عراق اور شام میں داعش کے قبضے سے پچاس ہزار مربع کلومیٹر علاقہ و اگزار کرلیا گیا: ریکس ٹلرسن

عراق اور شام میں داعش کے قبضے سے پچاس ہزار مربع کلومیٹر علاقہ و اگزار کرلیا ...

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ، اظہر زمان) امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے تمام اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں داعش کے نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے بھرپور دباؤ ڈالیں کیونکہ عراق اور شام میں شکست کھانے کے بعد وہ دیگر مقامات میں راہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں شریک 68 ممالک کے وزرائے خارجہ کی دو روزہ کانفرنس میں اپنے افتتاحی خطاب میں کہی۔ واشنگٹن میں وزارت خارجہ کی عمارت میں ہونے والی یہ کانفرنس اب ختم ہوگئی ہے جس میں عراق کی نمائندگی وزیراعظم حیدر العبادی نے کی۔ اس کے علاوہ عرب لیگ، اقوام متحدہ اور انٹرپول کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ گزشتہ شام صدر ٹرمپ نے کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں ایک ورکنگ ڈنر بھی دیا۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اپنے افتتاحی کلمات میں کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ اگرچہ عراق اور شام کے متعدد مقامات پر لڑائی جاری ہے، تاہم خوشی کی بات یہ ہے کہ ان دونوں ممالک میں داعش سے کافی مقبوضہ علاقہ واپس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم سب کا حتمی مقصد داعش کے وجود کا اس خطے سے مکمل خاتمہ ہے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ ماہ امریکی کانگرس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے پینٹاگون کو داعش کو مکمل طور پر تباہ کرنے اور شکست دینے کا منصوبہ تیار کرلیاہے۔ ٹلرسن نے اتحادی لیڈروں پر زور دیا کہ وہ آزاد کرائے گئے علاقے میں بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری کیلئے امدادی کارروائیوں کیلئے عملی اور مالی تعاون فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مقامی سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر لاکھوں بے گھر افراد کو گھروں میں واپس لانے کے کام کو جاری رکھیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس خطے میں داعش کو باہر نکالنے کے بعد ایک مستحکم اور جائز گورننس کی ضرورت ہے جہاں انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور تمام سہولتیں فراہم ہوسکیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ امریکہ مقامی سیاسی قیادتوں اور اتحادی ممالک کے درمیان مکالمے کے تمام راستوں کو جاری رکھنے کیلئے سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔امریکی وزیر خارجہ نے شرکاء کو بتایا کہ اس وقت عراق اور شام میں داعش کے قبضے سے پچاس ہزار مربع کلومیٹر علاقہ واگزار کرا لیا گیا ہے جس کی وجہ سے مزید پچیس لاکھ شہریوں کو آزادی مل گئی ہے۔ موصل اور رقہ بھی عنقریب مکمل طور پر آزاد ہو جائیں گے۔ داعش کی دوسری سطح کی تمام قیادت ہلاک ہوچکی ہے اور اس کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو بھی جلدی مار دیا جائے گا۔ انہوں نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ عراق اور شام سے باہر داعش کا لیبیا کے شہر سرتے میں جو مرکز تھا، سرکاری فوجیوں نے اسے تباہ کر دیا ہے۔ مسٹر ٹلرسن کا کہنا تھا کہ داعش کی نام نہاد عارضی خلافت کے خاتمے کے بعد ’’ڈیجیٹل خلافت‘‘ کو بھی ختم کرنا ہوگا جو وہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی نے داعش کو اپنی سرحد کے قریبی علاقوں سے پرے دھکیل دیا ہے جس سے اس کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہوگیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگی آپریشن جلد ختم ہونے والا ہے جس کے بعد تمام اتحادیوں کو بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری کیلئے عملی اور مالی امداد دینی چاہئے۔ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو، بجلی اور پانی کی فراہمی اور بحالی کے ساتھ ساتھ زیر زمین بچھائی گئی سرنگوں کو صاف کرنے کا مشکل مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ سترہ اتحادی ممالک داعش کے پراپیگنڈے کا مختلف زبانوں میں جواب دے رہے ہیں جس سے داعش کے انٹرنیٹ پر موجود مواد اور تشہیری کتابچوں کی اشاعت میں 75 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور داعش سے منسلک چار لاکھ 75 ہزار ٹویئٹر اکاؤنٹ بند ہوگئے ہیں۔ بحالی کے کام میں اردن، ترکی اور لبنان جیسے پڑوسی ممالک نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہاجرین کو پناہ دی ہے لیکن انہیں اپنے گھروں کو واپس بھیجنا ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ واشنگٹن آنے سے پہلے انہوں نے موصل میں فرنٹ لائن کا دورہ کیا جہاں داعش کے خلاف لڑنے والوں میں عراقی مسلمانوں کے علاوہ کرد اور عیسائی بھی پوری طرح سرگرم عمل تھے۔ داعش کی جدوجہد کی ناکامی کا سبب ہی یہ ہے کہ اس کے خلاف ہم تمام ایک محاذ بنا کر لڑ رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...