ایک احمقانہ منصوبہ

ایک احمقانہ منصوبہ
ایک احمقانہ منصوبہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 حکومت ِ پاکستان کی کیبنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری ہونے والے ایک حالیہ حکم پر چکرا گیا ہوں۔ کرکٹ، جو ہمارے ہاں ایک مقبول کھیل ہے، کی اصطلاح میں بات کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی پھرتیلے وکٹ کیپر نے مجھے سٹمپ آﺅٹ کر دیا ہو۔ جاری ہونے والے حکم میں کہا گیا ہے کہ ملک میں جاری بجلی کے بحران کی وجہ سے وزیر ِ اعظم صاحب بڑی ”مسرت “ سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ تمام سرکاری دفاتر میں دفتری اوقات میں ائیر کنڈیشنرز کے استعمال پر اُس وقت تک (یہی کوئی سو دوسوسال ) پابندی ہوگی، جب تک صورت ِ حال بہتر نہیںہوجاتی۔
لگتا ہے کہ ہمارے نگران وزیر اعظم کی طبعی ظرافت موسم ِ گرما میں عروج پر ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک اور ”پُرمسرت “اعلان میں انہوں نے وفاقی حکومت کے تمام ملازمین کو ہدایت جاری فرمائی ہے کہ وہ موسم ِ گرما کا سرکاری لباس پہنیں۔ یہ لباس دھوتی، نصف آستینوں والی ڈھیلی ڈھالی قمیض اور ہوائی چپل جیسے لوازمات پر مشتمل نہیں، بلکہ اُنہیںکہا گیا ہے کہ وہ ہلکے خاکی رنگ کی بش شرٹ، جس کی آستین چاہے آدھی ہویا پوری اور اس کے ساتھ اُس رنگ کی مناسبت سے ہلکے رنگ کی پینٹ ہونی چاہئے، چونکہ یہ ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت عوامی رائے کو اہمیت دیتی ہے ، اس لئے وزیراعظم صاحب کو شلوار قمیض اور ویسٹ کوٹ پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ شلوار قمیض عام طور پر رات کو پہنے جانے والا لباس ہے، لیکن اسے دفاتر میں بھی پہنا جا سکتا ہے۔ اس طرح پاکستان کو لباس کے معاملے میں دیگر ممالک پر فوقیت حاصل ہے۔ اگر شلوار قمیض پر ویسٹ کوٹ بھی پہن لیا جائے تو افسروں اور ماتحتوں میں فرق ختم ہو جاتا ہے.... گویا مساوات قائم کی جا سکتی ہے۔
پتہ نہیں ڈریس کوڈ میںکیبنٹ ڈویژن ایک پھولوں والے رومال ، جو ترچھے زاویے سے جیب سے باہر لٹکایا گیا ہو، کا اضافہ کرنا کیوں بھول گئی؟ جہاں تک جوتوں کا تعلق ہے تو یہ بات برملا کہی جا سکتی ہے کہ ننگے پاﺅں ٹھنڈ پڑتی ہے (پتہ نہیںکس کو؟)، تاہم وزیراعظم صاحب نے مکیشنز ، جن کے بارے میں اُن کے دفتر نے نہایت مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وضاحت کر دی کہ ان سے مراد بغیر تسموں کے جوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سینڈلز بھی پہنے جاسکتے ہیں، بشرطیکہ جرابیں نہ پہنی جائیں۔ دفتر نے اس بات کو ضیغہ ¿ راز میں ہی رہنے دیا ہے کہ کون سے لوگ سینڈلز جرابوںکے ساتھ پہنتے ہیں۔ اسی طرح کچھ او ر اہم معاملات پر لب کشائی نہیں کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر زیب جامے کا رنگ، ڈیزائن اور شکل متعین نہیں کی گئی۔ بہرحال....”یہ معاملے ہیں نازک، جو تیری رضا ہو ، تو کر“.... یہ انقلابی حکم گزشتہ ہفتے صادر فرمایا گیا ہے ۔ آج کل ایسے ہی بے سروپا، احمقانہ احکامات کا نزول ہو رہا ہے۔ اگر درپیش مسائل کا حکومت ِ پاکستان کے پاس یہی حل ہے، تو پھر گورکن اب تک بے کار کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟
کیا پہناوا تبدیل کرنے سے ملک میں جاری بجلی کا بحران ختم ہو جائے گا؟ایسے بے کار منصوبے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں، کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ ان کا کوئی فائدہ نہیںہے۔ جب آپ جانتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے، اکثر متضاد دلیلوں کے ساتھ، جھوٹے ثابت ہوئے ہیں تو شرٹ بدلنے یاجوتا اتارنے سے کیا ہو گا؟سادہ لوح افراد کو نہ ان جھوٹے دعوﺅں کی سمجھ ہے اور نہ ہی بننے والے منصوبوں کی۔ وہ تو صرف اتنا جانتے ہیںکہ اُن کا بلب روشن کرنے یا پنکھا چلانے کے لئے بجلی نہیںہے۔ بجلی کی کمی کا ائیر کنڈیشنر چلانے سے بھی کوئی تعلق نہیںہے، کیونکہ سردیوں میںبھی یہی صورت حال ہوتی ہے۔ اس بیماری کا تعلق گردشی قرضوں سے ہے۔ اس کی تفہیم کے لئے بہت ذہین ہونے کی ضرورت نہیںہے کہ اگر عوام بل ادا نہیں کریںگے تو اُن کو ملنے والی سہولت منقطع ہو جائے گی۔

حال ہی میں میرے دوست ڈاکٹر ندیم الحق ، جو پلاننگ کمیشن کے چیئر مین تھے، لیکن وہ حکومت کی لے پر نہیں ناچتے تھے، اب امریکہ میں ہیں اور اس سنگین مسئلے پر بہت صاف اور دوٹوک انداز میں ایک بہت شاندار رپورٹ مرتب کی ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے شعبے کی نااہلی کی وجہ سے گزشتہ پانچ برس کے دوران پیدواری شرح10فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ گزشتہ دو عشروںسے بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کے نظام کی اصلاح نہیںہوئی۔ اس دوران عوا م کو محض جھوٹے وعدوںسے بہلایا جارہا ہے۔ ڈاکٹر حق اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیںکہ جب یہ معاملہ اتنا سنگین ہے تو ہم اس کے حل کے لئے سنجیدہ اور پُرعزم اصلاحات لانے سے کیوں قاصر ہیں؟اس بات میںکسی کو شک نہیںہونا چاہئے کہ توانائی کی کمی ہر کسی کا مسئلہ ہے اور یہ اپنی جگہ پر رہے گا۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ اس مسئلے کے تمام کرتادھرتا آپس میں کوئی تال میل نہیں رکھتے ہیں۔ وزارت بجلی و پانی کو ہی لے لیں، اس کے پاس نہ تو پانی ہے اور نہ ہی بجلی اور اس کے پالیسی سازوں کے پاس اس مسلے کا کوئی حل نہیںہے۔ اس کا کام محض لوگوں کو جھوٹی تسلیوں اور دعدوں سے بہلانا ہے، جبکہ یہ مسئلہ آگ اگلتے ہوئے ڈریگن کی طرح تمہارے نزدیک کھڑا ہے۔کوئی جائے مفر نہیںہے اور نہ ہی آنکھیں بند کرنے سے یہ دور ہو جائے گا۔
اس وقت پاکستانی عوام ، جن کو نہ تو گردشی قرضوںکی سمجھ ہے اور نہ وہ پاور سپلائی کمپنیوںکے بارے میںکچھ جانتے ہیں، بجلی کی کمی کے ہاتھوں موسم کے شدائد بھگت رہے ہیں۔ اس ضمن میں نہ تو کمانڈو نے اپنے اقتدار کے ایک عشرے کے دوران کچھ کیا اور نہ ہی گزشتہ پانچ سال کے دوران آصف علی زرداری حکومت نے کوئی تنکا دہرا کیا ہے۔ اب یہ پہاڑ سا بوجھ میاں نواز شریف کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ دُنیا میںکوئی بھی مسئلہ حل کے بغیر نہیںہوتا، چنانچہ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ بات یہ ہے کہ اسے پہلی ترجیح بناتے ہوئے اس کے حل کے لئے کمر بستہ کون ہو گا؟ہماری روایتی افسرشاہی کے پاس اس کے حل کی کوئی راہ نہیںہے۔ لاہور جیسے شہر میں، جو اس ملک کے ماتھے کا جھومر ہے اور اب نئے حکمرانوں کا مسکن بھی ہے، 16 سے 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ رہتی ہے۔ اس کے باوجود یہ ہماری حکومت کی پہلی ترجیح نہیںہے۔ سات جنوری کو سامنے آنے والی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پاور کرائسس کمیٹی یہ جان کر حیرت زدہ ہو گئی کہ گردشی قرضے اس لئے بڑھ گئے ہیں، کیونکہ کچھ کمپنیاں، ادارے اور بااثر افراد بل دینے کے روادار نہیںہیں۔
