کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہفتے 10 دن کیلئے مکمل لاک ڈاﺅن کرکے کیسز کا اندازہ لگالیا جائے؟ اینکر پرسن عادل عباسی کے سوال پر وزیر اعظم نے کیا جواب دیا؟

کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہفتے 10 دن کیلئے مکمل لاک ڈاﺅن کرکے کیسز کا اندازہ ...
کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہفتے 10 دن کیلئے مکمل لاک ڈاﺅن کرکے کیسز کا اندازہ لگالیا جائے؟ اینکر پرسن عادل عباسی کے سوال پر وزیر اعظم نے کیا جواب دیا؟

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ساتھ ملاقات میں اینکر پرسن عادل عباسی نے تجویز دی کہ پتا نہیں ہے کہ لاک ڈاﺅن جیسی صورتحال کب تک چلے گی اس لیے تین مہینے کی قسطیں کرنے کی بجائے بلوں کی مدت مزید بڑھائی جانی چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مہنگائی کے اس دور میں حکومت کی طرف سے فراہم کیے جانے والے 3 ہزار روپے کسی خاندان کیلئے کافی ہوں گے؟ عادل عباسی نے وزیر اعظم کو یہ بھی تجویز دی کہ حکومت کرفیو کی طرف نہیں جانا چاہتی لیکن ایک ہفتے یا 10 دن کیلئے مکمل لاک ڈاﺅن کردے ، اس دوران کیسز کا اندازہ لگالے اور پھر اگلی حکمت عملی تیار کرلے۔

عادل عباسی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے، دنیا میں کوئی نہیں بتاسکتا کہ کیا ہوگا، وہ ممالک جن کے پاس ہم سے زیادہ وسائل ہیں ان کی حالت دیکھ لیں، امریکہ میں کرفیو نہیں ہے بلکہ لاک ڈاﺅن ہے لیکن اس کے اوپر بھی بحث چل رہی ہے کہ اس سے ان کی معیشت تباہ ہوجائے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت صوبوں کو فیصلے کرنے چاہئیں کیونکہ صوبوں کے اندر ایریاز ہوں گے جہاں بیماری پھیلے گی ۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم جو قدم اٹھا رہے ہیں وہ ٹھیک کر رہے ہیں؟ اگر آج سارا لاک ڈاﺅن کردیں اور 10 دن بعد بیماری پھیلنے شروع ہوگئی تو اس کے بعد ہم کیا کریں گے؟

عمران خان نے بتایا کہ تمام تر وسائل کے باوجود چین کو اس پر قابو پانے میں 2 مہینے لگے ہیں ، ہم بحیثیت قوم اس کا مقابلہ کریں گے، آپ مطمئن ہوجائیں کہ ہم صبح سے لے کر شام تک یہ دیکھ رہے ہیں کہ فوڈ سکیورٹی، معیشت ، ڈاکٹرز اور آلات کی فراہمی کیسے بہتر بنائی جائے، ہم مسلسل ریویو کر رہے ہیں ، جو بھی کرسکے وہ کریں گے۔

مزید : قومی /کورونا وائرس