کیا واقعی ماریہ بی کے شوہر نے کرونا وائرس کے شکار ملازم کو وہاڑی بھگا یا تھا ؟اصل کہانی سامنے آگئی

کیا واقعی ماریہ بی کے شوہر نے کرونا وائرس کے شکار ملازم کو وہاڑی بھگا یا تھا ...
کیا واقعی ماریہ بی کے شوہر نے کرونا وائرس کے شکار ملازم کو وہاڑی بھگا یا تھا ؟اصل کہانی سامنے آگئی

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی اور ان کے شوہر طاہر سعید نے کرونا وائرس کا شکار ملازم کو وہاڑی بھیجنے کی وجہ بتا دی ۔

اپنے ویڈیو پیغام میں ماریہ بی نے کہا کہ کچھ دن سے میری فیملی سے متعلق عجیب خبریں پھیل رہی ہیں اور پھر میری ویڈیو وائرل ہو گئی ۔اس کے بعد یہ ویڈیو بنانا ضروری ہو گئی کیونکہ اس میں ویڈیو میں کچھ غلط فہمیاں تھیں ۔سب سے پہلے میں وزیراعظم کا شکریہ کرتی ہوں ،مجھے نہیں پتہ تھا کوئی میرے درد کو دیکھے گا ،آرمی نے بھی ساتھ دیا کیونکہ پولیس سے مجھے کوئی توقع نہیں تھی ۔ہمارا باورچی وہاڑی میں رہتا تھا اور وہ چھٹیوں کے لیے گیا ،تب تک کوئی وباءنہیں تھی ۔باورچی گیارہ مارچ کو واپس آگیاتب تک ہمارا کورنٹین چل رہا تھا ،اٹھارہ تاریخ کو باورچی نے بتا یا کہ مجھ پر علامات ظاہر ہو رہی ہیں ۔چغتائی لیب کو کال کی اور باورچی کا ٹیسٹ کرایا ،دو دن بعد مثبت رپورٹ آگئی،جس پر میر ا بہت برا حال ہوا ۔میں نے اسے کہا کہ میرے سرونٹ کوارٹر میں ایک فیملی رہتی ہے اس کے ساتھ خود کو کورنٹین کرلو ،کچھ گھنٹے کورنٹین ہونے کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگا کہ باجی میرے ساتھ ایک فیملی ہے ،ان کو وائرس ہو سکتا ہے ،مجھے اگر کورنٹین ہی کرنا ہے تو مجھے گھر بھیج دیں ،میر ے بھائی بہن میرا خیال کرلیں گے ۔جس پر میں نے اسے جانے کی اجازت دے دی لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کو کچھ ہدایات کیں جن میں سے پہلے نمبر پر اسے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر نہیں جانا ،باورچی کو پرائیویٹ گاڑی پر بھیجنے کے لیے زیادہ پیسے دئیے ،پھر اسے کہا کہ گھر جا کر الگ کمرے میں رہنا ہے کسی کے ساتھ نہیں ملنا ،آپ کی وجہ سے لوگوں کو کرونا لگ سکتا ہے ۔باروچی کے جانے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے بہت سی کالز موصول ہوئیں جن میں باروچی کے بارے میں پوچھا گیا جنہیں اس سے متعلق تمام معلومات فراہم کی گئیں ۔

طاہر سعید نے بتا یا پولیس والے بڑے برے طریقے سے میرے گھر میں داخل ہوئے ،دروازوں کو بندوقوں کے بٹ مار کر توڑنے کی کوشش کی گئی،جب میں نے گھر کا دروازہ کھولا تو مجھے دھچکا لگا کہ دو پولیس سٹیشنز سے تین گاڑیاں میرے گھر کے باہر کھڑ ی تھیں اور 20سے 25اہلکار مجھے لینے آئے تھے ،اہلکاروں نے مجھ سے شناخت مانگی جس کے بعد ایس ایچ او نے کہا کہ یہ ہی بندہ ہے اسے لے چلو ۔میں نے کہیں بھی مزاحمت نہیں کی بلکہ بار بار یہ پوچھتا رہا کہ کس سلسلے میں آئے ہیں ،مجھے کیوں لے کر جا رہے ہیں ؟میرے گھر میں بیوی اور بچے ہیں ،وہ پریشان ہو جائیں گے لیکن اہلکاروں نے کوئی بات نہ سنی ۔میں نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ اگر آپ کورونا کے سلسلے میں آئے ہیں تو اتنا قریب قریب کھڑے ہو کر آپ لوگ خود خطرہ پیدا کر رہے ہیں ۔

مزید : تفریح