میئر کراچی کا کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار

میئر کراچی کا کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے کراچی میں کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام شہریوں کا اپنے اپنے گھروں میں بیٹھنا ہی اس کا واحد حل ہے، اگر لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل نہ کیا گیا تو بھیانک نتائج آسکتے ہیں، ہمارے پاس یورپی ممالک امریکہ اور چین جیسے وسائل نہیں ہیں اس لئے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کریں، یہ بات انہوں نے یوم پاکستان کے موقع پر پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہی، انہوں نے کہا کہ یہ وقت اختلافات کا نہیں ہے بلکہ تمام تر اختلافات بھلا کر اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ اس صورتحال کا مقابلہ کرنیکا ہے، انہوں نے کہا کہ آج ہمیں 23 مارچ 1940جیسے جذبے اور اتحاد کی ضرورت ہے کیونکہ اسی جذبے نے دو قومی نظریے کو فتح سے ہمکنار کیا، اقبال کے خوابوں کی تعبیر ملی اور قائد اعظم کی محنت کے ثمر کا باعث بنا، بے سرو سامانی کے عالم میں پاکستان کی صورت میں اتنی بڑی منزل کا حصول کوئی آسان کام نہیں تھا، قرار داد پاکستان کی منظوری نہ صرف اس خطہ اراضی میں ایک اہم واقعہ تھا بلکہ مسلمانوں کو سیاسی، علمی اور مذہبی ترقی کے بھی مواقع بھی ملے، یہ سب قیادت کی پختہ سیاسی شعور اور دور اندیشی کے باعث ہی ممکن ہوا، موجودہ صورتحال میں بھی ہمیں اتحاد، ملی یکجہتی اور جذبے سے کام لینا ہوگاتاکہ کورونا وائرس کے باعث جو صورتحال ہمیں درپیش ہے اس سے نکل سکیں، میئر کراچی نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث کراچی میں تمام تر معاشی تجارتی اور سماجی سرگرمیاں بند ہیں، میں مخیر حضرات اور اداروں سے ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ان لوگوں کا ساتھ دیں جو معاشی پریشانی کاشکار ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے گھروں میں جہاں راشن کی ضرورت ہو مہیا کریں تاکہ مل جل کر کورونا وائرس جیسی وباء کا مقابلہ کرسکیں، پاکستان کی عوام نے ہمیشہ مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے اور اب بھی مجھے پوری امید ہے کہ ہم اس سنگین صورتحال سے نکل جائیں گے، میئر کراچی نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے رہنمااصولوں کو اپنا کر ہی ہم اس سنگین صورتحال سے نکل سکیں گے، شہری موجودہ صورتحال سے مایوس نہ ہوں اور اپنے اپنے گھروں میں قیام کرکے کورونا وائرس کو شکست دیں۔

مزید : صفحہ اول