بھارت کا ایٹمی پلانٹ چلتے چلتے یکدم بند ہوگیا، وجہ کیا بنی؟ جان کر مودی حکومت کے پیروں تلے واقعی زمین نکل گئی، کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ۔۔۔

بھارت کا ایٹمی پلانٹ چلتے چلتے یکدم بند ہوگیا، وجہ کیا بنی؟ جان کر مودی حکومت ...
بھارت کا ایٹمی پلانٹ چلتے چلتے یکدم بند ہوگیا، وجہ کیا بنی؟ جان کر مودی حکومت کے پیروں تلے واقعی زمین نکل گئی، کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ۔۔۔

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت ہمیشہ سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر انگلی اٹھاتا آیا ہے، تاکہ اسے غیرمحفوظ قرار دلواسکے، لیکن اس کے اپنے ایٹمی پروگرام کی حفاظتی صورتحال کا یہ عالم ہے کہ اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے پارٹس اور اس میں استعمال ہونے والے خطرناک مادے ممبئی کے چور بازار میں فروخت ہونے تک کی خبریں خود بھارتی میڈیا دے چکا ہے۔ اس کے نیوکلیئر پاورپلانٹس کے تحفظ کی یہ صورتحال ہے کہ ان کے پائپ یوں لیک ہوتے رہتے ہیں جیسے پاکستان میں واٹرسپلائی اور سیوریج کے پائپ۔ ریاست گجرات میں موجود اس کے ’کاکراپر نیوکلیئرپاورپلانٹ کا ایک یونٹ ایک سال قبل پائپ لیک ہونے کے باعث بند کیا گیا تھا جس سے تابکاری مواد کے اخراج کے باعث درجن سے زائد افراد متاثر ہو گئے تھے لیکن نااہل بھارتی ایٹمی سائنسدان اس لیکیج کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو گئے جس پر اب یہ پلانٹ مکمل طور پر بند کر دیاگیا ہے۔

دنیا کا وہ علاقہ جو کسی بھی وقت ایک دھماکے سے پھٹنے والا ہے، وجہ دہشتگردی نہیں بلکہ۔۔۔ وارننگ جاری کردی گئی

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ایک سال کی کوششوں کے باوجود کا’کراپرنیوکلیئر پاور پلانٹ‘ کے پائپوں سے مسلسل تابکاری مواد اور پانی کا اخراج جاری رہنے کی وجہ چیچک کے وائرس سے ملتا جلتا ایک وائرس ہے جو پائپوں کو اندر سے کھا رہا ہے۔ یہ مسئلہ پائپوں سے شروع ہو کر پورے ایٹمی پلانٹ میں پھیل گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ”نایاب دھات سے بنائے گئے پلانٹ کے پائپ اس تباہ کن وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ یہ وائرس پانی کے بہت زیادہ اخراج کے باعث علاقے میں پھیل کر بیماری کوبھی تیزی کے ساتھ لوگوں میں منتقل کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔“

رپورٹ کے مطابق یہ وائرس دو پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز میں پائے گئے ہیں۔11مارچ 2016ءمیں جب اس کا ایک یونٹ ہنگامی طور پر بند کیا گیا،تو معلوم ہوا تھا کہ اس کے پائپوں میں 4بڑے شگاف پڑ گئے تھے جن سے بڑی مقدار میں تابکاری مواد سے لبریز پانی کا اخراج ہو رہا تھا اور انہیں بند کرنا بھارتی ماہرین کے لیے ناممکن ہو گیا تھا۔ اس کی تحقیقات کے بعد ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ یہ لیکیج 2012ءسے جاری تھی۔بھارتی اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ کا کہنا ہے کہ جب تک اس مسئلے کو قطعی طور پر حل نہیں کر لیا جاتا، پلانٹ مکمل طور پر بند رہے گا۔

مزید : بین الاقوامی