ایسے ہی اداروں میں فوج کے ذیلی ادارے ”ملٹری انجینئر سروسز“ کے ذمے825 ملین، بری فوج کے ذمے 90 ملین ، ملٹری ڈیری فارم کے ذمے15ملین ، ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن کے ذمے 48 ملین اور جی ایچ کیو کے ذمے 17 ملین روپے واجب الادا ہیں۔ اس طرح دفاعی اداروں کے ذمے تقریباً ایک بلین روپے                                                                                                                        واجب الادا ہیں۔ اس کے علاوہ ایوان صدر کے ذمے بھی 16ملین روپے ہیں اور اس رقم کی واپسی کی کوئی امید نہیںہے۔چیئرمین سینیٹ کے گھر اور دفتر کے ذمے60 ملین ، وزیراعظم کے سیکرٹریٹ کے ذمے چار ملین ، وفاقی وزراءکی رہائش گاہوں کے ذمے 14 ملین، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے ذمے 4 ملین اور الیکشن کمیشن کے ذمے 3ملین سے زائد روپے واجب الاداہیں۔ صرف یہیں پر بس نہیں ہے، لگتا ہے کہ بل ادا نہ کرنا اسلام آباد اور راولپنڈی کا محبوب مشغلہ ہے۔ وفاقی پولیس، آئی بی، ایف آئی اے کے ذمے بالترتیب 26 ملین،6 ملین اور 8 ملین روپے واجب الاداہیں۔ ریلوے سے ٹرینیں چلیں یا نہ چلیں، بجلی اُڑانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ریلوے منسٹری نے 340ملین ادا کرنے ہیں۔ ایف سی نے بھی کم و بیش 100 ملین روپے ادا کرنے ہیں۔ اس طرح صرف وفاقی حکومت نے ہی 7 بلین روپے کی رقم ادا کرنی ہے۔
گزشتہ سال ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پیپکو نے سندھ سے 51 بلین، پنجاب سے 19 بلین، آزاد کشمیر حکومت سے15 بلین، اسلام آبادسے 8 بلین اور فاٹا سے 20 بلین روپے وصول کرنے ہیں۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ یہ اعداد و شمار کس حد تک درست ہیں، لیکن ہمیں یہ علم ہے کہ حکومت اور حکومتی محکمے اپنے واجبات ادا کرنے کے معاملے میں بدنام ہیں۔ اگر آج یہ بل ادا کر دیئے جاتے ہیں تو کوئی لوڈ شیڈنگ نہیںہوگی۔ اس کے علاوہ یہ واجب الادا رقوم ہی واحد مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ بجلی کی چوری اور ملازموں کی بھاری بھرکم تنخواہیں بھی ایک بوجھ ہیں۔ کیبنٹ ڈویژن کو سوچنا چاہئے کہ جب درجہ حرارت40 تک پہنچ چکا ہو تو پھر ائیر کنڈیشنرعیاشی نہیں، بلکہ ضرورت بن جاتا ہے،چنانچہ بغیر کسی دباﺅ اور خوف کے اسے وصولیوں کا کام شروع کرنا چاہئے.... تاہم کیا ان افراد یا اداروںکے میٹر کاٹے جائیں گے؟ کیا دیو مالائی کہانیاں تاریخی حقائق بننے لگی ہیں؟ چلیں چھوڑیں، ایک بار میاں نواز شریف صاحب نے لی کان سے پوچھا کہ پاکستان سنگاپور کس طرح بن سکتا ہے تو ایک سطری جواب ملا....”24گھنٹے بجلی کی سپلائی یقینی بنا کر“۔ آج جب میاں نواز شریف حکومت سنبھالنے والے ہیں،اُس سوال کا جواب اپنی جگہ پر موجود ہے۔

نوٹ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میںری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔       ٭

مزید :

کالم -