لاک ڈاؤن: سوچ کے دو زاویئے

لاک ڈاؤن: سوچ کے دو زاویئے

  



وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک گیر لاک ڈاؤن سے انکار کر دیا ہے تاہم عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر گھروں میں قرنطینہ کر لیں جو لوگ کھانسی، بخار، نزلے کے مریض ہوں وہ خود ہی گھروں میں رہیں۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر دوسرے آپشن ختم ہوئے تو پھر لاک ڈاؤن ہو گا، یہ آخری آپشن ہے، وفاقی حکومت کے برعکس سندھ کی صوبائی حکومت نے صوبے میں پندرہ دن کا لاک ڈاؤن کر دیا ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اشد ضرورت کے سوا گھروں سے نہ نکلیں، جن لوگوں کو ایسا کرنے کی اجازت دی گئی ہے انہیں بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس سہولت کا کم از کم استعمال کریں اور گھر سے باہر نکلتے وقت قومی شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں، جو لوگ ہسپتال جانا چاہتے ہوں ان کے ساتھ ایک اٹینڈنٹ جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا خوردنی اشیا اور بنیادی ضروریات کا ملک میں وافر ذخیرہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا اگر ہمارے حالات بھی اٹلی یا چین جیسے ہوتے تو فوراً لاک ڈاؤن کر دیتا، لاک ڈاؤن یا کرفیو کا مطلب ہے کہ شہریوں کو گھروں میں بند کرکے فوج اور پولیس کا پہرہ لگا دیا جائے، ملک کی 25فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے ہے جو مشکل سے دو وقت کی روٹی کماتی ہے لاک ڈاؤن کی صورت میں اس کا کیا بنے گا؟ کیا ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ ہم اتنی بڑی تعداد کے لئے گھروں میں کھانا پہنچا سکیں؟ چین کے پاس ایک سسٹم اور مالی وسائل تھے جس کی وجہ سے انہوں نے لاک ڈاؤن کیا اور کامیابی حاصل کی، ہمارے ہاں وہ صورت حال نہیں، ان کا کہنا تھا کہ عوام احتیاط نہیں کریں گے تو وباء تیزی سے پھیلے گی گھبرانا نہیں، بیماری سے نوے فیصد افراد تندرست ہو جاتے ہیں، صرف شدید بیماری کی صورت میں ہسپتالوں میں جانا چاہیے۔ گلگت بلتستان کی حکومت نے بھی صوبے کی حدود میں غیر معینہ عرصے کے لئے لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو یہ اطلاع آئی ہے کہ پنجاب کی حکومت بھی لاک ڈاؤن کر رہی ہے۔

