بھارتی انتہا پسندی کے نئے خطرات

بھارتی انتہا پسندی کے نئے خطرات
 بھارتی انتہا پسندی کے نئے خطرات

  


مہاتما گاندھی کو ایک انتہا پسند ہندو ناتھو رام گاڈسے نے قتل کیا تھا۔ اسے یہ شکایت تھی کہ انہوں نے پاکستان کو اس کے حصے کے اثاثے دلانے کے لئے مرن برت رکھا۔ پھانسی پر لٹکنے سے پہلے اس نے وصیت کی تھی کہ اس کے جسم کو جلانے کے بعد اس کی راکھ کو پانی میں نہ بہایا جائے بلکہ ایک برتن میں محفوظ کر لیا جائے اور یہ برتن اس وقت تک نسل درنسل منتقل ہوتا رہے جب تک پاکستان بھارت کا حصہ نہ بن جائے اور یہاں ہندو راج نہ قائم ہو جائے۔ تب اس کی راکھ کو دریائے سندھ میں بہادیا جائے۔ یوں گاڈسے نے ہندو عقیدے کے مطابق مکتی حاصل کرنے سے اس وقت تک انکار کر دیا تھا جب تک اکھنڈ بھارت قائم نہ ہو جائے۔ ہر سال پونا میں 15نومبر کو ناتھو رام گاڈسے کے جانشین اکٹھے ہوتے ہیں اور اس کی برسی مناتے ہیں۔ برصغیر کے نقشے کے سامنے گاڈسے کی راکھ کا برتن رکھا جاتا ہے اور عہد کیا جاتا ہے کہ اکھنڈ بھارت بنایا جائے گا۔

ہندوؤں کے نزدیک اکھنڈ بھارت بنانے والا ان کا حقیقی ہیرو ہو گا۔ بھارتی لوک سبھا میں بی جے پی کے ایک رکن کریٹ صومیہ کا کہنا ہے کہ ناسٹرے ڈیمس نے پیشین گوئی کی تھی کہ مشرق میں ایک بڑا لیڈر پیدا ہو گا جو بھارت کو عروج سے ہمکنار کرے گا۔ کریٹ صومیہ کا کہنا ہے کہ یہ عظیم لیڈر نریندر مودی ہے۔ کریٹ صومیہ کے علاوہ بے شمار لوگوں کو نریندر مودی میں ایک بڑا لیڈر نظر آ رہا ہے۔ وزیر مملکت کرن ایجو بھی ایسی ہی ایک پیشن گوئی فیس بک پر پوسٹ کر چکے ہیں۔ ناسٹرے ڈیمس سولہویں صدی میں فرانس میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے مستقبل کے متعلق جو پیشن گوئیاں کی تھیں اُن میں سے بیشتر حیرت انگیز طور پر پوری ہو چکی ہیں۔ ناسٹرے ڈیمس کی پوری ہو جانے والی پیش گوئیوں میں ہٹلر کے عروج اور 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی بھی شامل ہے مگر اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں ہے کہ ناسٹرے ڈیمس کی بہت سی پیشین گوئیوں نے پورا ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ عالمی واقعات بہرحال اس کی پیشن گوئیوں کے مطابق نہیں چل رہے ہیں۔ بے شمار اہم عالمی واقعات کے متعلق وہ خاموش ہے۔اگر دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو نریندر مودی جیسی انتہا پسندی ہٹلر جیسے لیڈروں کو جنم دیتی ہے جو قوم کو برتری کے خبط میں مبتلا کر کے تباہ کن فیصلے کرتے ہیں اور تاریخ میں تباہی و بربادی کی علامت کے طور پر شہرت حاصل کرتے ہیں۔

