تجارتی تعاون بڑھانا پاکستان اور ایران کیلئے سودمند ہوگا ،یونائٹیڈ بزنس گروپ

تجارتی تعاون بڑھانا پاکستان اور ایران کیلئے سودمند ہوگا ،یونائٹیڈ بزنس گروپ

کراچی(آن لائن)یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے مرکزی ترجمان گلزار فیروز،سندھ ریجن کے چیئرمین خالدتواب،پنجاب ریجن کے چیئرمین ایس ایم نصیر،یو بی جی کینیڈا کے چیئرمین نوید بخاری اورایف پی سی سی آئی کی فیئراینڈ ایگزی بیشن اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ناصر الدین شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پاک ایران بینکنگ چینل کے قیام کے اعلان پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران قانونی اور براہ راست تجارت دونوں ممالک کی اکنامی کو مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کا سبب بنے گی۔یو بی جی رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان معاشی،تجارتی،مالیاتی اور سرمایہ کے شعبوں میں تعاون بڑھانا دونوں ملکوں کیلئے سودمند ثابت ہوگا کیونکہ دونوں ملک اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن(ای سی او)کے اہم ترین ممبر ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین ایک بار پھرتجارتی تعلقات کو مضبوط تربنا کر ای سی او کومستحکم بنایا جاسکے گا۔انہوں نے پاکستان اور ایران کے مابین بینکنگ چینل کھلوانے کیلئے کی گئی کامیاب کوششوں پر ٹڈاپ کے چیف ایگزیکٹوایس ایم منیر اور صدر ایف پی سی سی آئی زبیرطفیل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونائٹیڈ بزنس گروپ کا منشور ہے کہ وہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی مقامی اور عالمی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی جدوجہد جاری رکھے گا۔

یونائٹیڈ بزنس گروپ کے رہنماؤں نے کہا کہ ماضی میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف کے ساتھ جن 6معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے ان میں تجارت،ثقافت،بیمہ کاری،صحت اور تحقیق کے شعبے شامل تھے تاہم ان میں سب سے اہم اسٹرٹیجک تجارتی تعاون منصوبہ بھی شامل تھا جس پر عمل کرکے دونوں ممالک کی باہمی تجارت کو5ارب ڈالر تک لے جایا جاسکتا ہے،یہ باہمی تجارت2012میں3ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی تاہم بعد ازاں امریکہ کی جانب سے ایران پرعائد کی گئی پابندیوں نے پاک ایران تجارت کو بہت دھچکہ پہنچایا اور باہمی تجارت سکٹر کر صرف250ملین ڈالرسے300ملین ڈالر تک محدود ہوگئی لیکن بینکنگ چینل قائم ہونے اور ایران پر عائد امریکی پابندیاں ختم ہونے سے اگلے سال کے اختتام تک پاکستان اور ایران دوطرفہ تجارت2ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔یو بی جی ترجمان گلزار فیروز نے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی ،معاشی،ثقافتی اورتجارتیروابط قیام پاکستان کے بعد ہی قائم ہوگئے تھے جن میں اضافہ کرنے کیلئے علاقائی تعاون برائے ترقی (آرسی ڈی)کے نام سے1964میں ایک معاہدہ ہوا اور اس کے بعد1985میں ای سی او قائم کی گئی اور10رکنی اس معاشی تنظیم کو مزید فعال بنا کرپاکستان،ایران،ترکی، افغانستان اورسویت یونین سے آزاد ریاستوں کے درمیان تجارتی ومعاشی تعاون بڑھایا جاسکتا ہے اور اب پاکستان کے نیشنل بینک اور ایران کے بینک ملی کی شاخیں ایک دوسرے کے ملکوں میں کھلنے سے ایل سیز کھولنے کے مسائل دور ہوجائیں گے،پاکستان دنیا میں چاول کا چوتھا بڑا ایکسپورٹر ہے اور ایران چاول کا عراق کے بعد دوسرابڑا امپورٹر ہے،تجارتی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کے چاول کی ایرانی مارکیٹ ہاتھ سے نکل گئی تھی اور بھارت نے اس مارکیٹ کو قابو میں کیا تھا مگر اب پاکستان ایک بار پھر اس مضبوط مارکیٹ پراپنی گرفت مضبوط کرے گا، ایران کی جانب سے پاکستانی درآمدات پر کئی قسم کیغیرمحصولاتی رکاوٹیں عائد کی گئیں جن کی وجہ سے پاکستانی برآمدات کی ایرانی مارکیٹوں میں رسائی ناممکن ہوئی تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک باہمی تجارت میں تیزی لانے کیلئے رکاوٹوں کا خاتمہ کریں۔ #/s#

مزید : کامرس