ہم الیکشن جیت کر کیا کر لیں گے؟

ہم الیکشن جیت کر کیا کر لیں گے؟
ہم الیکشن جیت کر کیا کر لیں گے؟

  

ہمارے تمام محترم نئے اور پرانے سیاسی لیڈر دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن جیتنے کے لئے تیار بلکہ بے قرار دکھائی دیتے ہیں مگر یہ کوئی بھی نہیں بتاتا بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ کھل کر کوئی نہیں بتا رہا (یا شاید کسی کے پاس زیادہ بتانے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں!) کہ اس نے کیا کچھ کیا ہے اور کر کے کیا کیا دکھائے گا مثلا یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ اگر سید علی گیلانی جیسا مخلص اور جاں نثار آزادی پسند تحریک آزادی کشمیر کو خیر باد کہہ چکا ہے تو مظلوم کشمیری بھائیوں کے لئے ہم کیا کر لیں گے؟

یا بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے لئے نسل پرست برہمن نے ظلم اور غارت گری کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس بازار کو ٹھنڈا کیسے کریں گے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے منتخب لیڈروں کا اصل کام تو یہی تھا اور یہی ہے کہ پورے برصغیر یعنی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش وغیرہ کے تمام مسلمانوں کے حال اور مستقبل کے لئے کیا سوچا ہے یا کیا سوچ رہے ہیں؟ بلکہ کچھ سوچ بھی رہے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ بھارت کا ہر نسل پرست برہمن جب ہندو کے تحفظ کے لئے سوچتا ہے تو اس کے دل میں پورے برصغیر کا ہندو ہوتا ہے اور جب وہ پورے برصغیر سے مسلمانوں کو بھگا کر یا قتل کر کے یا سب کو اچھوت بنا کر تمام برصغیر کو مسلمان ملیچھ اور ناپاک سے نابود کر کے آرام کی نیند سونا چاہتے ہیں، گزشتہ ستر سال سے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہندو یہی کچھ سوچ رہا ہے، اس کے مقابلے میں ہمارے لیڈروں کو بھی یہی کچھ سوچنا اور کرنا تھا اور یہی کچھ سوچنا اور کرنا ہے مگر ہمارے ان محترم لیڈروں کی تو زبانیں گنگ ہیں اور ستر سال سے ہم بدقسمتی سے یہ دیکھنے اور سننے سے محروم چلے آتے ہیں۔

میں نے سب سے پہلے نواب افتخار ممدوٹ کا سر کچلنے کے لئے میاں ممتاز دولتانہ کے جھرلو کا نام سنا تھا مگر اب کرکٹ کا بلا لہرتا دیکھ رہا ہوں، پھر خان اعظم عبدالقیوم خان اور میاں دولتانہ کو خواجہ ناظم الدین کے مرغی خانہ پر حملہ آور ہو کر سب مرغیاں چرانے اور تمام انڈے توڑ کر پاکستان توڑنے اور سقوط ڈھاکہ کے المیہ پر قوم کو رلانے کا موقع دینے کا خیال آ گیا تھا جس پر اچھے پاکستانی آج بھی رو رہے ہیں مگر ہمارے انقلاب پسند لیڈروں نے اس المیہ سے سبق سیکھنا بھی گناہ تصور کیا۔ یوں کبھی فوجی، کبھی سوشلسٹ اور کبھی موجی انقلاب لانے میں مصروف رہے لیکن بھارت کے نسل پرست اور مکار برہمن نے اندازہ لگا لیا اور خاموشی سے شیطانی کارستانیوں میں لگا رہا، پرانے مسائل حل کر کے اچھا پڑوسی بننے کے بجائے نئے سے نئے مسائل کا ڈھیر لگانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بنیادیں کھودنے میں لگا رہا مگر ہمارے دلیر لیڈر گونگے بہرے بننے کے علاوہ اندھے بنکر برہمن کی ان چالوں کو دوستانہ چھیڑ چھاڑ کے ہمدردانہ چٹکلے سمجھ کر خود بھی چپ رہے اور اپنے عوام کو بھی خاموش رہنے کی تلقین کرتے رہے اگر کوئی زیادہ بولا بھی تو اسے اندر یا باہر دھکیلتے رہے، بس صرف الیکشن کے ڈرامے رچا کر اور ’’جمہوری طور پر منتخب‘‘ ہو کر کرسی کا کھیل جاری رکھا، جمہوری ڈراموں کے بعد داخلی پالیسی کرپشن اور لوٹ مار رہی جبکہ بیرونی پالیسی لوٹے ہوئے سرمایہ کے لئے چھپانے کی کوشش رہی، نتیجہ آپ کے سامنے ہے!

