کرونا بحران، ایران پر معاشی پابندیاں، کشمیر کی صورتحال عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ: پاکستان

  کرونا بحران، ایران پر معاشی پابندیاں، کشمیر کی صورتحال عالمی برادری کیلئے ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)عالمی کرونا وبائی چیلنج کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش شدید معاشی مسا ئل، ایران پر عائد معاشی پابندیوں کے خا تمے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال کی طرف اقوام عالم کی توجہ مبذول کروانے کیلئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کو خط لکھ دیا جس میں کہاگیا ہے کہ کرونا عالمی وباء کی شکل اختیار کر چکا ہے، پوری انسا نیت کیلئے یہ انتہائی مشکل وقت ہے، عالمی برادری اس عفرت سے نمٹنے میں ہاتھ بٹائے،وزیراعظم عمران خان نے کرونا کے نتیجے میں در پیش انسانی مسئلہ کے تناظر میں ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے پر زور دیا ہے، یقین ہے عالمی برادری ایران میں قیمتی انسانی جانیں بچانے کیلئے مطلوبہ انسانی معاونت کیلئے ہنگامی اقدامات کرے گی، 5 اگست2019 کے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کے نتیجے میں اب تک آٹھ ماہ میں بطور خاص بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہے،پوری دنیا کرونا کے بحران سے نمٹنے کیلئے مو ثر اقدامات کررہی ہے، کشمیری عوام کی حالت زار بدستور وہی ہے جو بہتری کی متقاضی ہے۔ یورپی یونین کو لکھے گئے خط میں کہاگیاکہ کرونا کے اثرات خاص طورپر ترقی پذیر ممالک کیلئے تباہ کن ہیں کیونکہ انہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں نادار طبقات موجود ہیں۔ معا شرے کے سب سے زیادہ شکار ہونیوالے یہ طبقات کرونا سے سب سے زیادہ نشانہ بننے کا خدشہ ہے۔ مگردو ایسے معاملات ہیں جن کی طر ف میں آپ کی توجہ بطور خاص مبذول کرانا چاہتا ہوں،اول معاملہ ایران سے متعلق ہے جو اس وقت عائد پابندیوں کی بناء پر کرونا کی وباء پر موثر انداز میں قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوپارہا۔ بلاشبہ ہم یقین رکھتے ہیں عالمی براد ر ی ایران میں قیمتی انسانی جانیں بچانے کیلئے مطلو بہ انسانی معاونت کیلئے ہنگامی اقدامات کرے گی۔ دوسرا معاملہ یہ ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے عالمی اتحاد اوربھائی چا ر ے اور کمزو ر طبقات کو بچانے کیلئے توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیاہے۔ اپنے حصے کے طورپر وزیراعظم عمران خان نے ترقی پزیر ممالک پر سے قر ض کا بوجھ کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ ترقی پزیر ممالک اپنے وسائل انسانی جانیں بچانے اور معاشی بدحالی کی بہتری کیلئے بروئے کار لاسکیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ کرونا وائرس کے واقعات نے اس عجلت میں مزید اضافہ کردیا ہے کہ عائد قدغنیں فوری ختم کی جائیں تاکہ طبی اور دیگر ضروری سپلائیز کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ اہم معاملات ہیں جن پر عالمی برادری کے گہرے تدبر اور ضروری اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ ممکن ہوسکے۔ امید ہے یور پی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ان امور پر سنجیدہ غور ہوگا۔جی سیون وزارتی ا جلا س بھی ایک اہم موقع ہوگا جس میں عالمی برادری کی جانب سے ان چیلنجوں پر ردعمل سامنے آئے گا۔قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یوم پاکستان 23 مارچ کے حوا لے سے خصوصی پیغام میں کہا پاکستان، اپنے آہنی عزم، سیاسی وسفارتی اور اخلاقی قوت کے ساتھ حق استصواب رائے کے حصول تک، ا پنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، آزمائش کی اس گھڑی میں ہمیں بطور پاکستانی قربانی، ایما ن، اتحاد اور تنظیم کی اعلی اخلاقی اقد ا ر کو اپنانا ہوگا،یہ وہ اقدار ہیں جو نظریہ پاکستان کی بنیاد بنیں، کرونا جیسے مشترکہ دشمن کو پچھاڑنے کیلئے ضر و ری ہے کہ ہم یہی اقدار اور جذبہ اپنے اندر پھر بیدار کریں،آنیوالے دنوں میں یہی سمندر پارمقیم ہم وطن پاکستان کی کامیابی کے اصل ہیروز قرار پائیں گے۔قیام پاکستان کیلئے، ہمارے آباؤ اجداد کی عظیم اور انتھک جدوجہد کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے الگ وطن کے قیا م کیلئے 23 مارچ 1940 کو تاریخی قرارداد منظور کی اور محض سات برس کے قلیل مدت میں آزاد ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح ؒکی بصیرت افروز قیادت میں اس مقصد کے حصول کیلئے عظیم قربانیاں دی گئیں اور کٹھن مشکلات پر قابو پایا۔مخالفین کی توقعات کے برعکس پاکستان نہ صرف قائم ودائم ہے بلکہ کامیابی کیساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان

مزید : صفحہ اول