کرونا وائرس یا امریکہ چین کی بائیولوجیکل جنگ

کرونا وائرس یا امریکہ چین کی بائیولوجیکل جنگ
کرونا وائرس یا امریکہ چین کی بائیولوجیکل جنگ

  



پتھر کے زمانے میں انسان شکار کرنے کے لئے پتھر کے ہتھیار استعمال کرتا اور دشمن کو زیر کرنے کے لئے بھی پتھر کے ہتھیار استعمال کرتا آہستہ آہستہ انسان ترقی کرتا گیا اور اس نے بھالے اور تلواروں کا استعمال شروع کیا پھر دشمن کو زیر کرنے کے لئے منجنیق کا استعمال شروع کیا بارود کی ایجاد کے بعد توپ بندوق پستول کلاشنکوف بم کو جنگوں میں استعمال کرنا شروع کیا جہاز کی ایجاد کے بعد ہزاروں میل بیٹھے دشمن کو تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ میزائل راکٹ کی ترقی کے بعد دور دراز کے دشمن پر حملہ کی صلاحیت حاصل کرلی۔ جہاز اور میزائل کا استعمال دوسری جنگ عظیم میں کیا اور ایٹمی بم کے استعمال سے جنگوں کا طریقہ بدل گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سائنس نے بہت زیادہ ترقی کی وائی فائی ٹیکنالوجی کے ذریعہ جنگ کے طریقہ کار بالکل بدل گئے۔ اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ کھل کر جنگ کرنا ایک مشکل کام ہو گیا میڈیا کی ترقی سے حملہ آور کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے مفادات کی جنگ کے لئے امریکہ اور روس سرد جنگ میں داخل ہوئے اور پانچ دہائیوں کے بعد امریکہ کامیاب ہوا۔1992ء کے بعد امریکہ تنہا سپر پاور رہ گیا اور اس نے تیل و دیگر وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے عراق، ایران، کویت، لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو جنگ میں دھکیل دیا۔ امریکہ کے دس سال تک من مانی کے نتیجہ میں القاعدہ جیسی تنظیموں نے سر اٹھایا اور نائن الیون جیسا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں افغانستان پاکستان عراق مشرق وسطیٰ کو پھر جہنم بنا دیا گیا روس کی تباہی کے بعد چین کے لیڈران نے اپنی انفرادی و معدنیاتی وسائل کو استعمال کرکے تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرنا شروع کر دیں اور اپنی صنعتی پیداوار ارزاں قیمت پر فروخت کرکے یورپین ملکوں خصوصاً امریکی مصنوعات کی چھٹی کرا دی۔

خصوصاً ٹیکسٹائل الیکٹرونک آٹو موبائل کنسٹرکشن میٹریل کی مارکیٹ میں اپنا حصہ 30فیصد سے زائد کر لیا۔ پیداواری لاگت میں کمی کی وجہ سے مرسڈیز ایپل جیسی کمپنیوں نے اپنی پیداوار چین میں شروع کر دی۔ اٹلی لیدر و گارمنٹس یورپ اور امریکہ کو سپلائی کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا تھا۔ چین کی کمپنیوں نے اٹلی کی مارکیٹوں کو اپنے قبضے میں لے لیا، اس وقت دنیا میں غیر اعلانیہ تقریباً دس ممالک ہیں جن میں اسرائیل شامل ہے جن میں امریکہ چین ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں اور ان کی سرد جنگ میں ایک دہائی سے تیزی آئی ہوئی ہے۔ عسکری طور پر امریکہ دنیا پرحاوی ہے اور دنیا میں اس کے سینکڑوں فوجی اڈے قائم ہیں لیکن چین فوجی اڈوں کے بجائے اپنے معاشی اڈے مضبوط کرنے میں کامیاب ہوتا جا رہا ہے۔ سی پیک منصوبہ اس کی ایک کڑی ہے۔ امریکہ نے چین کے معاشی پھیلاؤکو روکنے کے لئے چینی مصنوعات پر بے تحاشا ٹیکس عائد کئے لیکن چین کی جوابی کارروائی پر پسپائی اختیار کی۔ امریکہ چین سے ظاہری عسکری جنگ نہیں کر سکتا۔ امریکہ جن ملکوں میں صف آرا ہے چین اس میں مداخلت نہیں کرتا اس کام کے لئے امریکہ کا پرانا حریف روس ہی کافی ہے اس وقت امریکہ اور چین میں مارکیٹ قبضے کی جنگ جاری ہے اور اس میں چین کا پلہ بھاری ہوتا جا رہا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے دونوں ملکوں کی کوشش ہے کہ ایک دوسرے کی پیداواری صلاحیت کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

عسکری جنگ سے ممکن نہیں لیکن بائیولوجیکل جنگ سے ممکن کیونکہ جس ملک کی پیداوار وائرس زدہ ہوگی اس کی طلب و آمد و رفت ختم ہو جائے گی اور وہ ملک معاشی طور پر بدحال ہو جائے گا۔ چین کی وزارت خارجہ نے پچھلے ہفتے بیان جاری کیا چائنا میں کرونا پھیلنے کی وجہ امریکہ ہے اور امریکہ وائرس کو چائنہ و روس کا نام دے رہا ہے۔ درحقیقت یہ بائیولوجیکل جنگ سے جو ایٹم بم سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ ایٹم بم کی تباہی تو ایک محدود حد تک رہتی ہے لیکن اس جنگ میں ہر شخص ایک ایٹم بم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔بڑی طاقتوں نے ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کے چکر میں پورے کرۂ ارض میں تباہی پھیلا دی اس تباہی کے اثرات ایک سال سے پہلے کم نہ ہوں گے اور دوبارہ جنم نہ لینے کی کوئی ضمانت نہیں اس جنگ میں دونوں ملکوں کی برآمدات تباہ ہو گئیں۔ امریکی تیل کی قیمت 22ڈالر ہو گئی اور تقریباً دس ٹریلین ڈالر کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ چین کے ایک شہر ووہان میں تباہی آکر گزر گئی امریکہ کے تین بڑے شہر نیویارک، واشنگٹن اور لاس اینجلس جیسے شہر تباہی کا سامنا کررہے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے اور دنیا کی بڑی طاقتوں کو اپنے رویے درست کرنے چاہئیں اور اس بائیولوجیکل جنگ کو ختم کرنا چاہیے۔ اس جنگ سے دنیا کی معیشت پانچ سال پیچھے چلی گئی ہے اور غریب ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم