سنگاپور لاک ڈاﺅن کیے بغیر کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے لگا، یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ بھی جانئے

سنگاپور لاک ڈاﺅن کیے بغیر کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے لگا، یہ کیسے ممکن ...
سنگاپور لاک ڈاﺅن کیے بغیر کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے لگا، یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ بھی جانئے

  



سنگاپور(مانیٹرنگ ڈیسک) سنگاپور لاک ڈاﺅن کیے بغیر کورونا وائرس سے جنگ جیت رہا ہے اور سنگاپورحکومت نے یہ سب کیسے کیا؟ سن کر آپ بھی اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ دی پرنٹ کے مطابق اب تک سنگاپور میں کورونا وائرس کے صرف 266کیس سامنے آئے ہیں اور کوئی موت نہیں ہوئی۔ وہاں وائرس پھیلنے کی شرح پوری دنیا میں سب سے کم رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنگا پور پہلے سے ہی اس وباءکے لیے تیار تھا، اتنا پہلے کہ ابھی کورونا وائرس آیا بھی نہیں تھا۔ 2002-03ءمیں جب سارس نامی وباءپھیلی تھی تو سنگاپورکا انفراسٹرکچر اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس وقت سنگاپور حکومت نے آئندہ سالوں میں اپنا انفراسٹرکچر ایسی وباﺅں کے لیے تیار کیا۔ نئے آئسولیشن ہسپتال تعمیر کیے، نیگیٹو پریشر رومز بنائے گئے اور ایسی وباﺅں کے لیے قانون سازی کی گئی۔

اس کے بعد جب 31دسمبر کو چین میں کورونا وائرس پہلی بار رپورٹ ہوا، سنگاپور نے اسی وقت اس وباءنے نمٹنے کی تیاری شروع کر دی۔ بہت سا کام وہ پہلے ہی کر چکا تھا اور باقی اس نے وباءکے اپنے ملک میں آنے سے پہلے کر لیا۔ جب عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا، تب تک سنگاپور اس وباءکا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو چکا تھا۔ سنگاپور کے حکام کا کہنا ہے کہ ”جب کورونا وائرس چین میں پھیلا تو ہم جان گئے تھے کہ یہ وباءبڑی تباہی لانے والی ہے کیونکہ اس نے 1ارب 40کروڑ آبادی کے ملک کو گھٹنوں پر کر دیا تھا۔“ رپورٹ کے مطابق اسی وقت تائیوان، ہانگ کانگ، ساﺅتھ کوریا اور خطے کے دیگر ممالک بھی وباءکی سنگینی کو بھانپ گئے اور اس کے لیے اقدامات شروع کر دیئے تھے۔ اس وقت تک باقی دنیا اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کر رہی تھی۔

سنگاپور حکومت نے ایک منفرد کام یہ کیا، جو چین نے بھی نہیں کیا، کہ وہ مشکوک افراد کے ٹیسٹ کرتی اور جن کے ٹیسٹ مثبت آتے، انہیں واپس کمیونٹی میں نہیں جانے دیتی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ گھروں میں آئسولیشن کوئی مناسب آئیڈیا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنی فیملی کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ چنانچہ سنگاپور میں ٹیسٹ مثبت آنے والے لوگوں کو اسی وقت گھر جانے کی اجازت دی جاتی تھی جب ان میں وائرس بالکل ختم ہو جاتا تھا۔ سنگاپور حکام نے وباءکے ان دنوں میں شہریوں کے ساتھ کمیونیکیشن بھی مسلسل اور بلاتعطل جاری رکھی اور ٹیسٹ کے لیے آنے والے ہر شخص کا ٹیسٹ کیا اور اگر مثبت آیا تو اسے آئسولیشن میں رکھا۔ وہ مسلسل شہریوں کو ہدایات جاری کرتے رہے کہ اگر آپ کو کھانسی وغیرہ ہے تو گھر کے اندر رہیں اور اگر آپ کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا شبہ ہے تو فوری طور پر ٹیسٹ کے لیے جائیں۔ یہی وہ اقدامات تھے جن کی وجہ سے سنگاپور حکومت اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب رہی اور بغیر لاک ڈاﺅن کے ہی اس موذی وباءکے خلاف جنگ جیت رہی ہے۔

مزید : بین الاقوامی /کورونا وائرس