’6سال پہلے ہم نے اس کام میں 15لاکھ روپے لگائے تھے اور اب اس سے 3 کروڑ روپے سالانہ کماتے ہیں‘ نوجوان جوڑے نے پیسے کمانے کا ایسا آسان ترین طریقہ بتادیا جو آپ بھی باآسانی آزماسکتے ہیں

’6سال پہلے ہم نے اس کام میں 15لاکھ روپے لگائے تھے اور اب اس سے 3 کروڑ روپے ...
’6سال پہلے ہم نے اس کام میں 15لاکھ روپے لگائے تھے اور اب اس سے 3 کروڑ روپے سالانہ کماتے ہیں‘ نوجوان جوڑے نے پیسے کمانے کا ایسا آسان ترین طریقہ بتادیا جو آپ بھی باآسانی آزماسکتے ہیں

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) سکاٹ اور مینا اونیل کہنے کو تو ابھی نوجوان ہیں لیکن انہوں نے اپنی سمجھداری کی بدولت اتنی دولت کما لی ہے کہ جس کا تصور اچھا خاصا کمانے والے بڑھاپے کو پہنچ کر بھی نہیں کر پاتے۔ انہوں نے سات سال قبل اپنا پہلا گھر 15ہزار ڈالر (تقریباً 15لاکھ پاکستانی روپے) میں خریدا اور آج وہ ایک کروڑ ڈالر (تقریباً ایک ارب پاکستانی روپے) کی جائیدادوں کے مالک ہیں، جن سے سالانہ تین لاکھ ڈالر (تقریباً 3کروڑ پاکستانی روپے) کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس جوڑے نے پراپرٹی کے کاروبار کا آغاز آسٹریلیا کے دارالحکومت سڈنی کے جنوب میں واقع شہر سدرلینڈ میں پہلی جائداد خرید کر کیا۔ اس وقت ان کی عمر بالترتیب 23اور 22 سال تھی۔ اب ان کی جائیدادیں پرتھ سے لے کر گولڈ کوسٹ تک اور این ایس ڈبلیو ٹاﺅنز کوما سے لے کر پورٹ ماکاری تک پھیلی ہوئی ہیں۔

وہ 13 خاندان جو دنیا کی ہر چیز کنٹرول کرتے ہیں، ایسی تفصیلات کہ جان کر واقعی آپ کے اوسان خطا ہوجائیں گے

دو سال قبل انہوں نے اپنی اپنی ملازمت بھی چھوڑ دی اور اب سرمایہ کاری مشاورت فراہم کرنے والی ایک کمپنی ’ری تھنک انویسٹنگ‘ چلارہے ہیں۔ اب وہ اپنا کاروبار کرتے ہیں اور سال کا نصف حصہ بیرون ملک سیر و سیاحت میں گزارتے ہیں۔ سکاٹ اور مینا کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی کا راز بہت سادہ ہے۔ انہوں نے پہلی پراپرٹی خریدی تو اس کو بیچ کر حاصل ہونے والے منافع کو اگلی پراپرٹی کی خریداری میں لگادیا۔ اس طرح وہ ایک کے بعد ایک جائیداد خریدتے چلے گئے اور آج اربوں کی جائیداد کے مالک ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ابتدائی چند سال تو بہت مشکل ہوتے ہیں کیونکہ آپ اپنے لئے کچھ بھی نہیں بچاسکتے لیکن پھر سب کچھ آسان ہوتا چلا جاتا ہے۔ سکاٹ نے بتایا کہ مثال کے طور پر اگر آپ چار لاکھ ڈالر کی ایک جائیداد خریدتے ہیں اور چند سالوں میں اس کی قیمت 5لاکھ ڈالر ہوجاتی ہے، تو آپ بینک کے پاس جاسکتے ہیں اور منافعے کے 80 فیصد تک ری فنانسنگ کرواسکتے ہیں۔ وہ آپ کو 80 ہزار ڈالر، جو کہ قیمت میں ایک لاکھ اضافے کا 80 فیصد ہے، دیں گے، اور آپ اسے نئی جائداد کی خریداری میں استعمال کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سدر لینڈ میں انہوں نے پہلا گھر خریدا تو اسے خاصی زیادہ تزین و آرائش کی ضرورت تھی۔ بعد ازاں انہوں نے اس پر 45ہزار ڈالر خرچ کئے اور اس کی قیمت دو گنا ہوگئی۔ اب اس جائداد کی قیمت 11 لاکھ ڈالر (تقریباً 11کروڑ پاکستانی روپے) سے زائد ہے۔

سکاٹ اور مینا گھروں کے علاوہ سپر مارکیٹیں اور ریسٹورنٹ بھی خریدتے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ایک بڑا ویئر ہاﺅس اور میڈیکل سنٹر بھی خریدلیا ہے۔ اس کامیاب جوڑے کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ دولت کا حصول کبھی بھی ان کا خواب نہیں تھا۔ وہ تو صرف اپنی مرضی اور آزادی کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے، خوش قسمتی سے وہ جائیداد کی خرید و فروخت کے کاروبار میں آگئے اور یہ انہیں بہت راس آیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -