حبس کا موسم!

حبس کا موسم!
حبس کا موسم!

  



جنگ گروپ اور جیو نیوز ایک عرصے سے موجودہ حکومت کے ریڈار پر تھا،بالآخر وہی ہوا، جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔میر شکیل الرحمن گناہِ بے گناہی میں دھر لئے گئے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے ان کے خلاف کیس نہیں بنتا تھا، جو بنایا گیا اور پھر نیب کے اپنے قوانین کے مطابق بھی ضابطے کی تکمیل تک گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکتی تھی، انکوائری کے مرحلے پر گرفتاری؟ …… وقوعہ،34 سال پرانا ہے،مَیں نہیں کہتا کہ میڈیا مالکان مقدس ہیں اور اہل ِ صحافت کے خلاف قانون حرکت میں نہیں آنا چاہئے،لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ انتقامی کارروائی ظلم ہے۔میر صاحب گرفتار ہوئے تو سب لوگوں کا دھیان اس طرف گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا: میر شکیل الرحمن مَیں نے تمہیں چھوڑنا نہیں ہے!جو انہوں نے حزبِ اختلاف کے موسم میں کہا، وہ اقتدار میں آ کر درست کر دکھایا۔

اہل ِ قلم یا میدانِ صحافت سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کے لئے، بشرطیکہ وہ حق پرستی کی رسم نبھا رہا ہو،کسی حکومت کے زیر عتاب آنا یا جیل جانا ایک اعزاز ہے، عہد فرنگ میں میر خلیل الرحمن بھی پابند ِ سلاسل ہوئے تھے۔ گویا یہ ایک تسلسل ہے،جو باپ کے بعد بیٹے نے نبھایا۔کیا میر شکیل الرحمن بھی مولانا محمد علی جوہر،مولانا ظفر علی خاں اور آغا شورش کاشمیری کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں؟شاید کچھ ایسا ہی ہے۔ جنگ اور جیو کی ایک اپنی تاریخ ہے۔روایت شکن اور روایت ساز تاریخ!کیا ان کا ایک جرم یہ بھی ہے کہ یہ گروپ لالچ کا شکار نہیں ہوتا۔ان کے کارکنان خوشحال ہوتے،اور اہل ِ اقتدار کے کسی دباؤ یا دھونس دھاندلی میں نہیں آتے؟اس رعایت سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی گرفتاری کے پردے میں وابستگانِ صحافت کو کیا پیغام دیا گیا ہے؟ اور کس کس کو دیا جا رہا ہے؟؟

جنگ پرنٹ اور جیو الیکٹرانک میڈیا کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ عہد ِ حاضر میں صحافت کسی بھی جمہوری ریاست کا ایک ستون ہے۔ میر شکیل الرحمن کو حراست میں لئے جانے سے غیر یقینی کی ایک لہر پھیل گئی ہے۔صحت مند تنقید اور بے لاگ رپورٹنگ جمہوریت کا حُسن ہوتا ہے۔بلاشبہ نیب کے اس اقدام سے حُسن ِ جمہوریت دھندلا اور گہنا گیا ہے! ہاں! ایک بات اور بھی ہے کہ مَیں نے آج تک میڈیا کے خلاف جنگ میں کسی حکمران کو جیتتے نہیں دیکھا۔ ہار کسی بھی آمر یا آمرانہ رویوں کا مقدر ہے۔ حرف و قلم کل بھی فتح یاب ہوئے تھے، آج بھی ہوں گے۔میر شکیل الرحمن حرف و قلم کی آبرو ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ آزادیئ رائے حکومتوں کے حق میں جاتی ہے۔ محض خوشامد اور قصیدہ خوانی سے ماحول حبس زدہ قرار پاتا اور صحیح بات کو بھی غلط تصور کیا جاتا ہے۔ آخر اعتبار اور ساکھ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ سارے معاملے کو گہرائی میں اُتر کے دیکھے،یہ لولی لنگڑی وضاحت ہرگز کافی نہیں کہ یہ خالص نیب کا معاملہ ہے اور نیب ایک آزاد ادارہ!حضور! عوام بند آنکھوں سے بھی منظر ملاحظہ کیا کرتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم