کرونا وائرس: کالم نگاری کی دیر سویر!

کرونا وائرس: کالم نگاری کی دیر سویر!
کرونا وائرس: کالم نگاری کی دیر سویر!

  



کرونا وائرس پھیل چکا ہے اور مزید پھیل رہا ہے۔ ہمارے وزیراعظم نے ایک ہفتہ پہلے کہہ دیا تھا کہ یہ کرونا مزید پھیلے گا اور ساتھ ہی یہ اضافہ بھی کیا تھا کہ اس سے گھبرانا نہیں، لڑنا ہے اور اس پر قابو پانا ہے…… جہاں تک گھبرانے کا تعلق ہے تو یہ ایک نیچرل عمل ہے۔ ہر گھر میں ٹیلی ویژن ہے اور ہر ہاتھ میں موبائل ہے۔ سوشل میڈیا کی کون کون سی ویب سائٹس اور چینل ہیں جو قابلِ اعتبار ہیں اور ان کے پیچھے سیاسی مفادات نہیں اور کون سے ایسے ہیں جو سیاست زدگی کا شکار ہیں اور کسی مخصوص سیاسی پارٹی کے ترجمان اور معاون ہیں۔ آپ اس پراسس کو روک نہیں سکتے۔ آہستہ آہستہ آپ کو معلوم ہوتا رہے گا کہ وہ کون سے چینل اور کون سی سائٹس ہیں جو کہتی ہیں کہ فلاں بٹن دباؤ تاکہ ہم آپ کو ہمیشہ اسی طرح کی ”اچھی اچھی“ خبریں ارسال کرتے رہیں۔ یہ ہمارے میڈیا کا عبوری دور ہے۔ ایک جہانِ نو ہے جو جہانِ کہنہ سے 180 ڈگری مختلف اور متضاد ہے۔ جس طرح گزشتہ سیاسی روایات کو پنپنے میں کئی عشرے لگے اور ہماری کئی نسلوں نے ان سے ”اکتسابِ فیض“ کیا اسی طرح موجودہ سیاسی روایات اور جہانِ نو کو پنپنے میں نجانے کتنا وقت لگے۔ ابھی گزشتہ رویات کے امین اور تازہ واردات کے گزیدہ لوگوں کے زخم تازہ ہیں، ان کو بھرنے میں ایک آدھ عشرہ تو ضرور لگے گا، اس لئے گھبرائیں نہیں۔

جہاں تک کرونا وائرس سے نمٹنے کا سوال ہے تو پاکستانی حکومت وہ تمام کچھ کر رہی ہے جو اس کے بس میں ہے۔ ہمارے ہاں پہلے بھی گزشتہ سیاسی حکومتوں (یا مارشل لائی ادوار میں) زلزلے اور سیلاب وغیرہ آتے رہے ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ان حکومتوں نے ان آفات و بلیّات سے عہدہ برآ ہونے میں کتنی تیزی اور اخلاص یا آہستگی اور منافقت کا مظاہرہ کیا تھا اور آج کی حکومت یہ فریضہ کس طرح ادا کر رہی ہے۔ جہاں دوسرے مالدار اور ترقی یافتہ ملکوں میں کرونا کا پھیلاؤ روز بروز روبہ اضافہ ہے، وہاں ہمارے ہاں الحمدللہ اس کی رفتار تا دمِ تحریر سست ہے۔ ابھی ایسی صورتِ حال نہیں کہ لوگ تن بہ تقدیر ہو کے بیٹھ رہیں ……

ہم نے اجتماعی مقامات کو بند کر دیا ہے۔مساجد، مزارات، تعلیمی ادارے، شاپنگ مالز، بسیں،ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز سب پر جزوی یا کلّی بندشیں عائد کر دی گئی ہیں۔ اگر ان پابندیوں پر عمل پیرا ہونے کو کوانٹی فائی کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے کی 75فیصد ذمہ داری ہماری ہے اور 25فیصد حکومت کی ہے۔ حکومت نے تو اعلان کر دیا ہے کہ ایک دوسرے سے کم از کم دوگز دور رہیں، بار بار ہاتھ دھوئیں، ماسک کو (حسبِ ضرورت) استعمال کریں۔ خود کو گھروں کے قرنطینہ میں بند کر لیں۔ کم از کم تین چار دن تو ایسا کرکے دیکھ لیں۔ میڈیا پل پل کر خبریں دے رہا ہے۔ ٹیلی ویژن چل رہے ہیں، اخبارات وقت پر شائع اور تقسیم ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ کام کر رہا ہے، پاکستان دنیا سے کٹا نہیں جڑا ہوا ہے۔ جہاں دوسرے ملکوں میں کرونا سے اموات کی شرح ہوشربا حد تک زیادہ ہے وہاں پاکستان میں ابھی تک الحمدللہ وہ کیفیت نہیں۔ اس لئے بے جا سراسمیگی کی کوئی وجہ نہیں۔ احتیاط آپ کے اپنے بس میں ہے۔ اگر ایک دوسرے سے ایک دو ہفتے دور رہیں گے تو کون سی قیامت آ جائے گی۔ بچوں کو حکم دیں کہ باہر نہ جائیں،ہر آدھے گھنٹے کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئیں اور دوست احباب سے ملاقاتیں کم سے کم کر دیں۔

