انسانی بے بسی کا عنوان: کرونا

انسانی بے بسی کا عنوان: کرونا
انسانی بے بسی کا عنوان: کرونا

  



کرونا کی وباء سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود انسانی بے بسی کا عنوان ہے۔ جن ملکوں کی محیر العقول ترقی و خوشحالی کی مثالیں دی جاتی تھیں،وہ بھی اس بیماری کے ہاتھوں عاجز ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور مضبوط ترین دفاع کے مالک امریکہ کے چودہ طبق روشن ہو چکے ہیں۔ کم آبادی اور زیادہ ترقی والا آسٹریلیا پریشان ہے۔ کینیڈا، برطانیہ، فرانس، اٹلی طبی کے ساتھ ساتھ معاشرتی بحران کا بھی شکار ہیں۔ ایران جیسے خوشحال ملک کی چولیں ہل گئی ہیں۔ سنگاپور اور ہندوستان پر اقتصادی بد حالی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والے چین کو اب تک جہاں سب سے زیادہ جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہاں اس کی اقتصادی ترقی کو بھی بریکیں لگ گئی ہیں، یوں دیکھا جائے تو بنی نوع انسان کی ترقی کو ریورس گیئر لگتا محسوس ہو رہا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود ہمارے دوست ہمسایہ ملک چین نے جس طرح اس وباء پر قابو پایا ہے، وہ اس کی تین چار عشروں میں ہونے والی ترقی سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ چین کا یہ کارنامہ، اس سے زیادہ ترقی کے دعویداروں کے لئے قابل تقلید مثال بن گیا ہے۔

دنیا اسی کے ماڈل کو سامنے رکھ کر اپنے ہاں اس بیماری پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے…… پاکستان میں بھی چین کے کامیاب تجربے سے رہنمائی لے کر انتظامات کئے جا رہے ہیں …… لیکن کیا ہم اسی انداز میں سرخرو ہو پائیں گے؟ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہماری عادات و اطوار، رجحانات و میلانات، اقدار و خیالات اور نظریات سبھی کچھ تو چین اور اس کے معاشرے سے مختلف ہے۔ اگر ہم چین کی اس تازہ ترین کامیابی کا جائزہ لیں تو یہ واحد اور تنہا کامیابی نہیں ہے،بلکہ یہ ان شاندار کامیابیوں کا تسلسل ہے، جس نے چینی عوام کی قومی سوچ اور نظم و ضبط سے جنم لیا ہے، چین میں تقسیم نہیں ایکتا ہے۔

علم سیاسیات کے ماہرین چین کے یک جماعتی نظام کو غیر جمہوری یا آمرانہ قرار دیتے ہیں،مگر اس کا یہ پہلو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اسی نظام نے بھلے جبر سے ہی سہی، چینی معاشرے کو تقسیم ہونے سے بچایا ہوا ہے۔ اختلاف رائے کے اظہار کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے حکمران، واحد سیاسی جماعت جو فیصلہ بھی کرتی ہے، وہ حرفِ آخر ہوتا ہے۔ اس کی مخالفت کی اجازت ہے، نہ کسی کو عادت، چنانچہ اس فیصلے پر عمل ہو کر رہتا ہے۔ اس کی بہت بڑی مثال گزشتہ صدی کے وسط میں، آزادی کے بعد چین کی بڑھتی ہوئی آبادی کی رفتار کم کرنے کے لئے چینی حکومت یا حکمران کمیونسٹ پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ایک گھرانہ/ جوڑا ایک ہی بچہ پیدا کرے گا۔ چین کے عوام نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ اکا دکا خلاف ورزیوں پر سزائیں بھی ہوئیں، مگر ان کی تعداد خاصی کم تھی۔ 35 سال تک ایک گھرانہ ایک بچہ کی پالیسی چلی، پھر حکومت نے محسوس کیا کہ چین کی آبادی کم ہوتی جا رہی ہے اور اب اس کمی کی مزید ضرورت نہیں۔ آبادی میں کچھ اضافہ اب قومی ضرورت ہے، چنانچہ پالیسی تبدیل ہوئی اور ایک گھرانہ دو بچے کا اصول دے دیا گیا۔ چینی قوم نے اس پر بھی عمل شروع کر دیا۔ جو قوم حکومت کی پالیسی کو قومی پالیسی سمجھتے ہوئے دل و جان سے اس پر عمل کرتی ہو، اس کے لئے لاک ڈاؤن یا قرنطینہ پر خوش دلی سے عمل کرنا کیا مشکل تھا، چنانچہ اس قوم نے یہ بھی کر دکھایا۔

