زمبابوے بمقابلہ پاکستان کیلئے سبحان احمد کی محنت رنگ لے آئی

زمبابوے بمقابلہ پاکستان کیلئے سبحان احمد کی محنت رنگ لے آئی
زمبابوے بمقابلہ پاکستان کیلئے سبحان احمد کی محنت رنگ لے آئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان میں چھ سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے ساتھ ہی شائقین کے چہروں پر رونقیں بھی لو ٹ آئیں جو ایک طویل عرصہ سے اس انتظار میں تھے کہ کب ہم اپنے ملک میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھیں گے اور سٹیڈیم جاکر ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں گے سری لنکا کی ٹیم پر حملہ کے بعد کئی مواقع پر ایسا لگا کہ اب غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد ہوجائے گی لیکن پھر کوئی ایسی مشکل آ جاتی کہ ہم اپنے اس اہم مقصد میں پیچھے رہ جاتے لیکن اس مرتبہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جس طرح اس مسئلہ کو حل کیا اور ٹیموں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ یہاں پر آکر کھیلیں ،ان کو قائل کیا، ان کو ہر طرح کی سیکورٹی کی سہولت دی جائے گی اور ہمارے میں محنت کی یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کریڈٹ جاتا ہے۔زمبابوین ٹیم کی پاکستا ن آمد سے اب امید کی جاسکتی ہے کہ دیگر ٹیمیں بھی ضرور پاکستان کا دورہ کریں گی ۔کسی بھی ٹیم کا طویل عرصہ کے بعد آنا مشکل تھا لیکن اب جب ایک مہمان ٹیم آگئی ہے تو یہ دوسری ٹیموں کے لئے راستہ بنائے گی ۔ ٹیم کی آمد کے موقع پر ہر چہرہ خوشی کا منظر پیش کررہا تھا اپنی ڈیوٹی کے دوران ائیرپورٹ پر جس طرح میں نے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کو خوشی اور جوش و خروش میں دیکھا تو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ان کو غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد کی کتنی زیادہ حسرت ہورہی ہے اور ان کو انکی محنت کا صلہ مل گیا ہے جس کے لئے انہوں نے ایک طویل عرصہ تک جدوجہد کی اور اب وہ وقت آگیا تھا جب ان کی کوششیں رنگ لے آئیں ۔پاکستان اور زمبابوے کے درمیان چھ سال بعد کھیلا جانے والا پہلا ٹی ٹونٹی کرکٹ میچ سے قبل میری پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ افیسرسبحان احمد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس موقع پر کہا کہ میں اپنی خوشی بیان نہیں کرسکتا ۔مجھے اس وقت کا شدت سے انتظار ہے کہ کب میچ کی پہلی گیند پھینکی جائے گی اور باقاعدہ طور پر ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ہو۔جس طرح ان کے چہرے پر رونق اور خوشی نظر آرہی تھی میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اور کسی اہلکار کے چہرے پر نہیں دیکھی۔ اس کی وجہ صرف اورصرف ان کی اس حوالے سے لگاؤ اور دلچسپی تھی جس ٹارگٹ کو وہ لیکر چلے تھے اس میں ان کو کامیابی نصیب ہوئی تھی۔اگر دیکھا جائے تو حقیقی معنوں میں غیر ملکی ٹیم کی آمد کا کریڈٹ ان کو جاتا ہے کیونکہ جس عہدہ پر وہ کام کررہے ہیں اس جگہ پر انہوں نے بہترین انداز میں اپنے فرائض سر انجام دئیے اور دن رات محنت کی اور اس کی بدولت آج پاکستان میں شائقین کرکٹ کے چہروں پر رونق نظر آرہی ہے ۔امید ہے کہ وہ اسی طر ح مستقببل میں بھی اپنا کردار اسی طرح سے ادا کرتے رہیں گے ۔ ان کی اس محنت کے صلہ میں ان کو حکومت کی جانب سے کسی بڑے اعزاز سے ضرور نوازا جانا چاہئیے تاکہ ان کی ایک طرف تو حوصلہ افزائی ہو اور دوسری جانب دیگر افراد بھی ان کی طرح محنت کریں ۔ آج دوسرا ٹی ٹونٹی میچ کھیلا جارہا ہے اس میچ میں پاکستان کامیابی حاصل کرکے زمبابوے کے خلاف سیریز کلین سوبپ کرلے گا اور مہمان ٹیم کے پاس سیریز برابر کرنے کا موقع ہے ۔اب کانٹے دارمقابلے کی توقع ہے لیکن قومی ٹیم کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ میچ بھی پاکستان جیت کر اپنی سر زمین پر طویل عرصہ کے بعد پہلی ٹی ٹوٹنی سیریز اپنے نام کرے گی۔

مزید :

کالم -