ایک کتاب ہتک آمیز ہو تو لائبریریاں بند نہیں کی جا سکتیں ، توہین آمیز مواد کو ہٹانا ہو گا , حدیبیہ ملز کیس منی لانڈرنگ کی داستان ہے :سینیٹر اعتزاز احسن

ایک کتاب ہتک آمیز ہو تو لائبریریاں بند نہیں کی جا سکتیں ، توہین آمیز مواد کو ...
ایک کتاب ہتک آمیز ہو تو لائبریریاں بند نہیں کی جا سکتیں ، توہین آمیز مواد کو ہٹانا ہو گا , حدیبیہ ملز کیس منی لانڈرنگ کی داستان ہے :سینیٹر اعتزاز احسن

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ایک کتاب ہتک آمیز ہو تو لائبریریاں بند نہیں کی جا سکتیں توہین آمیز مواد کو ہٹانا ہو گا ، سیاسی جماعتوں کو نظریہ ضرورت کی ضرورت پڑتی ہے،  عدالت کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیئے عوام کی توقعات پر نہیں حدیبیہ ملز کیس منی لانڈرنگ کی داستان ہے ، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو نیب تحقیقات کا راستہ کھل جائے گا،  25سالہ کاروبار کا منی ٹریل 2خط نہیں ہو سکتے۔

نجی ٹی وی  چینل ’’اے آر وائے نیوز ‘‘کو دیئے گئے انٹرویو میں سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ملک میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے،  پانامہ کیس کی سماعتوں کے بعد فیصلے کا دن تھا وہ فیصلہ محفوظ ہے ، اس کا زرداری صاحب یا پیپلز پارٹی کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہتک آمیز تصاویر سے انٹرنیٹ اور فیس بک کو بند نہیں کیا جا سکتا،  اگر کسی لائبریری میں لاکھوں کتابیں ہوں اور ایک ہتک آمیز مواد پر مشتمل ہو تو اس کتاب کو نکالا جائے گا،  لائبریریاں بند نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے ریکارڈ طلب نہ کر کے انہیں سہولت دی گئی ہے ، حدیبیہ پیپر ملز کیس بھی منی لانڈرنگ کی پوری داستان ہے، فلیٹس کے مالکانہ ثبوت طلب نہ کرنے سے شریف خاندان کو فائدہ ہوا ہے، پانامہ کا فیصلہ کب اور کیا آئے گا ؟ اس پر قیاس آرائی نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کا بیان تمام دستاویزات کا ریکارڈ ہے، عدالت کے لئے قانون ہی ایک پیمانہ ہونا چاہیئے، عدالت کا فیصلہ میں نہیں بتا سکتا تاہم سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا تو نیب تحقیقات کا راستہ کھل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ قطری خط شریف خاندان کے خلاف بڑی شہادت ہے، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں شریف خاندان پر ہلکا ہاتھ رکھا گیا ، نواز شریف کا صفائی کا مؤقف تسلیم نہیں کیا جا سکتا، 25سال کے کاروبار کا کوئی ریکارڈ نہیں ، 25سال کے کاروبار کا ٹریل 2خط نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر کے معاملات پر بات نہیں کر سکتا،  پارٹی کے معاملات جو بھی ہوں وہ حل ہو جائیں گے،  پیپلز پارٹی کو پنجاب میں متحرک ہونا پڑے گا۔

مزید : قومی