گاندھی کی طرح نریندر مودی کا تعلق بھی گجرات سے ہے۔جہاں گاندھی عدم تشدد کا نعرہ لگاتے تھے وہاں تشدد اور انتہا پسندی نریندر مودی کے ہتھیار ہیں۔ مودی نے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت گجرات میں انتہاپسندی کو فروغ دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان قتل ہوئے۔ امریکہ نے مودی کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ ان فسادات کے ذریعے مودی نے گجرات میں ہندوؤں میں وہ انتہاپسندی پیدا کی جس سے انہوں نے غیر معمولی انتخابی کامیابی حاصل کی۔ معروف سکھ دانشور نے گجرات کے فسادات کو بھارت کا خاتمہ قرار دیا تھا اور اس موضوع پر کتاب بھی لکھی تھی۔ نریندر مودی نے اپنی انتہا پسندانہ سیاست کو قومی سطح پر بھی استعمال کیا اور وزارت عظمیٰ کے عہدے تک جا پہنچے۔ اپنے اس انداز سیاست سے انہوں نے اترپردیش میں بھی زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ بھارت کے اس سب سے بڑے صوبے میں چار کروڑ مسلمان آباد ہیں جو کل آبادی کا تقریباً بیس فیصد ہیں۔ یوپی کی انتخابی سیاست میں مسلمانوں کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ مسلمان جس پارٹی کو ووٹ دیں گے وہ کامیابی حاصل کرے گی۔ مگر حالیہ انتخابات میں نریندر مودی نے انتہاپسندی کی سیاست کو غیرمعمولی ذہانت کے ساتھ استعمال کیا۔ اس نے اترپردیش میں ایک بھی مسلمان کو امیدوار نہیں بنایا۔ ہندو انتہاپسندی کے جذبات کو ہوا دی۔ ہندوؤں نے غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور سب نے بی جے پی کو ووٹ دیئے۔ یو۔پی میں بی جے پی کی کامیابی حیرت انگیز تھی مگر نریندر مودی نے یوگی آدتیہ ناتھ کی وزیراعلیٰ اترپردیش کے طور پر تقرری کر کے ایک بڑا سیاسی دھماکہ کیا۔ بی جے پی میں انتہاپسندوں کی کمی نہیں ہے مگر یوگی کی سیاست کی بنیاد ہی انتہاپسندی پر ہے۔ ان پر اقدامِ قتل، مقدس مقامات پر حملے، بلوے و فساد کو ہوا دینے کے الزامات کے تحت 3 مقدمات درج ہیں۔ بھارت میں وہ اپنے شعلہ بار بیانات کی وجہ سے معروف ہیں۔ وہ کبھی مسجدوں میں مورتیاں رکھنے کی بات کرتے ہیں تو کبھی یہ کہتے ہیں اگر مسلمان ایک ہندو کا دھرم تبدیل کریں گے تو ہم سو مسلمانوں کو ہندو بنائیں گے۔ وہ مسلمان اداکاروں کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں۔ یوگی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ انڈیا میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ جو ہندو نہیں ہے اسے ہندوستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان کے بہت سے پیروکار تو مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا کر ان سے ووٹ کا حق واپس لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک ممتاز بھارتی اخبار کے مطابق یوگی کے پیروکار مسلمان عورتوں کو قبروں سے نکال کر ان کی عصمت دری کے نعرے لگاتے نظر آ رہے ہیں۔ یوگی کی یہ انتہاپسندی صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ وہ عیسائیوں کو بھی ہندوستان میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے مدرٹریسا کے خلاف بھی سخت زبان استعمال کی ہے۔

یوگی کی اترپردیش کے وزیراعلیٰ کے طور پر تقرری سے صرف مسلمان ہی پریشان نہیں، عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بریلی کے ایک گاؤں میں مسلمان ان پوسٹروں سے خوفزدہ ہیں جن میں ان سے علاقے کو چھوڑ دینے کیلئے کہا گیا ہے۔ انتہاپسندی کی لہر تیزی سے بھارت کو کنٹرول کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اس سے بی جے پی نے سیاسی کامیابیاں تو حاصل کی ہیں مگر خود بھارت کا مستقبل خطرے میں ہے ۔

برصغیر پر انگریزوں کے تسلط کے بعد ہندوؤں میں ایک بڑا لیڈر پیدا ہوا تھا ۔ انہیں راجہ موہن رائے کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ہندوؤں کے لئے انگریزی کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے جدوجہد کی تھی۔ بہت سی غیرانسانی ہندو رسومات کے خلاف مہم چلائی تھی۔ انہیں آپ ہندوؤں کا سرسید احمد خان کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوؤں کو جاہل رکھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہو گا کہ انہیں محض سنسکرت کی تعلیم تک محدود کر دیا جائے۔ برصغیر میں جمہوریت کے نظریہ نے بھی انگریزوں کے آمد کے بعد فروغ حاصل کیا۔ انگریزوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ ان کی تعداد ہزاروں میں تھی مگر انہوں نے کروڑوں پر حکمرانی کرنا تھی۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے برصغیر میں یہ تصور نہیں تھا کہ افراد کی تعداد حق حکمرانی کا تعین کرتی ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں نے بھی حصہ لیا تھا اور بہادرشاہ ظفر کو راہنما بنا لیا گیا تھا۔ کیونکہ اس وقت سیاسی اعتبار سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بڑے اختلاف نہیں تھے۔ 1881ء میں ہونے والی مردم شماری نے ہندوراہنماؤں کو یہ احساس دلایا کہ وہ اکثریت میں ہیں اور جمہوریت میں حکمرانی کا حق اکثریت کے پاس ہوتا ہے۔ قومی سطح پر سیاست میں مذہب کے استعمال کا آغاز مہاتما گاندھی نے کیا۔ انہوں نے ہندومت کی تعلیمات کو اپنی سیاست میں استعمال کیا۔ انہوں نے آشرم کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا۔ کانگریس کے جلسوں میں بندے ماترم کو جوش و خروش سے گایا جاتا تھا۔ وہ تحریک خلافت کے بھی لیڈر تھے اور انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا انہوں نے گائے کو مسلمانوں کے چھروں سے محفوظ رکھنے کے لئے کیا ہے۔ اس دور میں عید قربان پر مسلمان راہنماؤں نے اپیل کی تھی کہ گائے کو ذبح نہ کیا جائے۔ نہرو اپنے سیکولر ہونے پر فخر کا اظہار کرتے تھے۔ نہرو صاحب بصیرت سیاستدان تھے۔ انہیں بھارت کا مستقبل سیکولرازم میں نظر آ رہا تھا۔ ان کے دوراقتدار میں جب بھارتی صدر نے سومنات مندر کی تعمیر کی تقریب میں شرکت کی تو انہوں نے اس پر باقاعدہ خط لکھ کر احتجاج کیا۔

