23مارچ 1940ء آزادی کی جدوجہد میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ

23مارچ 1940ء آزادی کی جدوجہد میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ

خواتین سے قائد اعظم ؒ کا ارشاد

خوشی کی بات ہے کہ مسلمان خواتین میں بھی انقلابی تبدیلی ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا میں کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس قوم کے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی آگے نہ بڑھیں۔

(مسلم کنونشن دہلی 17اپریل 1946ء )

آپ کے پاس اس سے بھی بڑی کامیابی کی کنجی ہے۔ وہ کنجی ہے آپ کی آئندہ نسل ۔ اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کیجئے کہ وہ پاکستان کے قابلِ فخر شہری اور موزوں سپاہی بن سکیں۔ آپ نے پاکستان کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں، اُس پاکستان کے لئے جسے اب ساری دنیا ایک مسلمہ حقیقت تسلیم کر چکی ہے۔ بس ایک قدم اور آگے بڑھانا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب ساری دنیا کی قومیں پاکستان کی تعریف و توصیف کریں گی ۔انشاء اللہ

(مسلم لیگ کے شعبہ خواتین سے خطاب، کراچی 8فروری 1948ء)

قوم کی تعمیر اور اس کے استحکام کے عظیم کٹھن کام کے سلسلے میں خواتین کو انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے۔ خواتین قوم کے نوجوانوں کے کردار کی معمار ہوتی ہیں جو مملکت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ حصول پاکستان کی طویل جدوجہد میں مسلمان خواتین اپنے مردوں کے پیچھے مضبوطی سے ڈٹی رہی ہیں۔ تعمیر پاکستان کی اس سے بھی بڑی سخت اور بڑی جدوجہد میں ، جس کا ہمیں اب سامنا ہے، یہ نہ کہا جائے کہ پاکستان کی خواتین پیچھے رہ گئیں یا اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر رہیں۔

(ریڈیو پاکستان، ڈھاکہ۔ 28 مارچ 1948ء)

یومِ قرار داد لاہور کو بیتے آج 77برس ہو رہے ہیں۔ آج ہی کے دن ، 23مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں مسلم لیگ نے قائد اعظمؒ کی سربراہی میں ایک قرار داد منظور کی تھی جو پہلے لاہور ریزولوشن، اور بعد میں قرار داد پاکستان قرار پائی۔ اسی قرار داد کے نتیجہ میں مسلمانوں کو ان کا اپنا خطہ زمین حاصل ہوا جہاں آزادی کے پرچم تلے وہ اپنی مرضی اور خواہشات کے تحت زندگی بسر کرسکتے تھے۔ 1940ء کی قرار داد نے برصغیر کے مسلمانوں میں جدوجہد کی روحِ تازہ پھونک دی تھی۔ ایک عظیم الشان تحریک کا آغاز ہوا تھا اور سات برس کے عرصہ ہی میں قوم نے اپنے خوابوں کی تعبیر پا لی تھی۔ اس تعبیر کے نتیجہ میں گو مسلمانوں کو آگ اور خون کے دریا اور ان گنت قربانیوں کی امتحان گاہ سے گزرنا پڑا لیکن قوم نے آزادی کا گوہر نایاب بالآخر پا لیا۔ بے پناہ قربانیاں دینے والوں کی فہرست میں صرف مسلمان مرد نہیں مسلمان خواتین کے نام بھی روشن و فروزاں ہیں۔ قائد اعظمؒ نے بجا ارشاد فرمایا تھا کہ کوئی قوم اس وقت تک شان و شوکت کی معراج کو نہیں پہنچ سکتی جب تک اس کی عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہوں۔

شوکت آرا لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہیں۔ ان کا تعلق مسلم لیگ سے تھا اور وہ جماعت کے اہم اجتماعات میں بنفسٖہ موجود ہوتی تھیں۔وہ کہتی ہیں ’’قائد اعظم ؒ کے چہرے پر اس وقت حیرانی کا تاثر دیدنی تھا جب ہم ہاتھوں میں تلواریں تھامے ان کے ساتھ قدم بہ قدم چلیں اور انہیں سٹیج پر پہنچایا‘‘۔

