’ لوگوں میں کنفیوژن ہے کہ باہر نکلا جاسکتا ہے یا نہیں نکلا جاسکتا‘ اینکر پرسن سعدیہ افضال کے سوال پر وزیر اعظم نے وضاحت کردی

’ لوگوں میں کنفیوژن ہے کہ باہر نکلا جاسکتا ہے یا نہیں نکلا جاسکتا‘ اینکر ...
’ لوگوں میں کنفیوژن ہے کہ باہر نکلا جاسکتا ہے یا نہیں نکلا جاسکتا‘ اینکر پرسن سعدیہ افضال کے سوال پر وزیر اعظم نے وضاحت کردی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاک ڈاﺅن کی آخری سٹیج کرفیو ہے، جب کرفیو پر چلے جاتے ہیں تو اس کے بعد کوئی سٹیج نہیں ہوتی، اگر 2 ہفتے بعد کرفیو لگادیا اور بیماری پھیلتی گئی تو پھر کیا کریں گے؟

وزیر اعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں ، اینکر پرسنز اور تجزیہ کاروں سے ملاقات کے دوران اینکر پرسن سعدیہ افضال نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ آپ نے کہا کہ کرفیو نہیں لگے گا لیکن آپ کے خطاب کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس آگئی، لوگوں میں کنفیوژن ہے کہ باہر نکلا جاسکتا ہے یا نہیں نکلا جاسکتا، اٹلی اور فرانس میں صورتحال اس لیے خراب ہوئی کیونکہ وہ تاخیرسے لاک ڈاﺅن کی طرف گئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے سعدیہ افضال کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاﺅن کی آخری سٹیج کرفیو ہے، جب کرفیو پر چلے جاتے ہیں تو اس کے بعد کوئی سٹیج نہیں ہوتی، اگر 2 ہفتے بعد کرفیو لگادیا اور بیماری پھیلتی گئی تو پھر کیا کریں گے؟ڈر ہے کہ جب کرفیو لگادیں گے تو نچلا طبقہ کیا کرے گا؟ کچی آبادیوں کو بند کردیا تو وہاں کھانا کون پہنچائے گا؟

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں کرفیو لگانا پڑے تو اس کیلئے تیاری کی ضرورت ہے، ہمیں والنٹیئرز کی فورس بنانی پڑے گی جو گھروں میں لوگوں کو کھانا فراہم کرے گی، کھانے پینے کی دکانیں کھولی ہوئی ہیں، مسئلہ وہاں ہے جہاں لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔

مزید : قومی