ٹریفک وارڈن۔۔۔ نگہبان یا حاکم

ٹریفک وارڈن۔۔۔ نگہبان یا حاکم
ٹریفک وارڈن۔۔۔ نگہبان یا حاکم

  

ایک زمانہ تھا، جب لاہور کی آبادی صرف30لاکھ کے لگ بھگ تھی، آج2015ء میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً ایک کروڑ30لاکھ ہو گئی ہے۔ لاہور سے ملحقہ بستیاں بستی گئیں، گھر بنتے گئے، آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوتا گیا، مسائل کا انبار لگ گیا، انفرادی اور اجتماعی مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ تعلیم، رہائش، خوراک، روزگار اور دیگر کئی ایک معاشرتی و ثقافتی مسائل اپنی انتہا کو پہنچ گئے ہیں۔ان مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ چند سال قبل پنجاب پولیس کی ایک شاخ ٹریفک پولیس ہوا کرتی تھی، وہ چوکوں، چوراہوں اور سڑکوں پر گھات لگائے کھڑی ہوتی تھی، جونہی ٹریفک قوانین کی غلطی ہوئی، فوراً دبوچ لیا۔ کسی کا چالان کیا اور کسی سے ’’فیس‘‘ لے کر چھوڑ دیا، لیکن ٹریفک اللہ کے سہارے چلتی رہتی تھی۔ ٹریفک کو بہتر کرنے کے لئے 2006ء میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے ٹریفک وارڈن متعارف کرائے، جن کی بنیادی تعلیم گریجوایشن تھی۔ ان میں کئی ایم اے پاس بھی تھے، ان کی ٹریفک سکول میں تربیت ہوئی، پھر لاہور کی اژدھا نما ٹریفک سنبھالنے کے لئے انہیں بھیج دیا گیا۔

ٹریفک وارڈن کو بتایا گیا کہ وارڈن کے لفظی معنی نگہبان، پاسبان اور محافظ کے ہیں۔ ان نوجوانوں نے بڑی محنت کی، کام سیکھ لیا۔ رفتہ رفتہ لاہور کی ٹریفک ان سے اور وہ ٹریفک سے مانوس ہو گئے، انہیں موٹر سائیکلیں اور کاریں مل گئیں۔ لاہور کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد بڑھ گئی، ٹریفک بے ہنگم ہو گئی، موجودہ حکومت نے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی نگرانی میں لاہور کی سڑکوں کو وسیع بنا دیا، لیکن لوگوں کے رویے تلخ ہوتے چلے گئے۔ ٹریفک وارڈن خود بھی مسائل کا شکار ہو گئے۔ ترقی کا نہ ہونا، تنخواہ میں اضافہ نہ ہونا اور اِسی طرح دیگر سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے ٹریفک بے مہابا ہو گئی اور وارڈن بھی نگہبان یا پاسبان کے بجائے حاکم بن گئے۔ اب وہ بھی اِسی طرح گھات لگائے کھڑے ہوتے ہیں، غلطی ہو تو فوراً دبوچ لیتے ہیں۔ان کی یہ ’’خوبی‘‘ ہے کہ سابق ٹریفک پولیس کی طرح’’فیس‘‘ نہیں لیتے، لیکن چالان کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ چوکوں اور چوراہوں میں نہیں، بلکہ ایک طرف گروہوں کی صورت میں کھڑے ہوتے ہیں۔ موبائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، میوزک سنتے ہیں، میسج کرتے اور خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں، جبکہ ٹریفک پہلے کی طرح خودبخود چلتی رہتی ہے، بلکہ جہاں یہ کھڑے نہ ہوں، لوگ خود ہی راستہ بنا لیتی ہے۔ ٹریفک وارڈن کا تلخ رویہ لوگوں میں تلخی پیدا کر رہا ہے۔

مَیں گزشتہ کئی سال سے ان کے طریقہ کار کا بغور مطالعہ کر رہا ہوں۔پورے لاہور میں کسی نہ کسی کام یا مصروفیت کی وجہ سے جانا ہوتا ہے، لیکن کوئی سڑک ایسی نہیں ہو گی، جہاں ٹریفک صحیح انداز سے رواں دواں ہو۔ مال روڈ ہو، جیل روڈ ہو، فیروز پور روڈ یا نہر کنارے سڑک ہو، ہر جگہ ٹریفک، میلے میں پھرنے والے تماشائیوں کی طرح چلتی ہے۔ لوگوں میں سماجی احساس نہیں ہے، کوئی کسی کا انتظار نہیں کرتا، رکشہ ویگن سے آگے نکلنا چاہتا ہے۔ ویگن والا کسی کو راستہ نہیں دیتا۔موٹر سائیکل گروہ در گروہ بھاگ رہے ہوتے ہیں، چھوٹی بڑی کاریں، ڈالے اور کہیں بسیں اپنے ہی انداز سے ’’دندنا‘‘ رہی ہوتی ہیں۔ پورے لاہور میں سوائے دو یا تین ٹریفک وارڈن کے مَیں نے کسی کو نگہبان یا پاسبان کے طور پر کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا، اُن کا چالان کرنے پر زور ہوتا ہے، مَیں نے کئی ایک ٹریفک وارڈن سے پوچھا کہ کیا آپ کو چالان میں سے کمیشن ملتا ہے؟ ان کا کہنا ہے کمیشن نہیں ملتا،بلکہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر چالان کرنے کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے، ہمیں ہر حالت میں چالان کی مطلوبہ گنتی پورا کرنا ہوتی ہے،کیونکہ انہی چالانوں کی آمدنی سے ہمیں تنخواہ ملتی ہے۔