تحریک پاکستان میں مسلم خواتین کا کردار بلاشبہ اتنا ہی اہم تھا جتنا مرد حضرات کا۔ جدوجہد، جرأت اور محنت میں وہ مردوں کے ہم پلہ تھیں۔ مسلم لیگ کے اجتماعات میں ان کا جوش و خروش عیاں ہوتا تھا۔ مسلمان خواتین کی دلیری اور عزم و استقلال کی کہانیاں زبان زدِ عام تھیں۔

لاہور شہر کی فاطمہ صغریٰ کی عمر 14برس کی تھی جب دھان پان جیسی اس لڑکی نے عورتوں کے ایک جلوس میں سے نکل کر سول سیکریٹریٹ کی عمارت پر لہراتے یونین جیک کو اُتار پھینکا اور اس کی جگہ مسلم لیگ کا جھنڈا لہرا دیا ۔ ان کا کہنا ہے۔

’’جب میں نے برطانوی جھنڈے کو اتار پھینکا اور اس کی جگہ مسلم لیگ کا جھنڈا لہرایا تو مجھے قطعی علم نہ تھا کہ میں کتنا بڑا معرکہ سر انجام دے رہی ہوں۔ یہ سب کچھ کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں تھا۔ میری عمر 14برس تھی اورمیں خاصے باغیانہ خیالات رکھی تھی۔ تب مجھے ایسا کرتے ہوئے بہت بھلا لگا تھا‘‘۔

محترمہ فاطمہ جناح ؒ ، بیگم لیاقت علی خان، بیگم شاہ نواز، بیگم سلمیٰ تصدق حسین وغیرہ تحریک پاکستان کی قد آور خواتین تھیں جن کے زیرسایہ فاطمہ صغریٰ ایسی نڈر اور جذبوں سے بھرپور لڑکیوں اور عورتوں نے تحریک پاکستان کی جدوجہد میں قابلِ تحسین کہانیاں رقم کی تھیں۔ ہماری عورتوں نے آزادی کی جدوجہد میں کارہائے نمایاں سر انجام دیئے اور قربانیوں کی ادائیگی میں بھی مردوں سے پیچھے نہ رہیں ۔ بغور دیکھا جائے تو عورتوں کی قربانیاں کثیر ہونے کے ساتھ ساتھ روح فرسا بھی تھیں۔

لاہور کے منٹو پارک میں 23 مارچ 1940ء کو شہر پر پھیلے آسمان نے جس جمِ غفیر کا نظارہ کیا تھا اس میں عورتوں کی شمولیت اجتماع کے تناسب کے حوالے سے کم نہیں تھیں۔ کئی دن پہلے ہی نہ صرف لاہور کی خواتین،بلکہ دور کے شہروں میں رہنے والی عورتیں بھی فعال ہو چکی تھیں۔ ان کا عظیم قائد ؒ پنجاب کے تاریخی شہر میں وارد ہو رہا تھا اور ایک ایسا خطاب اس سے متوقع تھا کہ جس نے ہندوستان کی سیاست میں ہلچل برپا کردینی تھی۔ لاہور کی مسلمان عورتوں نے اپنے مردوں کو ہی اجتماع میں نہیں بھیجا بلکہ خود بھی اپنے گھروں سے نکل آئی تھیں۔ برطانوی حکومت اور ہندوؤں کی سیاسی تنظیموں نے نوشتہ دیوار پڑ ھ لیا تھا۔ وہ جان گئے تھے کہ برصغیر کو اب ہر صورت تقسیم ہونا پڑے گا۔ وہ مسلمانانِ ہند کے جذبوں سے بخوبی واقف تھے۔ جانتے تھے کہ اس قوم کے مردو زن جب صف بندی کرلیں تو ایک سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔

برصغیر کی مسلمان خواتین نے تحریک آزادی میں جس جوش و خروش سے حصہ لیا تھا اور جو راستے وضع کئے تھے اس کا نتیجہ ہے کہ آج ہماری عورتیں ہر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں۔ میں اپنی عورتوں کے لئے ہر وقت دعا گو رہتی ہوں کہ رب العزت انہیں مزید جرأت وہمت اور استقامت سے نوازے تاکہ قومی ترقی اور فلاح و بہبود میں اپنا کردار بلا خوف ووسوسہ ادا کرسکیں۔

مزید : ایڈیشن 2