عمران خان اور شاہ پری

عمران خان اور شاہ پری
عمران خان اور شاہ پری

  



رضیہ ،سلطان کی پہلی محبت بھی تھی اور آخر ی ضد بھی ۔ سلطان بازاروں میں بے کار پھرتا تھااور رضیہ سلطان سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ چناچہ سلطان نے رضیہ کے گھر کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا۔دھرنا ناکام ہوتا نظر آیا تو سلطان نے رضیہ کو عشق معشوقی کے جھوٹے الزام میں بلیک میل کرنیکا فیصلہ کیا۔بلیک میلنگ کایہ فیصلہ سلطان کی محبت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوااور رضیہ نے سلطان سے شادی تو دور بلکہ اس کی شکل تک دیکھنے سے بھی انکار دیا۔رضیہ کا یہ رویہ سلطان کے سر پر ہتھوڑا بن کر گرا۔اس کی امید کی آخری کرن بھی ڈوب گئی اور وہ ناامیدی اور مایوسی کی بند گلی میں داخل ہو گیا۔سلطان کی ماں سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی چنانچہ اس نے سلطان کو شاہ پری کے پاس لے جانے کا فیصلہ کر لیا۔شاہ پری پرستان میں رہتی تھی اور لاہور کے کشمیری دروازے کے اندر ایک کشمیری فیملی کی ادھیڑ عمر خاتون جس کا نام آپی جان تھا،پر اس شاہ پری کا سایہ تھا۔ ایک خاص عمل سے شاہ پری کو آپی جان پربلایاجاتااور وہ لوگوں کے مسائل حل کر کے واپس پرستان چلی جاتی ۔

سلطان کی ماں بھی شاہ پری کے سامنے حاضر ہو ئی اور شکایت کی کہ رضیہ میرے بیٹے سے شادی کرنے پر راضی نہیں ہو رہی ۔ شا ہ پری نے رضیہ اور اس کی ماں کو بلا یا ،سرخ آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا اور جاہ وجلال سے حکم دیا کہ ’’ رضیہ کی شادی فوراََ سلطان سے کر دو ورنہ رضیہ کو تپ دق ہو جائے گا‘‘اس زمانے میں ابھی تک ٹی بی کا علاج دریافت نہیں ہوا تھا اور تپ دق کو مرض الموت سمجھا جاتا تھا ۔

شاہ پری کا حکم سن کر رضیہ اوراس کی ماں فوراً کھڑے ہو گئے۔ اپنے دونوں ہاتھ باندھے اورجھک کر شاہ پری سے عرض کیا ’’شاہ پری جی آپ رضیہ کو کچھ مت کہیے گا آپ جب کہیں گی ہم رضیہ کی شادی سلطان سے کردیں گے‘‘رضیہ کی ماں کے یہ الفاظ سلطان کیلئے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے اورجو کام دھرنا دینے سے نہیں ہو سکا، جس کام کو کرنے کیلئے رضیہ کے خلاف جھوٹے لو افیئرز کا سکینڈل بھی بری طرح پٹ گیاوہ کام شاہ پری کے صرف ایک حکم سے مکمل ہو گیااور رضیہ نے سلطان کی تمام تر خامیوں ،سازشوں اور دھرنوں کو نظر انداز کرکے اس سے شادی کر لی۔آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے ،میں یہ کہانی آپ کو کیوں بتا رہا ہوں ؟اور اس کہانی کا عمران خان سے کیا تعلق ہے ؟مجھے یقین ہے کہ کالم کے اختتام پر آپ اس کا مقصد سمجھ چکے ہوں گے۔

