اگر کرفیو لگانا پڑا تو پاکستان کے پا س خوراک کا کتنا ذخیرہ ہے؟ وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی نے پاکستانیوں کو خوش کردیا

اگر کرفیو لگانا پڑا تو پاکستان کے پا س خوراک کا کتنا ذخیرہ ہے؟ وفاقی وزیر ...
اگر کرفیو لگانا پڑا تو پاکستان کے پا س خوراک کا کتنا ذخیرہ ہے؟ وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی نے پاکستانیوں کو خوش کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی منڈی میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جس میں مزید کمی بھی آئے گی اس لیے ناجائز منافع خور ذخیرہ اندوز ی کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں، حکومت کے پاس بھی 2 مہینے تک کی سپلائی موجود ہے۔

وزیر اعظم کے ہمراہ سینئر صحافیوں سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں 90 فیصد غذائی ضروریات موجود ہیں، اس سال ہم 82 لاکھ ٹن گندم خرید رہے ہیں تاکہ آٹے کی قیمت میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔ پاکستان 70 لاکھ ٹن چاول پیدا کرتا ہے جن میں سے 35 لاکھ ٹن برآمد کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے پیاز کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے، آلو کی فصل آنے والی ہے، 43 لاکھ ٹن آلو پیدا ہوگا جبکہ ہمیں 40 لاکھ ٹن کی ضرورت ہے، ٹماٹر سندھ سے ختم ہورہا ہے اور پنجاب میں شرو ع ہورہا ہے۔ہم دالیں بیرون ممالک سے درآمد کرتے ہیں، اس وقت ملک کے اندر 2 ماہ کی ضرورت کی دالیں موجود ہیں اور 2 مہینے کی ضرورت کی دالیں مزید منگوائی جارہی ہیں، اپریل میں دالوں کی قیمت 35 سے 40 روپے کم ہوجائے گی۔ہمارے پاس گھی کا 80 ہزار ٹن کا سٹاک موجود ہے، عالمی منڈی میں گھی کی قیمتیں 200 ڈالر کم ہوئی ہیں اور آگے بھی کم ہوں گی۔

خسرو بختیار نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں سے کہوں گا کہ آگے اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی اس لیے ذخیرہ اندوزی سے آپ کو نقصان ہوگا۔

مزید : قومی /کورونا وائرس