کراچی سمیت صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا پہلا روز، شہر قائد مکمل طور پر بند

  کراچی سمیت صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا پہلا روز، شہر قائد مکمل طور پر بند

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی سمیت صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا پہلا روز، شہر قائد مکمل طور پر بند کر دیا گیا،قانون نافذ کرنے والوں کی مختلف علاقوں میں ناکہ بندی کے بعد پولیس حکام کی شہریوں کو مسلسل گھروں میں رہنے کی ہدایت دیدی، صوبے میں کرونا وائرس کے مزید 19 کیسز رپورٹ، کل تعداد 352 ہوگئی۔سندھ کے باسیوں کا مہلک وائرس کرونا سے جنگ کا مشن، سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا پہلے روز شاہراہوں، گلی محلوں اور اہم مقامات پر رینجرز اور پولیس کے ناکے لگا دیئے گئے۔رات گئے خلاف ورزی کرنے والوں کی پولیس نے خوب خاطرداری کی،تیس افراد کو حراست میں لیا اور تنبیہ کے بعد رہا کر دیا، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس نے بھرپور کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا۔ پیرکی صبح شہر قائد کی شاہراہوں پر مکمل سناٹا دیکھنے میں آیا، اہم کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے، مجبوری میں کام پر جانے والوں کو اجازت کے بعد سفر کی اجازت دی گئی۔کوروناکے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سندھ بھر میں 15 روز کے لیے لاک ڈاؤن کردیاگیاہے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور موقع پر سزائیں دی گئیں اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔کراچی، حیدرآباد، سکھر، شکارپور، میرپورخاص کی مختلف شاہراہوں پرفوج، رینجرز اور پولیس نے فلیگ مارچ کیا۔سکھر میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر پولیس نے 7 افراد کو گرفتار کرلیا اور 5 کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔کراچی میں متعدد جگہوں پر شہریوں کو خلاف ورزی کرنے پر سزا کے طور پر اٹھک بیٹھک کے ساتھ ڈنڈے بھی کھانے پڑے۔کراچی میں مختلف مقامات پر کنٹینر لگا کر روڈ بند کر دیے گئے ہیں، ماڈل کالونی سے ایئر پورٹ جانے والے روڈ کو گاڑیوں کیلیے بند کیا گیا ہے جبکہ ملیر ہالٹ سے ماڈل کالونی جانے والے روڈ کو بھی بند کردیاگیاہے۔شاہ فیصل کالونی میں بھی رینجرز اہلکار کے علاوہ پولیس اور ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی تعینات کیئے گئے ہیں۔لاک ڈاؤن کے دوران بینک اپنی تمام سروسز جاری رکھیں گے، عوام کو بجلی، پانی، ٹی وی کیبل، انٹرنیٹ،اور ٹیلی کام سروسز بلا تعطل ملتی رہیں گی۔لاک ڈاؤن کے آغاز کے پہلے دن صبح سویرے شہر میں صرف دودھ اور راشن کی دکانیں کھلی نظرآئیں، کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران دودھ، راشن، میڈیکل اسٹور پر پابندی نہیں ہے اور شہریوں نے اپنے گھروں کے قریب واقع دکانوں سے خریداری کی۔لاک ڈاون پر عملدرآمد کرانے کے لئے پاک فوج، رینجرز اور پولیس کا گشت جاری رہا، جبکہ شہر کی مرکزی سڑکوں کو بیریئر لگاکر بند کردیا گیا ہے۔وزیراعلی سندھ کے احکامات کے مطابق لاک ڈاون کے دوران سندھ بھر میں سبزی، کریانہ اور میڈیکل اسٹورز کو استثنی حاصل ہے۔سندھ میں لاک ڈاؤن کے پہلے روز نواب شاہ میں تمام تجارتی مراکز، بازار اور ٹرانسپورٹ بند رہے، سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی، لوگ گھروں تک محدود رہے۔جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ اور شکار پور کے بھی بازار، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بھی بندرہے، لوگ گھروں تک محدود، جبکہ سڑکوں پر آمد و رفت نہ ہونے کے برابرتھی۔بدین، تھرپارکر، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، پڈ عیدن، نوشہروفیروز، گھوٹکی اور اوباڑو میں بھی لوگ اپنے اپنے گھروں تک محدود رہے، سڑکوں پر ٹریفک برائے تھا، بازاروں، تجارتی و کاروباری مراکز بند رہیں، کریانہ، سبزی، دودھ دہی اور میڈیکل اسٹورز کھلے رہے۔سندھ کے مختلف شہروں میں پولیس اور رینجرز نے گشت بڑھا دیا ہے، ضروری سامان،سودا سلف یا اسپتال جانے والوں کو شناختی کارڈ دکھا کر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔دوسری جانب آئی جی سندھ مشتاق مہر نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے فیصلے کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر