میرواعظ کی دینی اور سرگرمیوں پر پابندی لگ گئی

میرواعظ کی دینی اور سرگرمیوں پر پابندی لگ گئی

سرینگر (آن لائن) کل جماعتی حریت کانفرنس’’ع‘‘ گروپ نے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی مسلسل خانہ نظر بندی اور ان کی سیاسی و دینی سرگرمیوں پر عائد پابندی کو حکمرانوں کی بوکھلاہٹ قرار دیتے ہوےء کہا کہ ایک طرف ریاستی حکمرانوں نے کشمیر میں انتخابات کی عمل آوری کے لئے پوری ریاست کو فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاہے اور دوسری طرف حریت پسند قیادت پر اپنی بات عوام کے سامنے رکھنے پر طاقت کے بل پر قدغنیں عائد کی جا رہی ہیں ۔ اپنے ایک بیان میں حریت ترجمان نے سینئر حریت راہنما مختار احمد وازہ کی گرفتاری ، حریت میڈیا ایڈوائزر ایڈووکیٹ شاہد الاسلام کی خانہ نظر بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے حریت پسند قیادت کے تئیں حکمرانوں کے رویئے کو انتہائی غیر جمہوری اور مسلمہ انسانی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قائدین اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور ان کی خانہ و تھانہ نظربندیاں اور وادی کے طول و ارض میں گرفتاریوں کا سلسلہ اس بات کا عکاس ہے کہ ریاستی حکمران اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو طاقت کے بل پر دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔

مزید : عالمی منظر