حکومت کی 10ماہ کی کارکردگی کا تجزیہ اور آئندہ بجٹ کے لئے تجاویز

حکومت کی 10ماہ کی کارکردگی کا تجزیہ اور آئندہ بجٹ کے لئے تجاویز
حکومت کی 10ماہ کی کارکردگی کا تجزیہ اور آئندہ بجٹ کے لئے تجاویز
کیپشن: sarfraz ahmad khan

  

6جون 2014ءکو ان شاءاللہ وفاقی وزیر خزانہ 2014-15ءکا بجٹ پیش کریں گے۔ اگلے ہی دن انہوںنے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں ریونیومیں 16.8فیصد اضافہ ہواہے،زرمبادلہ کے ذخائر 12ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیںجوکہ ان شاءاللہ 30جون 2014ءتک 15ارب ڈالر تک ہوجائیں گے۔ انہوںنے یہ بھی فرمایا کہ بجٹ خسار ہ کم ہواہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے اور تمام معاشی عشاریے مثبت ہیںاور معیشت پٹڑی پر آچکی ہے۔

 یہ سب کچھ قوم کے لیے بہت خوش آئند ہے۔ آئیے حقائق کی روشنی میں ان معاملات کاتجزیہ کریں ،اس مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں 1,745ارب روپے کے محصولات جمع ہوئے ہیںجوکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 16.8فیصد زیادہ ہیں۔ اس اضافے میں دو تہائی حصہ سیلز ٹیکس کا ہے کیونکہ جولائی 2013ءمیں سیلز ٹیکس کا ریٹ 16فیصد کی بجائے 17فیصد کردیاگیاتھا۔ علاوہ ازیں پٹرولیم مصنوعات ،فرٹیلائزرزوغیرہ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ڈومیسٹک سیلز ٹیکس کی وصولی میں اضافہ ہوا اور درآمد پر لاگو سیلز ٹیکس میں پٹرولیم مصنوعات ،مشینری اور فرٹیلائزرز کی درآمدمیں اضافہ اس کا سبب بنا۔ ڈائریکٹ ٹیکسز میں اضافہ صرف 5.9فیصد تھا اور اس کی وجہ درآمدات ، ٹیلی فون بلوں اور تنخواہوں پروودہولڈنگ ٹیکس کااضافہ تھاورنہ نہ تو ٹیکس ادا کرنے والوںکی تعداد میں اضافہ اس کا سبب بنا اور نہ ہی کرپشن اور ریونیوچوری کی روک تھام اس کا سبب بنی۔ اسی طرح سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بنیادی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات میں کچھ اضافہ اور باقی ایک برادر اسلامی ملک سے ڈیڑھ ارب ڈالر موصول ہونے سے اور بیرون ملک سے قرضوں کی وصولی اور یوروبانڈکی فروخت وغیرہ سے اضافی رقم آئی۔ کچھ اب سپیکٹرم جی تھری اور جی فور کی نیلامی سے۔ لیکن غور کرنے والی یہ بات بھی ہے کہ 2013-14ءکے پہلے 6 ماہ میں 996.9بلین روپے کاپبلک ڈیٹ میں اضافہ ہوا جوکہ 2013 ءکے آخر تک 15.5کھرب تک پہنچ گیا۔ اس میں سے 674.7ارب روپے مختصر میعاد (تین ماہ ) کے Treasuryبلزسے حاصل کیاگیا۔

مختصر میعاد کے قرضے ہمیشہ سود کے حوالے سے بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ 2ارب ڈالر کے یورو بانڈ (ایک 10سال کی مدت کے لیے اور ایک 5سال کی مدت کے لیے )7.25فیصد اور 8.25فیصد شرح سود پر فروخت ہوئے۔ان میں ایک فیصد حصہ انشورنس کمپنی نے ادا کرناہے۔ مجموعی قرضہ سالانہ ریونیوکے 500فیصد سے بھی زیادہ ہوچکا ہے اور مجموعی قومی پیداوار کے 60فیصد سے بھی زیادہ ہے۔قرض ملکی معیشت کی ترقی کے لیے اسی صورت مفید ہوتاہے جب اس سے مجموعی پیداوار میں اضافہ ہو تاکہ اس پر سود اور اصل زر کی واپسی کے باوجود ملکی معیشت میں بڑھوتری ہو رہی ہو۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں زیادہ تر قرض بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے لیاجاتاہے۔ جس سے وہ مالی سال تو گزر جاتاہے لیکن آنے والے سالوں میں ملکی معیشت قرض خواہوں کے پاس گروی ہوجاتی ہے اور اس سے ملکی سلامتی اور وقار کو بھی دھچکا لگتاہے۔

اس کااندازہ گزشتہ تین دہائیوں میں اندرونی اور بیرونی قرضوں میں مسلسل اضافہ اور اس کے مقابلے میں معیشت میں اسی تنا سب سے اضافہ نہ ہونا ہے۔ 1990ءمیں اندرونی قرضے 374ارب روپے تھے جو2000ءمیں 1576ارب ہوئے ،2010ءمیں 4,651ارب روپے ہوئے اور 2013ءکے اختتام پر 8,796ار ب روپے ہوئے۔ اسی طرح سے بیرونی قرضے 1990ءمیں 428ارب روپے تھے جو2000ءمیں 1,442ارب روپے ہوئے ۔ 2010ءمیں 4,260ارب روپے ہوئے اور 2013ءکے آخرتک 4,831ارب روپے ہوگئے۔ مجموعی پبلک ڈیٹ 1990ءمیں 801ارب روپے سے ہوتاہوا 2013ءکے آخر تک 13,626ارب روپے ہوگیا۔ اگر یہ قرضے میرٹ پر ملکی معیشت کی بڑھوتری میں خرچ ہوتے ،نہ کہ صرف بجٹ خسار ے کو پورا کرنے کے لیے ،تو آج ان قرضوں کے حجم میں اتنا اضافہ نہ ہوپاتااو رنہ ہی ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہوتی ۔ اگرملکی معیشت 6سے8فیصد سالانہ بڑھوتری سے نشوونما پا رہی ہوتی تو بے روزگاری بھی 6فیصد سے کہیں کم ہوتی۔

اگر مجموعی قومی پیداوار اسی طرح سے 4اور 5فیصد سالانہ شرح سے بڑھتی رہی تو 15سال کی عمر سے زیادہ افراد کے اضافے سے ہر سال 3.5فیصد شرح سے بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہونے کی وجہ سے آئندہ پانچ سال میں بے روزگاری کی شرح 9فیصد سے بھی بڑھ جائے گی۔ جتنی بے روزگاری بڑھے گی اسی شرح سے جرائم اور خودکشیوں میںاضافہ ہوگا۔ مجموعی طور پر نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے بغیر حالات کو درست سمت میں رکھناممکن ہی نہیں ۔ اس کی تازہ مثال موجودہ حکومت کا ساڑھے چار سو ارب کے قریب گردشی قرضہ اداکرنے کے باوجود توانائی سیکٹر میں بہتری نہ آناہے اور ایک سال کے اندر ہی گردشی قرضہ پھر تین سو ارب کے قریب ہوگیاہے۔ بڑے صنعتی اداروں میں کچھ پیداوار بڑھی لیکن زراعت کے سیکٹر میں ،ماسوائے لائیوسٹاک سیکٹر میں کچھ بڑھوتری کے علاوہ ،شرح نمو قابل ذکر نہیں۔سروسز سیکٹر میں بھی بڑھوتری پہلے والی رفتار سے نہیں ۔ یہ تو سب تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائی (افراط زر)میں معمولی سی بہتری کے باوجود ابھی بھی 42فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے اور وزیرخزانہ صاحب نے خود کہاکہ غربت کا پیمانہ 1.25ڈالر روزانہ کی آمدنی سے بڑھا کر 2ڈالرروزانہ کرلیا جائے۔

2014-15ءکے بجٹ میں ہمیں ہرحال میں خودانحصاری کی طرف آناپڑے گا۔ اس سا ل بھی ریونیوکا بہت بڑاحصہ سود اور اصل زر کی قسطوں کی واپسی میں گیا ۔ اگلے سال کے لیے بھی بجٹ کا حجم اگر 37ارب روپے رکھاجاتاہے پھر اسی تناسب سے اندرون ملک سے وسائل جمع کرنے کا قابل عمل منصوبہ بھی سامنے آناچاہیے۔ ٹیکسیشن پالیسی کو اگر مالیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیاجائے تو اہل ثروت لوگوں سے مالی وسائل معاشی لحاظ سے کم نصیب لوگوں کی طرف منتقل کیے جاسکتے ہیں۔ اگر موجودہ پالیسی جس کے تحت ڈائریکٹ ٹیکسز کا بھی 88فیصد ووہولڈنگ ٹیکس کے ذریعہ سے جمع کیاجاتاہے اور صرف 12فیصد حصہ اسسمنٹ /انفورسمنٹ کے ذریعہ سے وصول کیاجاتاہے اور اس کے ساتھ سیلز ٹیکس ،کسٹم ڈیوٹی اور ایکسائز ڈیوٹی ،پہلے سے موجود ان ڈائریکٹ ٹیکسز بھی نافذ رہیں،تو صاف ظاہر ہے کہ حکومت معاشی طور پر خوشحال لوگوں سے مالی وسائل لے کر معاشی لحاظ سے کم نصیب طبقے کی تکالیف کے ازالہ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ معاشی طور پر خوشحال طبقے کے تعین میں ضروری اعداد و شمار اور کوائف حکومتی اداروں کے پاس موجود ہیں۔

