’’پاکستان امن کا استعارہ ‘‘

’’پاکستان امن کا استعارہ ‘‘
’’پاکستان امن کا استعارہ ‘‘

  



پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی بھی دُنیا کے کسی ملک میں کوئی حادثہ ، سانحہ یا کسی دوسرے ملک کی طرف سے مداخلت کا معاملہ ہو پاکستان نے ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے ۔

بالخصوص ہمسایہ ممالک یا برادر اسلامی ممالک اسکے علاوہ بھی پاکستان نے دنیا بھر میں امن کے لیے تمام تر توانائیوں کے ساتھ امن کوششوں میں کردار ادا کیا ہے ۔

چاہے ایران ، عراق جنگ ہو ، سعودی عرب اور یمن تنازعہ دیگر ممالک میں بھی پاکستان نے ہمیشہ انسانی ہمدردی کے اُصول و ضوابط پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایک مصلح کا حق ادا کیا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہواتا ہے کہ جو ملک ہمیشہ ہی سے دنیا کے ہر کونے میں وقوع پذیر حالات میں مثبت رویے کا اظہار کرتے ہوئے امن اور صلح کے لیے کوششیں کرتا ہو؟ وہ خود کیسے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم رکھ سکتا ہے تازہ مثال حالیہ ہندوستان کی پاکستان کے خلاف جارحیت کے جواب میں مثبت طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس کی مسلسل اشتعال انگیزیوں پھر فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر اُس کے دو لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنانے کے باوجود انسانی ہمدردی کامظاہر ہ کرتے ہوئے اعلیٰ اسلامی اقدار اور روایات کے مطابق اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے مشتعل ہجوم سے پائلٹ کو بازیاب کروا کر عزت سے ہندوستان کے حوالے کیا ۔ اس سے زیادہ امن پسند اور صلح جو کردار کیسے ادا ہو سکتا ہے۔

حقیقت بالکل واضح ہے عالی شان ماضی کی علمبردار مسلم امہ سے باطل قوتوں کو ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے پھر نہ جانے کب مسلم امہ اُن پر یلغار کر دے اور وہ نیست و نابود ہو جائے اُن کے اس ڈر اور خوف نے انہیں مسلم دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھا دیا ہے کہ آج پاکستان جو کہ پہلی اسلامی ایٹمی طاقت ہے ہر کسی کو پاکستان سے خوف رہتا ہے حالانکہ پاکستان امن کا دلدادہ اس حقیقت سے باخوبی آگا ہ ہے کہ تمام مسائل کا حق مل بیٹھ کر مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ ہی سے دشمنوں کی چالوں اور چھیڑ خانیوں کے باوجود ہمیشہ صبر کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔

جسے دشمن اُس کی کمزوری سمجھتے رہے ہیں۔ حالانکہ پیارے پاکستان نے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے حکم کے عین مطابق اپنے گھوڑے ہمیشہ تیار رکھے ہیں تاکہ اپنی بقاء اور سا لمیت پر آنچ نہ آنے دے ۔ اس کے باوجود حکمت اور دانش مندی کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے ابھی تک کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے چل رہا ہے ۔

’’ حکمت مومن کی وراثت ہے ‘‘جسے باطل قوتیں نہیں سمجھ سکتیں اِسی ہر آئے دن پاکستان پر طرح طرح کے سنگین الزامات لگا کر ہمارے لیے مسائل کھڑے کیے جاتے ہیں کبھی دہشت گردی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے تو کبھی فرقہ واریت اور دوسرے مسائل میں ہمیں بُری طرح پھنسوا دیاجاتا ہے حالانکہ اگر آج ایک بار پھر ہم مسلم امہ ایک ہو کر تمام اختلافات بھلا کر ایک ہو جائیں بالکل اُسی طرح جیسے قیام پاکستان ایک جنون جوش اور جذبے سے سرشار ہو کر ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے ایک ہی دھن میں مصروف عمل تھے ۔ آج ایک بار پھر اُسی جذبے اُسی جنون کی ضرورت ہے ۔

جس سے ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے اور کوئی ہماری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت بھی نہ کر سکے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج پوری قوم اپنے تمام اختلافات بھلا کر یک جان ہو کر یکسوئی سے جن مقاصد کے تحت پاکستان معرض وجود میں آیا تھا اُس پر کام کریں۔

تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان امن کے استعارے کے ساتھ ساتھ امن کا گہوارہ بھی بن جائیں۔ دین اسلام جو کہ ہے ہی سلامتی ہی سلامتی ۔ دنیا کے سامنے اس کا اصل چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے پھر دیکھیں کیسے اس دینِ حنیف کی جانب لوگ کیسے کھینچے چلے آتے ۔ہمارا قول فعل اور عمل درست ہو گا تو ہم ایک مضبوط قوم بن کر اُبھر سکیں گے تاکہ اپنے مظلوم کشمیر ی بھائیوں اور فلسطینوں کیلئے آواز بلند کرکے انہیں درد اور اذیت ناک زندگی سے نجات دلانے میں کامیاب ہو سکیں۔

مزید : رائے /کالم