جمعیت کیخلاف ایکشن ورنہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر گھر چلے جائینگے, بلوچ و پختون طلبہ کی دھمکی

جمعیت کیخلاف ایکشن ورنہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر گھر چلے جائینگے, بلوچ و پختون ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم بلوچ اور پختون طلبہ نے جمعیت کیخلاف ایکشن نہ ہونے کی صورت میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس گھر جانے کی دھمکی دیدی جبکہ اے این پی نے بلوچ، پختون، سندھی اورگلگت بلتستان کے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد عربیؐ کے اسلام پر جماعت اسلامی کے اسلام کو ترجیح نہیں دے سکتے،یہ جماعت اسلامی ہی تھی جس نے بنگالیوں پر بیہمانہ تشدد کرکے سقوط ڈھاکہ میں اہم کردار ادا کیالیکن پاکستان توڑنے کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا سے لیکر ڈسٹری بیوٹرز تک جو بھی پنجاب یونیورسٹی میں لین دین کرتا ہے وہ جمعیت کو بھتہ دیتا ہے جس کے ثبوت محفوظ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کا ماحول تباہ کرنے کی ذمہ دار جمعیت ہے اگر ملک بھر کی طلبہ تنظیموں پر پابندی ہے تو جمعیت پر کیوں نہیں؟گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما احسان وائیں اور پنجاب کے صدر منظور احمد خان نے پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم پختون اور بلوچ طلبہ کے نمائندوں کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جمعیت نے مارپیٹ کے دوران طالبات کیساتھ بدتمیزی کی اور منصورہ سے بھی جماعت اسلامی کے ورکرز کو تشدد کیلئے بلایا۔ جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے ٹی وی پر آکر کہا یہاں رہنے کیلئے ہمارا اسلام قبول کرنا پڑے گا ، قوم پوچھے کیا محمد عربی ؐکا اسلام جامع اسلام نہیں کیا جماعت اسلامی والا اسلام زیادہ معتبر ہے؟ جماعت اسلامی کو اسیلئے عوام منتخب کرکے اسمبلیوں میں نہیں بھجواتے کیونکہ یہ دہشت گردوں کے سپورٹرز اور فرقہ واریت پھیلاتے ہیں۔ 1971ء میں بنگلہ دیشی عوام پر بھی جماعت اسلامی کے لوگوں نے ہی مظالم ڈھائے تھے جس کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا۔ جب سراج الحق کا استقبال ڈھول بجاکر کیا جاتا ہے اسوقت جمعیت کے غنڈے اور انکے نظریات کہاں ہوتے ہیں؟ یونیورسٹیوں میں طلبہ پڑھنے آتے ہیں سیاست کرنے نہیں، پنجاب یونیورسٹی میں باقی صوبوں کے طلبہ بھی زیر تعلیم ہیں لیکن جمعیت اپنے سوا کسی کو برداشت نہیں کرتی۔ پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کی غنڈہ گردی پرپولیس نے اپنا فرض ادا کرنے کی بجائے جمعیت ہی کے لوگوں کو شیلٹر دیا ۔اس موقع پر بلوچ سٹوڈنٹس کے رہنماؤں ظریف خان اور ندیم سرور نے کہاپنجاب یونیورسٹی میں کسی دوسرے صوبے کا طالبعلم اپنا ثقافتی دن مناسکتا ہے نہ ہی اپنی مرضی سے سو یا جاگ سکتا ہے۔ جمعیت کے تشدد سے مجموعی طور پر 35لوگ زخمی ہوئے جن میں سے 2ابھی بھی تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ تحفظ دیں وگرنہ ہم اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس چلے جائیں گے۔ جمعیت پنجاب یونیورسٹی کے ہر فیصلے پر اثر انداز ہوتی ہے ، اسلامک یونیورسٹی سے جن طلبہ کے داخلے منسوخ ہوئے تھے وہ آج بھی پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے پاس رہ رہے ہیں، حساس اداروں نے جب بھی آپریشن کیا جمعیت کی میزبانی میں رہنے والے لوگ ہی گرفتار ہوئے جو ملک دشمن تھے۔ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا سے لیکر ڈسٹری بیوٹرز تک جو بھی پنجاب یونیورسٹی میں لین دین کرتا ہے وہ جمعیت کو بھتہ دیتا ہے جس کے ثبوت محفوظ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کا ماحول تباہ کرنے کی ذمہ دار جمعیت ہے اگر ملک بھر کی طلبہ تنظیموں پر پابندی ہے تو جمعیت پر کیوں نہیں؟

مزید : صفحہ آخر