مثلاً بیرون ملک سفر ،اعلیٰ مہنگے اداروں میں بچوں کی تعلیم ،اعلیٰ مہنگے ہسپتالوں میں علاج ،بجلی گیس ٹیلی فون اور موبائل فونزکے بل اور مختلف کلبوں کے بل کے متعلق ڈیٹا موجود ہے۔ بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں عالی شان محل ،سب کو نظرآتے ہیں اور ان کے بنانے کے لیے وسائل کاتعین کرنا کوئی جوئے شیر لانانہیں ۔ یہی وہ واحد روڈ میپ ہے جس کے ذریعے سے ہم نہ صرف اپنے وسائل سے بہت حد تک اپنی ضروریات پوری کرسکتے ہیں بلکہ معاشی طور پر کم نصیب لوگوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری بھی ادا کرسکتے ہیں۔اسی طرح سے ہر قسم کی آمدنی ،جو طے شدہ حد مثلاً پانچ لاکھ روپے سالانہ ، سے زیاد ہ ہو ،وہ ٹیکس نیٹ میں لائی جائے۔ووھولڈنگ ٹیکس کی بجائے انفورسمنٹ /اسسمنٹ /آڈٹ کاطریقہ اختیار کیاجائے۔ ٹیکس ادا کرنے والوں کی مکمل آگاہی کا انتظام کیاجائے۔ تمام قواعد و ضوابط سادہ اور عام فہم بنائے جائیں اور شکایت کی صورت میں م¶ثر دادرسی اور احتساب کانظام قائم کیاجائے۔ 1996ءمیں VATکے طریقہ کار پر سیلز ٹیکس کانظام لایاگیاتھاجس کا بنیادی مقصد معیشت کو دستاویزی شکل میں لانا تھانہ کہ ریونیوبڑھانے کے لیے استعمال کرناتھا۔آہستہ آہستہ معیشت کے دستاویزی شکل اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ریونیو کے لیے انحصار انکم ٹیکس پر کیا جاناتھا۔ لیکن اس سکیم کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔ جب تک معیشت دستاویزی شکل اختیار نہیں کرتی اس وقت تک ڈائریکٹ ٹیکسز عدل و انصاف کے ساتھ جمع نہیں کیے جاسکتے اور جب تک اِن ڈائریکٹ ٹیکسز پر انحصار رہے گا۔ ٹیکسیشن کا نظام عادلانہ نہیں ہوسکے گا۔

اسی طرح سے تجارتی خسارہ جب تک موجودہ سطح (سالانہ 20ارب ڈالر سے زیادہ )سے نیچے نہیں لایاجاتا اس وقت تک معیشت کی حالت درست نہیں ہوگی۔ موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ میں ہماری برآمدات تقریباً 21ارب ڈالر کی رہیں۔ جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران ہماری برآمدات 20.147ملین ڈالر تھیں۔ اسی طرح سے موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ میں درآمدات 37.105ملین ڈالر تھیں۔ جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 36.665ملین ڈالر تھیں۔ گو کہ موجودہ مالی سال میں برآمدات میں کچھ اضافہ ہواہے۔ لیکن ابھی بھی تجارتی خسارہ بہت زیادہ ہے ۔ جوکہ معیشت کوپٹڑی پر نہیں آنے دے گا۔ برآمدات کو بڑھانا ممکن ہے اگر ہم قومی مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسی بنائیں۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس کا پوری طرح سے احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں ۔

حکومت نے خود تسلیم کیاہے کہ پاکستانیوں کے 200ارب ڈالر سے زیادہ کی رقوم بیرون ملک بینکوں میں جمع ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے صرف ایک بینک کے ذمہ دار افسر کے بیان کے مطابق 95ارب ڈالر تو ان کے بینک میں ہیں۔ سوئٹزر لینڈ میں 2005ءسے قانون نافذ ہے جس کے تحت بیرون ملک سے اگر غیر قانونی طریقے سے دولت اس ملک کے بینکوں میں جمع کروائی گئی ہوتو ثبوت مہیاکرنے پر جمع کروانے والوں کے متعلق رازبھی ان کے متعلقہ ملکوں کو دے دیے جاتے ہیں ۔اسی قانون کے تحت بعض عرب ملکوں کے سابقہ آمروںکے جمع کروائے ہوئے 1.89ارب ڈالر واپس کیے گئے ۔ موجودہ حکومت پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی تمام قوت مذکورہ رقوم کو ملک واپس لانے کے لیے بروئے کار لائے جس سے پاکستان قرضوں کے بوجھ سے فارغ ہوجائے گا۔

