’تبلیغی اجتماع اور جمعہ کی نماز میں بھی لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اس حوالے سے ۔۔۔‘ سوال پر وزیر اعظم نے واضح کردیا

’تبلیغی اجتماع اور جمعہ کی نماز میں بھی لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اس حوالے سے ۔۔۔‘ ...
’تبلیغی اجتماع اور جمعہ کی نماز میں بھی لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اس حوالے سے ۔۔۔‘ سوال پر وزیر اعظم نے واضح کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ساتھ ملاقات کے دوران اینکر پرسن عنبر رحیم شمسی نے ان سے سوال کیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت اجتماعات پر تو پابندی لگارہی ہے لیکن تبلیغی اجتماع اور جمعہ کی نماز کے حوالے سے کیا حکمت عملی بنائی ہے، ہم سنگا پور اور جنوبی کوریا جیسے اقدامات کیوں نہیں اٹھا پارہے؟

عنبر رحیم شمسی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ علما بھی کہہ رہے ہیں لیکن ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ جہاں بھی لوگ جمع ہوں گے تو وہاں وائرس پھیلنے کا چانس ہے، اگر ایک دفعہ وائرس پھیلا تو وہ بیمار اور بوڑھوں کو ہسپتال لے جانا پڑے جس کے بعد ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی، اس سے بچنے کیلئے ہم خود ہی اپنے آپ کو ڈسپلن کریں ، جتنا ہم ڈسپلن کریں گے اتنی ہی ہمیں ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

وزیر اعظم نے خاتون اینکر کے دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ پاکستان کادوسرے ممالک کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو یہ بھی دیکھا کریں کہ سنگاپور اور جنوبی کوریا کی آمدنی 50 ہزار ڈالر فی کس ہے اور ان کی آبادی پاکستان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ کورنا وائرس کے خلاف یہ جنگ دنیا کی کوئی حکومت اس وقت تک نہیں جیت سکتی جب تک ساری آبادی مل کر نہیں لڑتی ، ہم لوگوں سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ جمع نہ ہوں ، بد قسمتی سے لوگوں کو سنگینی کا اندازہ نہیں ہے، چین نے عوام کے تعاون سے جنگ جیتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے نوجوانوں پر مشتمل والنٹیئر فورس بنائی جائے گی جو عوام میں جا کر آگاہی دے گی، ہمیں خوف تھا کہ یہ وبا بیرون ممالک کی طرح پھیل جائے گی لیکن یہاں اس طرح نہیں پھیلی جس پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں۔

مزید : قومی /کورونا وائرس