آج بھارت میں گاندھی کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ نہرو کو ایک ایسا دیوتا قرار دے کر ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے جو ناکام ہو گیا تھا۔ بھارتی ہندو اپنا عروج مذہبی انتہاپسندی میں دیکھ رہا ہے۔ معروف بھارتی دانشور رومیلا تھاپر کا کہنا ہے کہ اس انتہاپسندی کی وجہ بھارت میں مڈل کلاس کے افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مڈل کلاس کے فرد کو ہمہ وقت ایک مقابلے کی کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے اور ان احساسات پر قابو پانے کے لئے وہ مذہب کی طرف رجوع کرتا ہے جو اس کے مسائل کے آسان حل پیش کرتا ہے۔ اکثر ہندوؤں کا خیال ہے کہ اگر وہ برصغیر پر ہندو راج قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو عالمی سطح پر بڑی کامیابی حاصل کر لیں گے۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ ہندو انتہاپسندی نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کے لئے بڑے خطرات پیدا کرنے جا رہی ہے۔ نریندر مودی سے یہ توقع وابستہ کی گئی تھی کہ وہ بھارت کو حقیقی ترقی سے روشناس کرائے گا۔ مگر اس کا مطمح نظر فی الحال انتخابی کامیابیاں ہیں۔ سیاست پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے مسلمانوں کے خلاف اقدامات کئے جائیں گے۔ اس کے بعد دوسری اقلیتوں کو بھی ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں بھارتی سیاست کو بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکہ میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے چند اسلامی ممالک کے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی لگائی تو عدالتوں نے اسے اس انتہاپسندی سے باز رکھا۔ امریکہ میں جب مسلمانوں کی رجسٹریشن کی بات ہوئی تو بہت سے یہودیوں نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر رجسٹر کرائیں گے۔ ان میں سابق امریکی وزیرخارجہ مڈلین البرائٹ بھی شامل تھیں۔ اس طرح جب ٹیکساس میں مسلمانوں کی مساجد پر حملے ہوئے تو یہودی ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ وکٹوریہ ٹیکساس میں تو یہودیوں نے مسلمانوں کو اپنی عبادت گاہ میں عبادت کرنے کی دعوت دی۔ اسی طرح دیگر امریکی شہروں میں جب یہودی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو مسلمان یہودیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور امریکی معاشرے کا یہی وہ رویہ ہے جسے اس کی حقیقی قوت قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت میں ہندو انتہاپسندی نے بی جے پی کو انتخابی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ انتہاپسندانہ اقدامات کرنا بھارتی راہنماؤں کی سیاسی مجبوری بن چکی ہے۔ اگر نریندر مودی بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف اقدامات نہیں کرتے تو اگلے انتخابات میں ان کے لئے کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ نریندر مودی کی اپنے امیج سے زیادہ اپنی عملی کامیابیوں پر نظر رہی ہے اور ان کی یہ حکمت عملی تبدیل ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔پاکستان کے لئے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس صورتحال میں اس خطے میں چین کا کردار اہمیت حاصل کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اگر بھارت پاکستان کے متعلق اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر وہ چین کے لئے بڑا خطرہ بن کر ابھرے گا۔ چینی اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ہندو انتہاپسندی کا جنون پورے خطے کی سیاست کو نئے چیلنجوں سے ہمکنار کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

مزید : کالم