” خلا “

” خلا “

  

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب ریل کا نظام ابھی ڈی ریل نہیں ہوا تھا۔ ریلوے لوگوں کے لئے لمبے سفر کی سب سے بہتر آپشن تھی۔ ٹرین کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ میں اس بات پر خوشی سے پھولا نہ سما رہاتھا کہ گاڑی وقت پر آئی تھی اور میں باوجود بھیڑ کے اس پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔برتھ یا سیٹ ملنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ دل مطمئن تھاکہ سیٹ نہیں ملی تو نہ سہی۔ بجائے ایک ہی نشست پر محدود ہونے کے اب پورے کا پورا ڈبہ میری دسترس میں تھا۔ مَیں کہیں بھی کھڑا ہو سکتا تھا، مگر میں نے دروازے میں کھڑا ہونے کو ترجیح دی کہ اس سے راستے کے مناظر سے بھی لطف اندوز ہو ا جا سکتا تھا۔

گاڑی چونکہ پنجاب کے میدانوں سے گزر رہی تھی، اِس لئے باہر سے گزرتے مناظر، سبزے اور ہریالی سے بھرپورتھے۔ لہلہاتی کھیتیاں، بلند و توانا درخت ، نہریں اور چمکتے پانی کی چاندی اگلتے ٹیوب ویل سب کے نظاروں نے احساس ہی نہ ہونے دیا کہ مجھے دروازے میں کھڑے دوگھنٹے سے زیادہ ہو چکے تھے۔ تھکن کی وجہ سے بیٹھنے کی خواہش جاگ اٹھی اور اسی خواہش کی انگلی تھامے میں نے ڈبے کے اندر کا رخ کیا۔

ڈبے کی تمام سیٹیں ٹھسا ٹھس بھری ہوئی تھیں، جن مسافروں کو جگہ مل چکی تھی ان کے چہروں پر طمانیت اٹھکیلیاںکھیل رہی تھی۔ سیٹوں سے محروم لوگ کسی نہ کسی سہارے کو تھام کر بیٹھے ہوئے مسافروں کو سوال بھری نظروں سے دیکھتے تھے، مگر سیٹوں پر بیٹھے ہوئے مسافروںکے چہروں پر متمول ملکوں کی طرح بیگانگی چھائی ہوئی تھی اور وہ دانستہ ان سے نظریں چرائے کھڑکی کے باہر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔

میرا سفر چونکہ بہت دور کا تھا ،لہٰذا مجھے امید تھی کہ مجھے کہیں نہ کہیں سیٹ مل جائے گی، کیونکہ میری منزل سے پہلے بے شمار اسٹیشن آنا تھے۔ تاہم مجھے یہ خیال رہ رہ کر آتا کہ اگر بیٹھے ہوئے لوگ چاہیںتو پوری برتھ پر ایک دو مسافروں کو آسانی سے جگہ دی جا سکتی ہے، مگر وہ سب بے اعتنائی سے بیٹھے تھے۔ انسان بھی کتنا خود غرض اور بے حس ہے کہ کسی دوسرے کی تکلیف کا احساس نہیں کرتا ورنہ اس کا تھوڑا سا ایثار اور قربانی دوسروں کی محرومیوں کا مداوا بن سکتا ہے۔

یکا یک قسمت نے یاوری کی اور ایک مسافر نے اپنی منزل آنے پر اپنی جگہ چھوڑی۔ مَیں لپک کر وہاں براجمان ہو گیا۔ وہاں بیٹھتے ہی پورا ماحول بدل گیا۔ پورا سماں کیف آور ہو گیا۔ باہر سے گزرتے مناظر نے دل لبھانا شروع کر دیا، مگر اس ماحول میں مجھے کھڑے ہوئے لوگ زہر لگنا شروع ہو گئے کہ ان کی وجہ سے تنگی، گھٹن اور رش کا احساس ہوتا تھا۔ خیر میں نے انہیں نظر انداز کر کے باہر نظریں جمادیں۔ رات ہو چکی تھی، لہٰذا اب اُترنے والے مسافروں کی تعداد چڑھنے والے مسافروں کی تعدادسے زیادہ تھی۔ تھوڑی دیر میں ساتھ والی سیٹ خالی ہو ئی تو میں زیادہ پھیل کے بیٹھ گیا،جس کی وجہ سے زندگی بڑی سہانی محسوس ہونے لگی۔پھر پوری کی پوری برتھ خالی ہوگئی ۔ میں جتنا پھیل کے بیٹھ سکتا تھاپھیل کے بیٹھا،مگر پھر بھی پوری برتھ بھر نہ سکا۔ مجھے نفسیاتی طور پر بے چینی اور جھنجھلاہٹ محسوس ہونے لگی۔ میں ساری برتھ پر پھیلنا چاہتا تھا، مگر جسم پھیلنے سے قاصر تھا۔ میں سب خالی سیٹوں کو اپنے قبضہ قدرت میں لانا چاہتا تھا، مگر میرے جسم اور میرے پھیلاﺅ کی اپنی حدیں تھیں۔ اس سے آگے جانا میرے لئے ممکن نہ تھا۔ تو مجھے احساس ہو ا کہ کھڑا ہونے کے دوران میری محرومی نے میرے لاشعور میں ایک خلا سا پیدا کر دیا۔ اگرچہ مجھے سیٹ مل چکی تھی، مگر اندر کا خلا، محرومی اور حرص نے مجھے بے چین کر رکھا تھا یا شاید یہ حرص و آز انسان کی فطرت ہی میں شامل ہے۔

مجھے لیو ٹالسٹائی یاد آگیا۔لیو ٹالسٹائی روسی مصنف ہے جس کے ناولوں اور افسانوں کی شہرت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔ اس کے شہرہ آفاق ناول وار اینڈ پیس اور اینا کیری نینا سے عدم واقفیت ایک پڑھے لکھے آدمی کے لئے جہالت کا طعنہ بن سکتی ہے ، کیونکہ یہ ناول ہر عہد میں مقبولیت کے نصف النہار پر جگمگاتے رہے ہیں۔ ٹالسٹائی نے زندگی کی بے رحم حقیقتوں کو بے نقاب اور انسانی نفسیات کے مختلف پہلوﺅں کو بڑی مہارت اور خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔

ٹالسٹائی کے افسانوں میں سے ایک افسانہ ہے، جس کا نام ہے "How much land does a man need" ”ایک بشر کو آخر کتنی زمین چاہئے “ ۔ اس افسانہ کا مرکزی کردار پاہم نامی ایک کسان ہے جو کہ آغاز میں ایک بے زمین ہاری ہوتا ہے اور بڑی تگ و دو کے ساتھ 20 ایکڑ زمین خریدتا ہے ۔ یہیں سے مزید سے مزید حاصل کرنے کی تڑپ اس کے قلب و ذہن میں بسیرا کر لیتی ہے ۔ آخر کاروہ ایک دُور دراز علاقے میں زمین خریدنے کے لئے پہنچتا ہے۔ بشکیر سردار اسے ایک ہزار روبل کے بدلے یہ پیشکش کرتا ہے کہ وہ صبح سے غروب آفتاب تک جتنی زمین نشان زد کرلے گا وہ اس کا مالک ٹھہرے گا۔یعنی وہ غروب آفتاب تک پیدل جتنا بڑا دائرہ چلے گا اتنی زمین اس کی ملکیت قرار پائے گی۔ وہ زیادہ سے زیادہ زمین گھیرنے کے لالچ میں بھاگتا رہا اور غروب آفتاب سے پہلے جائے مقررہ پر تو پہنچ گیا ،مگر منزل پر پہنچ کر ورماندگی اور تھکن کی وجہ سے گِراا ور دم توڑ دیا۔ وہ اگر چاہتا تو سکون کے ساتھ اتنا دائرہ چل سکتا تھا، جس کے احاطے میں آئی ہوئی زمین اس کی گزر اوقات کے لئے کافی سے بھی زیادہ ہوتی، مگر اس کے طمع نے اس کو تھوڑے پر قناعت نہ کرنے دیا اور اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس کے ملازم نے اسی بیلچہ سے ،جس سے پاہم زمین کی حد براری کرتا رہا تھا ،چھ فٹ لمبا ایک گڑھا کھودا اور اس کی لاش کو اس میں گاڑ دیا۔ یہ تھا قطعہ اراضی جو کہ اسے درکار تھا یا کسی بھی انسان کو درکار ہے۔

اِسی طرح اگر انوکھے دیس کے باسیوں پر نظر دوڑائی جائے تو اکثر لیوٹالسٹائی کے افسانے کے کسان لگتے ہیںجو اپنی خواہشوں کے بڑے سے بڑے دائرے بنا کربھاگ رہے ہیں ۔ ان کی اس اندھی دوڑ میں کتنے ہی لوگوں کی آرزوئیں اور خوشیاں کچلی جائیں۔ ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ زندگی کا واحد مقصد زیادہ سے زیادہ دولت کا ارتکاز ہے ۔ اس کے لئے جو چور بازاری۔دھاندلی روا رکھی جا سکتی ہے رکھی جاتی ہے۔ ٹالسٹائی کے افسانے میں تو قطعہ زمین کا بڑے سے بڑا احاطہ کرنے کی کوشش میں کسان کی موت ہو گئی، مگر آج خواہشوں کے بسیط دائروں میں بھاگتے بھاگتے انسان یعنی انسانیت مر جاتی ہے اور پیچھے چلتے پھرتے سائے رہ جاتے ہیں۔

لوگوں کے لالچ کی کوئی حد نہیں ہے۔ اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے ۔ اچھی تنخواہ ہے یا پُھولتا پھلتاکاروبار ہے کہ خرچ کر کے بہت کچھ پس انداز ہو جاتا ہے ۔ اس کا مصرف ،بجائے خدمت خلق کے، یہ نظر آتا ہے کہ دو چار پلاٹ خرید لو یا کھانے کی اجناس سٹور کر لو۔ اس سے یقینا منافع تو ہو گا، مگرکتنی مہنگائی اور گرانی بڑھے گی؟ اس طرف کسی کا دھیان نہیں۔ کسی کو غرض نہیںکہ گرانی کی وجہ سے کتنے ہی سفید پوش اور عزت دار لوگ محرومیوں اور غربتوں کی گھاٹ اتر گئے۔

ارباب اختیار کو دیکھیں۔ اچھی بھلی ملیں اور فیکٹریاںچل رہی ہیں۔ وسیع و عریض زرعی جاگیریں بھی ہیں جن سے کروڑوں کی آمدنی تو ہوتی ہو گی۔ بلند و بالا سیاسی مناصب سے وابستہ مشاہرہ اور مراعات اتنی ہیںکہ متوسط طبقے کی آنکھیں رشک سے پھٹ سکتی ہیں۔ مگر روح کی حرص اور آز ، یہاں بھی آڑے آتی ہے اور محض اپنے لئے جاتی اسمبلیوں سے مزید مراعات منظور کروا لی جاتی ہیں۔ ارباب بست و کشاد نت نئے بہانوںسے اپنے لئے زیادہ سے زیادہ مالی منفعت کا اہتمام کرتے ہیں ۔بیسویں کاروبار بھی انکے لالچ کو پورا نہیں کر سکتے۔ اجارہ داریاں قائم کرتے ہیں ۔ ہیرا پھیریاں کرتے ہیں۔ اتنا مال و دولت اکٹھا کر لیا جاتا ہے، جو بظاہر تو ایک انسان کی جائز ضروریات سے بہت وافر ہوتا ہے۔ ایک انسان کتنا استعمال کرے گا ؟ دسیوں بنگلے بھی ہوں تو سونا تو اسے ایک بیڈ پر ہی ہے۔ دنیا جہان کی نعمتیں ہو ں، مگر ایک پیٹ میں کتنا سما سکتا ہے۔ میں سوچتا ہو ں کہ شاید وہ بھی میری طرح روحانی طور پر بے چین ہوں گے کیوں کہ ان کے پاس اتنا کچھ ہے، مگر سارے کو اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لا سکتے۔

مَیں بھی تو خالی سیٹوں کو اپنے تصرف میں نہ لا سکنے پر کتنا بے چین تھا۔      ٭

مزید :

کالم -