مرنے والوں کی تعداد 5ہو گئی ،دہشتگردی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ،حملہ آور پولیس،خفیہ ادارے جانتے ہیں:برطانوی وزیر اعظم

مرنے والوں کی تعداد 5ہو گئی ،دہشتگردی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ،حملہ آور ...

لندن(ایجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک/ نیٹ نیوز) برطانوی پارلیمنٹ کے قریب مسلح شخص کے حملے میں مرنے والوں کی تعداد 5ہو گئی ہے جبکہ تین فرانسیسی بچوں سمیت 40افراد زخمی ہوئے ہیں ۔۔ زخمیوں میں سے سات افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشتگرد حملے کے واقعے کے بعد تمام ارکان کو ویسٹ منسٹر ابے میں منتقل کر دیا گیا۔ برطانوی پولیس نے کہا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر عالمی دہشت گرد عناصر سے متاثر ہو سکتا ہے۔ حملہ آور سے سے اس سے قبل انتہا پسندی میں ملوث ہونے کی تفتیش ہو چکی ہے ۔حملے کے بعد مختلف برطانوی شہروں اور کئی ممالک میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پیرس میں لندن حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیلئے ایفل ٹاور کی بتیاں بجھا دی گئیں۔برطانوی وزیراعظم تھریسامے کا کہنا ہے کہ لندن میں پارلیمنٹ کے باہر ویسٹ منسٹر کے پل پر حملہ کرنے والے شخص کو پولیس اور خفیہ ادارے ( ایم آئی ۔5) جا نتے تھے۔ایوانِ زیریں سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ حملہ آور برطانیہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور کچھ برس قبل اسے شدت پسندی کے حوالے سے تحقیقات میں شامل کیا گیا تھا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ آور کسی موجودہ تفتیش کا حصہ نہیں تھا۔برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے محکمے نے لندن اور برمنگھم میں آٹھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔امریکہ، جرمنی، فرانس، پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کے سربراہوں نے اس واقعے کے بعد برطانیہ سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔کمشنر راؤلے کا کہنا تھا کہ خیال ہے کہ حملہ آور عالمی دہشت گردی سے ذہنی طور پر متاثر ہوا ہو گا۔اس واردات کے بعد برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے کابینہ کی سلامتی سے متعلق کمیٹی کوبرا کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں ملک کے درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا۔فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے برطانوی وزیراعظم سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ہم سب کا مسئلہ ہے اور فرانس برطانوی عوام کے دکھ کو سمجھتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں برطانوی سکیورٹی فورسز کے کردار کی تعریف کی ہے۔جرمنی میں گذشتہ برس ایک ٹرک کے ذریعے ہونے والے خودکش حملے میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ ان کا ملک برطانیہ کے ساتھ عوام اور حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے۔برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے لندن میں پارلیمنٹ کے قریب فائرنگ کے واقعے کے نتیجے میں پانچ افراد کے ہلاک اور درجنوں کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لندن میں خونی واردات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔لندن میں فائرنگ اور گاڑی تلے روندے جانے کے واقعے کے رد عمل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں تھریسا مے نے کہا کہ لندن واقعے سے ان کی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر نہیں ہوگی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ لندن میں اندھا دھند فائرنگ کسی ہواس باختہ شخص کی کارروائی نہیں،نہ ہی یہ کوئی غیر ارادی فعل تھا بلکہ یہ منظم دہشت گردی ہے جس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔تھریسا مے نے لندن میں دہشت گردی کو پارلیمنٹ پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کا ہدف پارلیمنٹ ہاؤس تھا۔مے نے شہریوں کو یقین دلایا کہ حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ہرممکن اقدامات کرے گی اور آج حالات معمول پر آجائیں گے۔ دہشت گردی کے خطرات کے باوجود خطرے کی سطح تبدیل نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم ہاس کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تھریسا مے نے کہا کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح تبدیل نہیں کی جائے گی۔ادھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں دارالعوام اور دارالامرا نے کہا ہے کہ ان کے اجلاس معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔ ویسٹ منسٹر محل کے احاطے میں تشدد کے مزید واقعات کی بھی اطلاع ملی ہے۔

مزید : علاقائی