بجٹ 2014-15ءمیں مدنظر رکھنے کے لیے ایک اور بہت اہم پہلو نجکاری کا ہے۔ حکومت نے 2013ءمیں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرتے وقت 30جون 2014ءتک 534ملین ڈالر نجکاری کے ذریعے سے حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور اس حوالے سے آئندہ سال میں عمل درآمد کا عندیہ دیاجارہاہے۔ بہت اہم بات یہ ہے کہ 1991ءسے لے کر 2011ءتک 167ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کے ذریعے سے 467.421بلین روپے حاصل ہوئے۔ جس کا 67فیصد وفاقی حکومت کو ملا ،26فیصد متعلقہ اداروں کے شیئرہولڈرز کو ملا ،5فیصد ملازمین کے گولڈن ہینڈ شیک میں خرچ ہوااور 2فیصد نجکاری کے اخراجات پر خرچ ہوا۔ نجکاری کرنے والوں پر مختلف قسم کے الزامات لگے جن اداروں کی نجکاری ہوئی اس سے نہ تو مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوااور نہ ہی قر ض ادا ہوسکے۔ نئی نجکاری کا عمل شروع کرنے سے پہلے سابقہ نجکاری کے نتائج کا غیر جانبدارانہ تجزیہ ایک قومی کمیشن کے ذریعے سے کروالیاجائے تاکہ سابقہ غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔

جب تک انسانی وسائل کی ترقی پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ملکی معیشت ماہر افراد کی خدمت سے ہمیشہ محروم رہے گی ۔ اس وقت تعلیم پر جی ڈی پی کا 2فیصد سے بھی کم اور صحت پر اس سے بھی کم خرچ انسانی وسائل کی ترقی میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ 2014-15ءکے بجٹ میں ان دونوں سیکٹرز کے لیے جی ڈی پی کا 4سے 6فیصد ،فی سیکٹر،حصہ رکھاجائے ۔بڑے سالوں سے فی ایکڑ اوسط زرعی پیداوار جمود کاشکار ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر فوڈ سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ 44فیصد ملک کی لیبر فورس زراعت میں کھپی ہوئی ہے اور 66فیصد آبادی کا تعلق زراعت سے ہے۔ اس لیے آر این ڈی کے ذریعہ اور بدلتے ہوئے موسم کو سامنے رکھتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا جائے۔ زرعی مداخلات پر سیلز ٹیکس ختم کیاجائے۔ مزدوروں کی تنخواہ کا تعین مہنگائی کے تناسب سے کیاجائے اور کم سے کم تنخواہ 15000روپے ماہانہ دی جائے۔

آنے والے برسوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوگا ہر سال 26ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں جاگرتاہے۔ بھارت کی آبی جارحیت اور اس کے اثرات بداس کے علاوہ ہیں۔ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش مشکل سے تیس دن کی ہے۔ جوکہ کم از کم 180دن کی ہونی چاہیے۔ اس لیے جلد از جلد چھوٹے بڑے ڈیم بنائے جائیں جس سے نہ صرف سستی ہائیڈ ل بجلی بھی دستیاب ہوجائے گی بلکہ زراعت کے لیے پانی کی سپلائی بھی بہتر ہوجائے گی۔ ملک کے اندر اربوں ڈالر کے زیر زمین دفن سونا،تانبا ،کوئلہ اور کئی قیمتی دھاتوں کے ذخائر موجود ہیں۔ حکومت اپنی ترجیحات میں اس بات کو شامل کرے کہ ہم نے ان ذخائر کو جلد از جلد ملکی مفادکے لیے استعمال میں لاناہے۔ یہ تمام اقدامات خودانحصاری کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ ان اقدامات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے لازمی ہے کہ امن و امان کی حالت کو بہتر بنایاجائے جس کے لیے امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دستبردار ہونا،متحارب قوتوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے سے معاملات کو طے کرنا اور ملک کے اندر ہر قسم کی فرقہ پرستی اور تعصبات کو ہوا دینے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرناہے۔ آزاد عدلیہ ،آزاد ذرائع ابلاغ اور میرٹ پر مبنی احتساب کانظام اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہوںگے۔

(جماعت اسلامی کے پری بجٹ سیمینار سے خطاب کا لب لباب)

مزید :

کالم -