان کے درمیان کھچاؤ بھی پایا جاتا ہے۔ آصف علی زرداری نے تو اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹر ویو میں یہاں تک کہہ دیا کہ چیئر مین نیب کی کیا مجال ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ بنائے کہیں ایسا نہ ہو کہ سیف الرحمان کی طرح انہیں بھی ان (آصف علی زرداری) کے پاؤں میں گرنا پڑے۔

سندھ میں رینجرز کی کار روائیوں کے آغاز میں ہی محکمہ سندھ بلڈنگ کنٹرول کے سربراہ منظور کاکا، محکمہ امداد باہمی کے سربراہ ثاقب سومرو پاکستان سے فرار ہوگئے تھے۔منظور کاکا اس قدر با اختیار تھے کہ، ان کے بارے میں تو سندھ کے سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ اور کئی وزراء اپنی نجی محفلوں میں تذکرہ کیا کرتے تھے۔وہ اپنے سیاہ اور سفید کرتوتوں کے لئے صرف ایک شخص کو جواب دہ تھے۔ انہوں نے پیسے کمانے کے معاملہ میں تمام حدود پھلانگ لی تھیں۔ ثاقب سومرو بھی بلا کا لالچی افسر قرار دیا جاتا ہے، لیکن ڈرپوک اس قدر تھا کہ ایک مرتبہ سپریم کورٹ میں کمرۂ عدالت میں اس کے اوسان اِس قدر خطا ہو گئے تھے کہ اس کا پیشاب خطا ہو گیا تھا۔ مالی بدعنوانیوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے افراد کا مُلک سے فرار ہو جانا بذات خود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ایک مذاق ہے اور کہیں زیادہ ان اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے جو انہیں واپس لانے میں ناکام ہیں۔سیاسی حلقے نیب کی کارروائیوں کو آصف علی زرداری کے گرد گھیرا تنگ کرنا قرار دیتے ہیں۔ اس تماش گاہ میں شرجیل کے معاملہ سے قبل ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور ضمانت کی نامنظوری، پھر آصف علی زرداری کے چینی بنانے کے کارخانوں کے نگراں انور مجید کے دفاتر پر چھاپوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی خاصی پریشانی سے دوچار ہے۔ ڈاکٹر عاصم پر نیب نے مالی بدعنوانیوں کے کئی الزمات عائد کئے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے نہ صرف قریب رہے، بلکہ انہیں ملک کی اہم ترین وزارتیں دی گئیں ۔ دوران حراست ہی انہیں بوجوہ کراچی پیپلز پارٹی کا صدر نامزد کر دیا گیا، حالانکہ وہ کبھی سیاسی میدان میں فعال نہیں رہے۔ڈاکٹر عاصم کے خلاف مقدمہ میں بھی کئی افراد ہنوز مفرور ہیں۔ ڈاکٹر عاصم کنیڈا کے شہری ہیں۔ شرجیل میمن کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ انہیں صوبائی حکومت میں محکمہ داخلہ کا وزیر مقرر کیا جا رہا ہے۔

مزید : کالم