اس کے برعکس ترقی پذیر ممالک میں عموماً اور ہمارے ہاں خصوصاً معاشرتی، مسلکی، سیاسی تقسیم اتنی گہری ہے کہ کسی بھی معاملے میں اتفاق رائے یا مکمل ہم آہنگی کا چلن کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔ صرف جنگوں کے دوران دفاع وطن کے حوالے سے یکجہتی دکھائی دیتی ہے۔ یوں تو کرونا کے خلاف مہم بھی ایک جنگ ہے،لیکن اس میں حکومت اور اپوزیشن میں وہ یکجہتی دکھائی نہیں دیتی جو پوری قوم کو متحد اور منظم کر سکتی ہو۔ اس کی وجہ سرکار اور مخالف سیاستدانوں میں پائی جانے والی وہ گہری خلیج ہے جو نصف صدی سے چلی آ رہی ہے،یوں یہ تفریق ہمارا کلچر ہی بن گئی ہے۔ حکومت کا کوئی اقدام کتنا ہی نیک نیتی پر مبنی کیوں نہ ہو مخالف سیاسی قوتیں اس کو متنازعہ بنانا اپنا فرض عین سمجھتی ہیں۔ یہ رویہ یکطرفہ نہیں، حکمرانوں کی طرف سے بھی جس کھلے دل و دماغ اور دوستانہ رویے کی ضرورت قومی معاملات میں ہوتی ہے، ان کا بھی ہمارے ہاں فقدان پایا جاتا ہے۔ اس طرح ہمارے ہاں وہ اچھے نتائج ممکن نظر نہیں آتے جو غیر منقسم یا منصفانہ سوچ کے حامل معاشروں میں دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ حکومت جب سے وجود میں آئی ہے، بوجوہ اپوزیشن پارٹیوں اور رہنماؤں کا ناطقہ بند ہے۔ اپوزیشن کے رہنماؤں کو مسلسل نیب کی طویل کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ اب جا کر عدالتوں سے کچھ ریلیف ملنا شروع ہوا ہے تو بھی حکمرانوں کے رویے میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔

وزیر اعظم عمران خان 68 سال کی عمر میں بھی ”اینگری ینگ مین“ دکھائی دیتے ہیں۔ کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے انہوں نے قوم سے جو مختصر خطاب کیا ہے، اس میں بھی صرف اپنی حلیف صوبائی بلوچستان حکومت کی کارکردگی کو سراہا ہے، جبکہ سندھ حکومت کو شاباش دینے کی ہلکی سی کوشش بھی نہیں کی، حالانکہ عام تاثر یہ ہے کہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی حکومت کی اس حوالے سے کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سندھ کی حکومت سب سے چوکس دکھائی دیتی ہے۔ اگر وزیر اعظم اس موقعہ پر سب سے بڑے منصب کے تقاضوں کو سامنے رکھتے اور بڑے پن کا ثبوت دیتے تو اس سے رواداری کی فضا پیدا کرنے میں مدد ملتی جو خود حکمران پارٹی کی گورننس کے مسائل کو کم کرتی…… ”کرونا وار“ میں اپوزیشن پارٹیوں سمیت پوری قوم کا فرض ہے کہ وہ سرکاری طور پر اٹھائے گئے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائے اور شکوک و شبہات پھیلانے سے اجتناب کرے۔

کئی ملکوں کی طرح ہمارے ہاں بھی اقدامات اٹھانے میں کچھ تاخیر ہوئی ہے، اب اس کا مداوا کرنے کی صورت یہی ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، من وتو کے جھگڑوں میں نہ پڑیں۔ لاک ڈاؤن قرنطینہ کو خوشدلی سے قبول کریں، احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں، پرانی رنجشیں بھلا کر قدم آگے بڑھائیں، ورنہ کرونا کی نظر میں ہر مذہب، ہر مسلک، ہر جماعت، ہر علاقے، ہر زبان، ہر رنگ، ہر نسل کے لوگ برابر ہیں۔ وہ سبھی کے لئے مہلک ہے۔ اس کی ہلاکت خیزی سے بچنے کے لئے بد اعتمادی کے پرانے رویے کو خیر باد کہنا ہوگا، چین جیسی بے مثال کامیابی تو شائد حاصل نہ ہو سکے، البتہ اس کی مثال سے سبق سیکھ کر اس کے تعاون اور مدد سے ہم بھی بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ تاریخ کے صفحات میں کامران اقوام اور شخصیات ہی زندہ رہتی ہیں۔

مزید : رائے /کالم