44ویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

44ویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ...
44ویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

  


حضرت محدثِ اعظم کی ذات گرامی کائنات کیلئے ابرِ کرم تھی اور آپ کی بخشش کا دروازہ ہر شخص کیلئے کھلا تھا۔

حضرت نوشہ گنج بخش کی وفات کے بعد جب آپ مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو آپؒ کی بزرگی اور کمالات کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا اور اطراف و اکناف سے جوق در جوق طالبان حق ان کی خدمت میں حاضر ہو کر متمتع ہونے لگے۔ اگر ایک طرف وہ مخلوق خدا کو تفسیر، حدیث اور فقہ کے درس سے فیض یاب فرما رہے تھے تو دوسری طرف طالبان طریقت کا ایک خاصا ہجوم بھی ان کی توجّہ سے سلوک کی کٹھن وادیوں کو طے کر رہا تھا۔

تینتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کتب سلسلہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بیماروں، مسافروں اور حاجت مندوں کا ایک جم غفیر بھی ان کے در دولت پر ہر وقت موجود رہتا تھا۔ چونکہ حضرت نوشہ پیر نے ان کو ولی عہد مقرر کرتے وقت مخلوق خدا کی خدمت کا حکم فرمایا تھا۔ اس لئے آپؒ بارگاہ نوشاہیہ میں حاضر ہونیوالوں کی خدمت اور دلجوئی بنفس نفیس کرتے تھے۔

حضرت محدثِ اعظم روحانی طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ علم طب میں بھی یدطولٰی رکھتے تھے۔ ان کے طبی کمالات کا شہرہ سن کر ملک کے طول و عرق سے روزانہ بیسیوں لاعلاج بیمار حاضر خدمت ہو کر شفایاب ہوتے تھے۔ مرض کی تشخیص اور تجویز علاج میں انہیں انتہائی تجربہ حاصل تھا۔ بڑے بڑے مایوس العلاج بیمار ان کی توجہ سے صحت کی دولت سے مالا مال ہوتے تھے۔

حضرت محدثِ اعظم کی ذات مصیبت زدہ مخلوقات خدا کے لئے ابرِ کرم تھی اور ان کی بخشش سے غربا، یتامٰی، مساکین، طالبان سلوک، علوم ظاہری کے شائقین اور حاجت مندان سب بہرہ ور ہوتے تھے۔ اسی لئے مولوی محمد اشرف منچری نے آپ سے متعلق لکھا ہے۔

زہے شاہِ ہاشم سحابِ کرم

جہاں تازہ کردہ ز آبِ کرم

یعنی شاہ ہاشم دریا دل ابرِ کرم تھے اور انہوں نے بخشش کے پانی سے جہاں کو سیراب کیا ہے۔

علامہ محمد ماہ صداقت کنجاہی لکھتے ہیں۔

شہِ دریا دل اعجاز پرور

برنگِ ابرِ رحمت سایہ ستر

حضرت سید محمد ہاشم شاہ دریا دل قد سرہ نے درگاہ عالیہ نوشاہیہ میں ایک دینی درگاہ بھی قائم کر رکھی تھی جس میں آپ دیگر اساتذہ کے ساتھ خود بھی تدریسی فرائض سرانجام دیتے تھے۔

شائقین علوم دینیہ نے تفسیر، حدیث، فقہ تصوف اور دیگر علوم متداولہ میں ان سے استفادہ کیا۔

سید شیر محمد برخوداری نے لکھا ہے کہ حضرت سید شاہ عضمت اللہ حمزہ پہلوان نے بھی ان سے کچھ اسباق پڑھے تھے۔

حضرت سید محمد ہاشم شاہ دریا دل نوشاہی وعظ بھی فرمایا کرتے تھے چونکہ آپ علم و فضل کا سمندر تھے۔ اس لئے آپ کی تقریریں نہایت علمی ہوتی تھیں۔ آپ بڑے خوش الحان تھے، سامعین پر آپ کی تقریر سے وجد طاری ہو جاتا تھا، آپ کے وعظ توحید و سنت اصلاح احوال اور تصوف پر مبنی ہوتے تھے۔

عامتہ الناس کے علاوہ ان کی مجلس وعظ میں علماء اور صوفیا بھی شریک ہوتے تھے۔ ان میں سے قاضی القضاۃ علامہ خوشی محمد کنجاہی، مفتی ابو البقاشامی، مفتی نذر محمد شامی، علامہ مفتی رضی الدین کنجاہی، پیر محمد سچیار نوشہروی اور شاہ عبد الرحمٰن پاک کے اسمائے گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اسلام نے تقویٰ اور پرہیزگاری کو بڑی اہمیت دی ہے۔ قرآن مجید میں متقین کے فضائل بالتصریح بیان فرمائے گئے ہیں۔ کتب سلسلہ میں مرقوم ہے کہ حضرت سید محمد ہاشم شاہ دریا دلی نوشاہی تقویٰ کے اعلٰی مقام پر فائز تھے۔ مفتی غلام سرور لاہوری لکھتے ہیں کہ حضرت سید دریا دل تقویٰ اور زہد میں شہرہ آفاق تھے۔مولوی محمد اشرف منچری لکھتے ہیں کہ سید محمد ہاشم زہد میں بے مثل تھے۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