وزیراعظم اگر لاک ڈاؤن نہ کرکے اس نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں جہاں تک جانے کے لئے دو صوبائی حکومتوں کی قیادت کو لاک ڈاؤن ضروری نظر آیا تو یہ اپنی اپنی سوچ اور فکر کی بات ہے دونوں راستے اگرچہ الگ الگ ہیں تاہم منزل ان کی ایک ہی ہے گوہر مقصود تو یہی ہے کہ ملک اور قوم کو کورونا کے منفی نتائج سے محفوظ رکھا جائے۔سندھ میں پندرہ دن کے لاک ڈاؤن سے پہلے تین دن کے لئے اس کا تجربہ کیا گیا یہ تین دن کا رضاکارانہ لاک ڈاؤن تھا جس کے حسب منشا نتائج نہیں نکلے تو سندھ کی حکومت نے یہی بہتر جانا کہ لاک ڈاؤن کی طرف جایا جائے۔ سندھ میں کورونا متاثرین کی تعداد باقی صوبوں سے زیادہ ہے اب اگر لاک ڈاؤن کے نتیجے میں وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مدد ملتی ہے تو کہا جا سکے گا کہ یہ فیصلہ درست بھی ہے اور بروقت بھی۔ اس لئے دعا کرنی چاہیے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ کے فیصلے سے ایسے نتائج برآمد ہوں جن کی امید لگائی گئی ہے جن ملکوں میں کورونا پر قابو پایا گیا ہے ان میں چین سرفہرست ہے اور اس کا ذکر وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بھی کیا ہے ان کا کہناہے کہ چین نے اگر لاک ڈاؤن کرکے کورونا پر قابو پایا تو ان کے پاس ایسا سسٹم موجود تھا اور مالی وسائل بھی تھے جو ہمارے ہاں نہیں ان کی یہ بات درست ہے لیکن جس طرح یہ وبا اچانک آئی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی تیز رفتاری کے ساتھ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے،جن ملکوں میں جو بھی سسٹم موجود ہے انہوں نے اسی کو بروئے کار لانا ہے۔ ہمارے ہاں بھی جس طرح کے ادارے موجود ہیں ہم نے انہی کو کام میں لا کر وائرس کا مقابلہ کرنا ہے، اگر ہمارے سسٹم میں کمیاں اور کوتاہیاں موجود ہیں تو ان کے ہوتے ہوئے بھی مثبت نتائج سامنے لائے جا سکتے ہیں۔ حکومت نے لاک ڈاؤن کو اگر آخری آپشن رکھا ہے تو دیکھناہوگا کہ اس کی نوبت آتی ہے یا نہیں اور جو آپشن اس وقت زیر استعمال ہیں اگر وہی نتیجہ خیز ہو جاتے ہیں تو پھر آخری آپشن کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟ سندھ میں خدانخواستہ اگر لاک ڈاؤن سے بھی مطلوبہ نتائج نہیں نکلتے جیسا کہ اٹلی میں نہیں نکلے تو پھر جو صورتِ حال پیدا ہو گی اس سے عہدہ برا ہونے کے لئے بھی تو تیار رہنا چاہیے، ویسے افراد اور قومیں تو صرف کوشش ہی کر سکتی ہیں نتائج ضروری نہیں ہمیشہ توقعات کے مطابق ہی نکلیں یہ خلافِ توقع بھی ہو سکتے ہیں۔اتوار کو دنیا کے 35ملکوں میں لاک ڈاؤن رہا ایک ارب لوگ گھروں میں بند رہے، جنہوں نے یہ کیا، اسی امید پر کیا کہ نتائج مثبت ہوں گے۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے نپٹنے کے لئے محض لاک ڈاؤن کافی نہیں ہے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جن کو کورونا وائرس ہے اور وہ جن کے ساتھ رابطے میں ہیں انہیں تلاش کیا جائے اور پھر انہیں تنہا کرنے پر توجہ دی جائے، ڈبلیو ایچ او کے ایک ہنگامی ماہر مائیک ریان کا کہنا ہے کہ اگر ہم صحت عامہ کے تحت احکامات نافذ نہیں کریں گے تو جب نقل و حمل کی پابندیاں ہٹیں گی اور لاک ڈاؤن ختم ہوں گے تو خطرہ ہے کہ کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل جائے گی۔ ڈبلیو ایچ او کی اس ہدایت کو پیش نظر رکھا جائے تو ہنگامی انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ دیرپا نوعیت کے ایسے کام کرنے کی ضرورت ہو گی جس کی وجہ سے کورونا مستقل طور پر ختم ہو جائے۔ ڈبلیو ایچ او کے اس خدشے کو بھی پیشِ نظر رکھ کر آئندہ کے لئے اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں چین کے جس سسٹم کا ذکر کیا ہے وہ چین نے سال ہا سال کی محنت اور جگر سوزی کے بعد بنایا ہے۔ انقلاب چین کے بعد وہاں مختلف نوعیت کے تجربات کئے گئے، ماوزے تنگ اور چو این لائی کے دور میں جو نظام بنایا گیا تھا وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں لائی جاتی رہیں، چین اس وقت سرمایہ داری نظام کے حامی ملکوں کے مقابلے کی ایسی نیم سوشلسٹ معیشت ہے جس نے پورے سرمایہ داری نظام ہی کو چیلنج کر رکھا ہے۔ دنیا کو توقع ہے کورونا کے اثرات جب بھی ختم ہوں گے چین کی معیشت ایک بار پھر تیزی سے آگے بڑھے گی، ہمیں بھی اگر یہ گلہ ہے کہ ہمارے پاس ایسا سسٹم نہیں جو نتائج دے سکے تو ہمیں سوچ بچار کرکے سسٹم کی اصلاح یا ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو کسی ہنگامی آفت کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہوں۔ روس نے بھی اگر اپنے ہاں کورونا پھیلنے نہیں دیا تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جونہی خطرہ سامنے آیا اس کے ادارے مقابلے کے لئے تیار کھڑے تھے۔ سرحدی آمد و رفت بھی فوری طور پر بند کر دی گئی، نتیجہ یہ ہے کہ وہاں کورونا کے اثرات بہت ہی محدود رہے۔ صرف ایک ضعیف العمر عورت کورونا سے ہلاک ہوئی، باقی مریض صحت یاب ہو گئے، ان دونوں ملکوں کی مثالیں اس لئے قابلِ تقلید ہیں کہ انہوں نے جو اقدامات کئے وہ نتیجہ خیز ثابت ہوئے لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کبھی چمن سرحد بند کرتے ہیں کبھی کھول دیتے ہیں، ایسے ڈھلمل اقدامات کا نتیجہ معلوم،جو بھی کرنا ہے خوب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ فیصلے کرنا اور کرکے بدل لینا کبھی اچھے نتائج پیدا نہیں کرتا۔

مزید : رائے /اداریہ