مئی 2013کے الیکشن کے بعدپاکستان میں ن لیگ کو دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی اور میاں محمد نواز شریف بلا شرکت غیر ملک پاکستان کے مضبوط ترین وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔ عمران خان نے نواز شریف کی جیت کو تسلیم کرنے کی بجائے غلطیوں کی ماں سے شادی کر لی۔ ا س نے نواز حکومت کو گرانے اور خود کو پاکستان کا وزیر اعظم بنوانے کے لئے اگست 2014میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے دیا۔یہ عمران خان کی پہلی غلطی تھی ۔دوسری غلطی دس لاکھ لوگوں اور ایک لاکھ موٹرسائیکل سواروں کو اسلام آباد میں اکٹھا کرنے کا دعویٰ تھا جو بری طرح ناکام ہوا۔تیسری غلطی سول نافرمانی کی تحریک چلانے کاحکم تھا ۔ جو عوام نے ہوا میں اڑا دیا۔ چوتھی غلطی تھرڈ امپائر کی جانب اشارہ تھا جس نے نہ جھکنے والے نہ بکنے والے عمران خان کے جمہوریت کے دعوؤں پر سے لوگوں کا یقین اٹھا دیا۔پانچویں غلطی پی ٹی وی پر حملہ تھا اور چھٹی اور سب سے بڑی غلطی چھ مطالبوں میں سے ساڑھے پانچ مطالبوں کے منظور ہونے پر بھی دھرنا ختم نہ کرنے کا فیصلہ تھا۔سلطان کی طرح جب عمران خان کا بھی دھرنا پروگرام ناکام ہو گیاتو اس نے نواز شریف کو کرپشن کے الزامات پر بلیک میل اور بدنام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔خان صاحب نے پوری دنیا میں نواز شریف کے خلاف پروپیگنڈا کیا ۔کرپشن کے الزامات پر نواز شریف سے استعفٰی مانگا اور پوری دنیا کو یقین دلایا کہ ہمارے پاس نواز شریف کی کرپشن کے خلاف ثبوت موجود ہیں جو ہم وقت آنے پر عدالت میں پیش کریں گے اور جب عدالتوں نے خان صاحب سے ثبوت مانگے تو خان صاحب اپنے دعوے سے مکر گئے اور کہا عدالت خود ہی ثبوت ڈھونڈے اور نواز شریف کو نا اہل قرار دے دے اور اگر عدالت نے ایسانہ کیا تو ہم سڑکوں پر ہو نگے۔اس رویے نے عو ام میں رہی سہی عمران خان کی عزت کا بھی جنازہ نکال دیااور نواز شریف کو کرپٹ ثابت کرنے کا ایجنڈا بھی بری طرح ناکام ہو گیا اور رہی سہی کسر پی ایس ایل فائنل کی پاکستان میں منعقد کروانے کی مخالفت اور انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو پھٹیچر کا لقب دینے نے پوری کر دی۔ ان تمام غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود خان صاحب کی یہ خواہش ہے کہ عوام انہیں 2018 کے الیکشن میں دو تہائی اکثریت سے وزیراعظم منتخب کرے اور پاپولر لیڈر بھی تسلیم کرے۔

موجودہ حالات میں خان صاحب کی اس خواہش کی تکمیل مشکل بھی نظر آتی ہے اور ناممکن بھی ۔یہ خواہش صرف ایک صورت میں پوری ہو سکتی ہے کہ اگر خان صاحب بھی سلطان کی طرح کسی شاہ پری کو ڈھونڈیں جس کا احترام پوری پاکستانی قوم کرتی ہواور پاکستانی قوم شاہ پری کے حکم پر آپ کو ووٹ دیکر وزیر اعظم منتخب کرلے۔

خان صاحب ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب لیڈر اپنی صلاحیتوں کو مثبت رویوں ،تعمیری کاموں اور عوام کی خدمت کرنے میں صرف کرنے کی بجائے منفی سوچ ،شارٹ کٹ وزیر اعظم بننے کے طریقوں اور مخالفت در مخالفت کی سیاست میں صرف کرنے لگیں تو وہ کردار ،اخلاق اور زور بازو سے اپنا مقصدحاصل نہیں کرسکتے اور اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے انھیں ہمیشہ شاہ پری کی ضرورت پڑتی ہے اور خان صاحب آپ نے اپنی صلاحیتوں اور مثبت سوچ کو اقتدار کی لالچ کا گھن لگا دیا ہے اسلئے آپ بھی آج شاہ پری کے محتاج بن کر رہ گئے ہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