مخیر حضرات آگے آ رہے ہیں اور اپنا رول ادا کررہے ہیں۔

ہماری مسلح افواج پر قرنطینہ ٹائپ کی ڈرل البتہ ایک مشکل فریضہ ہے۔ ہر صبح پی ٹی، ڈرل، مختلف کورسز میں حاضری، ایکسرسائزیں، ڈیمانسٹریشنز، تربیتی اداروں کی تدریسی روٹین اور ہسپتال وغیرہ کے معمولات سب اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی پر عمل پیرا ہو رہے ہیں۔ یونٹوں کے کمانڈنگ آفیسرز اپنے ٹروپس میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی ان تمام تدابیر کی آگہی دے رہے ہیں جو ان کو حکامِ بالا کی طرف سے موصول ہو رہی ہیں۔ میں خود کچھ دنوں سے سی ایم ایچ لاہور میں فزیو تھراپی کے لئے جاتا ہوں۔ میں نے بطورِ خاص یہ بات نوٹ کی ہے کہ نہ صرف ڈاکٹر حضرات / خواتین، نرسنگ سٹاف اور پیرامیڈیکل سٹاف بڑی تن دہی سے اپنے روزمرہ کے فرائض ادا کر رہا ہے بلکہ مریض ڈاکٹروں سے اور ڈاکٹر مریضوں سے ایک طے شدہ سماجی فاصلہ (Distance) رکھ رہے ہیں۔ آئسولیشن وارڈوں کی تشکیل و ترتیب مکمل ہو چکی ہے اور مزید بستروں کا اہتمام کیاجا چکا ہے۔

تمام میڈیکل سٹاف کی رخصتیں بند ہیں، ٹریننگ کورسوں کو مختصر (Curtail) کیا جا چکا ہے، ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، کرونا سے بچاؤ اور اس کے ٹیسٹ کی کِٹس (Kits) باقاعدگی سے موصول بھی ہو رہی ہیں اور ان کا استعمال بھی جاری ہے۔ اور سب سے اطمینان بخش امر یہ ہے کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کی تعداد کم سے کم دیکھی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ میڈیا پر جاری ہونے والی ہدایات پر عمل پیرا ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ ان کے ہمسائے ایران میں کرونا وائرس کی پھیلاؤ کی وجوہات کیا تھیں، ہم نے کہاں کہاں غلطیاں کیں۔ بلوچستان، پنجاب اور گلگت بلتستان سے اہل تشیع کی زیارتوں پر جانے والوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے…… یعنی عوام اور حکام ایک صفحے پر آتے معلوم ہوتے ہیں۔

جن باتوں کی ان ابتلائی ایام میں شدید ضرورت ہے ان میں سب سے بڑی بات حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی عمل پیرائی ہے۔ بلاوجہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ حکومت کا اولین فرض ہے کہ وہ کرونا سے متاثرہ اشخاص کے سلسلے میں ایک ایک بات کو عوام کے سامنے رکھے۔ ان سے کوئی چیز چھپائی نہ جائے۔ یہ ایام میڈیا کی سخت آزمائش کے بھی ہیں۔ ہمارے تمام ٹی وی چینل کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ ہیں یا ان کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ پرنٹ میڈیاکی کیفیت بھی یہی ہے۔ کوئی اخبار ایسا نہیں جو کسی سیاسی جماعت کا کلّی یا جزوی ترجمان نہ ہو۔ تمام دنیا میں میڈیا کا یہی چلن دیکھا اور پایا جاتا ہے۔میڈیا کے ناظرین، سامعین اور قارئین کا حال بھی یہی ہے۔ میرا دل اگر کسی ایک جماعت پر فدا ہے تو آپ کے دل میں کسی دوسری سیاسی پارٹی کے لئے نرم گوشہ موجود ہے۔ یہ ”نرم اور سخت گوشے“ ہمیشہ تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ لیکن فی الوقت ان کا التواء ضروری ہے۔

مغربی میڈیا کو بھی دیکھیں تو ان کو آج سچ بولنے کی مجبوری لاحق ہو چکی ہے۔ امریکی اور مغربی یورپی ممالک کا میڈیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ کرونا وائرس کا آغاز اگرچہ چین سے ہوا تھا لیکن آج چین نے اس وباء پر قابو پا لینے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ چین نے اول روز ہی سے ووہان کو لاک ڈاؤن کر دیا تھا۔جن ملکوں نے ایسا نہیں کیا اور سخت احتیاطی تدابیر نہیں اٹھائیں وہ اب پچھتا رہے ہیں۔ اٹلی اور ایران ان میں پیش پیش ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس تک ان کی زد میں ہیں۔ جنوبی کوریانے اول روز ہی سے کرونا کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کئے اس لئے وہاں حالات کنٹرول میں ہیں …… پاکستان نے انٹرسٹی بسوں کی آمد و رفت پر جزوی پابندی لگا دی ہے تو یہ بھی ایک طرح کا شہری لاک ڈاؤن ہے۔ ائر ٹریفک کی مکمل بندش ایک انقلابی اقدام ہے۔ تمام اہم مقامات پر قرنطینہ سنٹرز اور آئسو لیشن وارڈوں کا قیام اور متعلقہ محکمہ جات کی طرف سے ایک وقت مقررہ پر روزانہ کی بریفنگز وقت کا تقاضا تھیں جسے حکومت پورا کر رہی ہے۔

اخباروں میں لکھنے والے میری طرح کے کالم نگاروں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات کی کوریج اور ان پر نقد و نظر کرنا حالات و سانحات کے وقوع کی تیز رفتاری سے بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس لئے قارئین سے درخواست ہے کہ وہ ہمارے کالموں میں اعدادوشمار کی کمی بیشی، واقعات و سانحات کی شدت پر تبصروں اور حکومتی اقدامات (اور نیز اپوزیشن) کی طرف سے ردعمل کے تجزیات کی دیر سویر کو کالم نگاروں کی معذوری سمجھیں …… شکریہ!

مزید : رائے /کالم