اپنے غریب مگر اچھے عوام کو بیوقوف بنانے کے رنگ ڈھنگ خاصے بدل گئے ہیں اب یہ لیڈر انقلاب کا لفظ منہ پر لاتے ہوئے شرماتے بھی ہیں مگر ڈر تے بھی ہیں کیونکہ ہمارے ہاں اب انقلاب صرف فوج کے لئے رہ گیا ہے اس لئے انقلاب کا لفظ سن کر ہی نہیں کانپتے بلکہ لکھا ہوا پڑھ کر بھی سہم جاتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے لئے ’’نیا پاکستان‘‘ کا نعرہ چن لیا ہے مگر یہ بتانے سے عاجز ہیں کہ نیا پاکستان آئے گا کہاں سے اور کیسے آئے گا لیکن ان کی خفیہ ڈائریوں میں اس سے مراد نیا کرسی نشین ہے، جونہی پہلا کرسی نشین رخصت ہو گا اور دوسرا آکر قابض ہو جائے گا تو پاکستان نیا بن جائے گا نئی کرپشن، نئی لوٹ مار اور لوٹا ہوا مال چھپانے کے اڈوں کی تلاش شروع ہو جائے گی۔ گزشتہ ستر سال سے یہی کچھ ہو رہا ہے مگر نسل پرست اور سنگدل برہمن بھی اپنے شیطانی کاموں میں لگا ہوا ہے۔ جس طرح جواہر لال نہرو چپکے سے حیدر آباد دکن میں اور اندرا گاندھی ڈھاکہ میں جا گھسی تھی اسی طرح نریندر مودی بھی اب چپکے سے کشمیر پر قبضہ کے لئے کوشاں ہے، مگر ہم الیکشن تو جیتنے کے لئے بے قرار ہیں مگر پھر کریں گے کیا؟ یہ کوئی نہیں بتا رہا اور شاید کوئی بتانے کے قابل ہی نہیں البتہ زرداری صاحب کچھ نہ کچھ بتانے یا کرنے کے موڈ میں ہیں، سندھ فتح کر کے اس پر جھاڑو پھیرنے کے بعد وہ کہاں کہاں نہیں پہنچے اب وہ پنجاب فتح کرنے بلکہ یوں کہئے کہ پاکستان فتح کرنے کے موڈ میں ہیں اور مجھے شک ہے کہ یہ ان کے لئے مشکل نہیں، مشکل صرف یہ لگتا ہے کہ وہ آگے کہاں جائیں گے؟ کیونکہ وہ اب تک چھلانگیں لگا لگا کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں! بھلا کہاں ایک سینما کی ٹکٹوں پر گزارا اور کہاں یہ اندرون ملک اور بیرون ملک دولت کے ڈھیر؟ وہ بلا شبہ ایک غیر معمولی انسان ہیں اور ان کے تمام کام اور تمام راستے بھی غیر معمولی ہی ہوں گے؟

میں آپ سے ڈرتے ہوئے اپنی تمام کارستانیاں یک مشت نہیں سنانا چاہتا کہ آپ کہیں مجھ پر کوئی مقدمہ ہی نہ بنا دیں لیکن کیا کروں اب یہ بتانے پر مجبور ہوں کہ پنجاب یونیورسٹی سے چمٹ جانے سے پہلے نہ جانے میں کتنی سیاسی اور غیر سیاسی پارٹیوں میں بھٹکتا پھرتا رہا ہوں، ان میں مجلس احرار، تحریک ختم نبوت اور مشہور لاہوری لیڈر میاں افتخار الدین کی ’’آزاد پاکستان پارٹی ‘‘ قابل ذکر ہیں، میرا ایک دور کا رشتے دار مجلس احرار سے آزاد پاکستان پارٹی میں شامل ہوا تھا، اس نے مجھے بھی اس پارٹی کا صوبائی کونسلر بنوا دیا تھا، سندھ سے اس پارٹی کے صوبائی کونسلر انکل حاکم علی زرداری بھی تھے وہ جب بھی میٹنگ کے لئے لاہور تشریف لاتے تو مجھے اپنا دوست تصور کرتے تھے مگر میں انہیں اپنا انکل اور خود کو ان کا خادم سمجھتا تھا، وہ مجھے بڑی بے تکلفی سے بتاتے تھے کہ ان کے پاس ایک جھونپڑی کے علاوہ ایک سنیما بھی ہے جس کا انتظام و انصرام ان کے ایک بیٹے کے ہاتھ میں ہے مگر وہ کچھ احتیاط نہیں کرتا، مجھے انہوں نے ازراہ مزاح اور مہربانی سندھ میں آ کر سندھی ماٹھوں بننے اور ان کے بیٹے کی مدد کرنے کی پیش کش فرمائی مگر میں نے بڑے ادب سے معذرت کی تھی بعد مدت کے مجھ پر یہ راز کھلا کہ انکل حاکم علی جس کا ذکر فرماتے تھے وہ تو جناب آصف علی زرداری تھے میں آج ان کا بھائی یا کم سے کم قریبی ساتھی تو ہوتا مگر ’’مگر نہ تھی ہماری قسمت کہ ‘‘

مگر اصل موضوع تھا دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن جیتنے کے لئے تیاری اور بے قراری لیڈروں کی مگر ہم بھائی زرداری کے ذکر میں الجھ گئے میری ان دوستوں اور بزرگوں سے جو الیکشن کے لئے تیار و بے قرار ہیں یہ اپیل ہے کہ کچھ مظلوم کشمیر کے برحق معاملے کے لئے اور بھارت کے کروڑوں ستائے جانے والے اور نسل پرست برہمن کے غیظ و غضب کا شکار ہونے والے مسلمانوں کا بھی خیال کریں، یہ ہمارا فرض بلکہ ذمہ داری بھی ہے برہمن کو یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ برصغیر سے اسلام یا مسلمانوں کو ختم نہیں کر سکتا، ہاں بڑا بھائی بن کر اچھا پڑوسی ضرور بن سکتا ہے، محمود غزنوی نے نسل پرست برہمن کا دماغ درست کیا تھا چنانچہ صدیوں تک ہندو مسلمان کو ناقابل شکست طاقت سمجھتا تھا مگر ہمارے ’’دلیر اور ہوشمند‘‘ لیڈروں نے گزشتہ ستر برسوں کے بزدلانہ رویہ سے برہمن کو شیر بنا دیا ہے وہ حیدر آباد دکن اور ڈھاکہ کے بعد کشمیر میں بھی گھسنے کی تیاری اور بے قراری میں ہے جس طرح یہ ہمارے دلیر اور ہوشمند لیڈر الیکشن جیتنے کے لئے تیار اور بے قرار ہیں! ہندو نے جس طرح بزدلانہ خاموشی سے سیاچن پر قبضہ کر کے ہمارے لئے خوفناک مسئلہ کھڑا کیا ہے اسی طرح ہم بھی ہندو کو یہاں سے ہٹانے کے علاوہ کشمیر پر بھی اسی طرح قبضہ کر سکتے ہیں جس طرح ہمارے رضا کاروں نے سری نگر پر تقریباً قبضہ کر لیا تھا میں تو پاک فوج کی برتری کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہم بھارت کی ہر شیطانی کو اس کے منہ پر مار سکنے پر قادر ہیں۔!

مزید :

رائے -کالم -