تحریک پاکستان کے مقاصد (2)

تحریک پاکستان کے مقاصد (2)
 تحریک پاکستان کے مقاصد (2)

  


تحریک پاکستان کے ایک اور ممتاز راہنما خان عبدالقیوم خاں نے،جو قیام پاکستان کے بعد صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے،اپنے ایک انٹرویو میں تحریک پاکستان کے اسباب پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کی اساس اسلام پر رکھی گئی ہے اور اس کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اس ملک میں آباد لوگ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی (اجتماعی) زندگی بسر کر سکیں۔ نظریۂ پاکستان کا مفہوم یہ ہے کہ ہم ہر حالت میں اسلام کی سربلندی، جمہوریت کی بقاء اور ملک کی سالمیت کے لئے جدوجہد کریں‘‘۔

خان عبدالقیوم خاں نے مزید کہا کہ ’’قرآن میں اسلام کے اقتصادی نظام کا واضح تصور موجود ہے اور اس نظام کے نفاذ میں ہمارے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ اسلام دولت جمع کرنے کے خلاف ہے، ناجائز اخراجات کی اجازت نہیں دیتا، فاضل دولت راہِ خدا میں خرچ کرنے کی تلقین کرتا ہے، خدمتِ خلق کو اوّلیت دیتا ہے، غربت و افلاس کو دور کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور ریاست کو عوام الناس کی فلاح و بہبود کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ ضرورت قرآن کے احکامات پر عمل کرنے کی ہے‘‘۔۔۔سابق صدر ایوب خاں مرحوم کے دور میں فضل القادر چودھری قومی اسمبلی کے سپیکر تھے۔ وہ پاکستان مسلم لیگ (کنونشن) کے صدر بھی رہے۔ تحریک پاکستان کا پس منظر بیان کرتے ہوئے فضل القادر چودھری نے کہا کہ’’ اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت پاکستان کی اساس ہے۔ یہ ملک اس لئے حاصل کیا گیا تھا کہ یہ مسلمانوں کا وطن ہوگا اور ناموس دین کی پاسداری کی جائے گی۔ اسلام اور جمہوریت کے علاوہ کسی اور نظریے کا تصور اس ملک کی سیاسی اور اخلاقی تباہی کا پیش خیمہ ہوگا‘‘۔۔۔ تحریک پاکستان کے ایک اور مرکزی لیڈر میاں ممتاز محمد دولتانہ نے قیام پاکستان کے مقصد کو عیاں کرنے کے لئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ ہمارے قومی تشخص کی اساس اسلام پر ہے۔ پاکستان اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور حفاظت کے لئے قائم ہوا تھا اور اس کا وجود اسلامی روح سے عبارت ہے۔ پاکستان کی بنیاد جمہوریت کے ذریعے رکھی گئی تھی،اس لئے جمہوریت نظریۂ پاکستان کا لازمی حصہ ہے‘‘۔

23مارچ یوم پاکستان کے موقع پر تحریک پاکستان کے رہنماؤں کی زبانی قیام پاکستان کے مقاصد کو بیان کرنے سے میرا مقصود یہ ہے کہ ہمارا نشان منزل کبھی ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز بھی اس بات میں مضمر ہے کہ ہم اس نظریے کو فراموش نہ کریں، جو ہماری آزادی کا سب سے بڑا محرک اور آج بھی ہماری بقاء اورسلامتی کا ضامن ہے۔ قائد اعظمؒ نے مارچ 1944ء میں اپنی ایک تقریر میں ارشاد فرمایا تھا کہ ’’تصور پاکستان ہم مسلمانوں کا عقیدہ بن چکا ہے،کیونکہ یہ ہماری نجات اور حفاظت کا مسئلہ ہے۔ پاکستان وہ ملک ہوگا، جہاں سے پوری دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ یہ مملکت اسلام کی عظمت گزشتہ کو ازسرِنو زندہ کرے گی‘‘۔ اسلام صرف نعروں سے نافذ نہیں کیا جاسکتا اور اسلام کو نافذ کرکے ہی جب ہم پاکستان کو ایک عادلانہ اور منصفانہ معاشرتی اورمعاشی نظام کے ماڈل کے طور پر پوری دنیا کے سامنے پیش کریں گے،صرف اسی صورت میں اسلامی نظام کی تمام تر رعنائیوں اور خوبصورتیوں کو دوسروں سے متعارف کروا سکتے ہیں۔ پاکستان کی صورت میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کے قیام کا واحد جواز ہی یہ تھا کہ ہم ایک آزاد مملکت میں اپنی اسلامی آئیڈیالوجی پر عمل کرسکیں۔ اس حوالے سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے افکارو تعلیمات سے بھی تائید و تصدیق کی جاسکتی ہے کہ مملکتِ پاکستان کا مقصد محض ایک علاقے کا حصول نہیں ،بلکہ اس کا مقصود اسلامی آئیڈیالوجی اجتماعی طورپر نافذ کرنا تھا۔ اسلامی تصورات اور اصولوں پر اگر ہم عمل کریں تو دہشت گردی کے ناسور سے بھی نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ جب اسلام کے ضابطۂ حیات اور اس کی روایات پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل کریں گے تو پوری دنیا کو ایک مثبت پیغام جائے گا کہ اسلام وہ نہیں ہے، جس کے جھوٹے علمبردار دہشت گرد ہیں، بلکہ اسلام وہ تھا جو تمام عالموں کے لئے ایک رحمت بن کر آیا تھا اور آج تک رحمت بنا ہوا ہے۔(ختم شد)

مزید : کالم