صبح تقریباً ساڑھے سات بجے متعلقہ تھانے میں حاضری لگانی ہوتی ہے، ہم جتنے منٹ لیٹ ہو جائیں، اتنے سو روپے جرمانہ تنخواہ سے کٹ جاتا ہے۔ آپ حساب لگائیں مہینے بھر کی کٹوتی کر کے کتنی تنخواہ ملتی ہو گی۔ ہماری یونیفارم دیکھ لیں، عموماً استری بھی نہیں کی ہوتی، نہ جوتے پالش ہوئے ہیں۔ ٹریفک وارڈن کی سالہا سال سے نہ تربیت ہوئی اور نہ ہی ترقی ہوئی ہے۔ کئی ایک تنگ آ کر اس شعبے کو چھوڑ گئے ہیں اور کئی کسمپرسی کی حالت میں دن گِن رہے ہیں۔محض سپاہی اور انسپکٹر پنجاب پولیس سے ٹریفک وارڈن فورس میں ڈیپوٹیشن پر بھیجے گئے ہیں۔ وہ اپنی شناخت الگ رکھتے ہیں، وارڈن کے ساتھ مانوس نہیں ہوتے، انسپکٹر ’’صاحب‘‘ گاڑی میں بیٹھے رہتے ہیں، ان کا ڈرائیور جو سپاہی رینک کا ہوتا ہے، دھڑا دھڑ چالان کرتا چلا جاتا ہے۔چالان کرنا یا جرمانے کے لئے مجبور کرنا کوئی بڑائی نہیں ہے۔ اصل کام عوام کی تربیت کرنا، رہنمائی کرنا، مدد کرنا اور تحمل مزاجی سے ڈرائیور سے پیش آنا ہے، لیکن وہ وارڈن کا مفہوم نگہبان اور پاسبان کے بجائے حاکم سمجھتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی اصلی ٹریفک وارڈن نے بھی یہی طریقہ اپنا رکھا ہے۔

لاہور کالج یونیورسٹی برائے طالبات جیل روڈ اور کنیئرڈ کالج کے پاس صبح اور دوپہر ہر روز رش کی وجہ سے ٹریفک بند ہوتی ہے، کنیئرڈ کالج سے آگے نہر کنارے وارڈن ایک طرف ٹولیوں کی صورت میں کھڑے گپیں لگا رہے ہوتے ہیں، بجائے ٹریفک کنٹرول کرنے کے چالان کی کاپیاں لئے ہمہ وقت اس طور کھڑے ہوتے ہیں کہ چالان کیا جائے تاکہ حکومتِ پنجاب کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ بھاٹی چوک، لوہاری، شاہ عالم، نسبت روڈ، مال روڈ، یعنی شاہراہ قائداعظم، جو ایک زمانے میں ٹھنڈی سڑک مشہور تھی، پی ایم جی چوک، جی پی او چوک، ریگل چوک، چیئرنگ کراس اور نہر پر کہیں بھی ٹریفک کنٹرول کرتے نظر نہیں آتے۔دو موریہ پُل،ریلوے سٹیشن، گڑھی شاہو، صدر چوک، دھرمپورہ اور جوڑے پُل پر کوئی ٹریفک وارڈن چوک میں نظر نہیں آتا، گرمی سے بچنے کے لئے قریبی دکان میں بیٹھا ہو گا اور لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ لبرٹی چوک، حسین چوک اور کلمہ چوک میں اگر اشارے چل بھی رہے ہوں تو بھی وہاں سے گزرنا محال ہوتا ہے۔

گلبرگ سے جیل روڈ پر سے شیر پاؤ پُل عبور کریں یا مال روڈ پر قربان لائن سے پُل عبور کر کے کینٹ ایریا میں داخل ہوں تو موسم ہی بدل جاتا ہے۔ ملٹری پولیس کے کارکن خوبصورت وردی پہنے چست کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں چالان کرنے والی کاپی نہیں ہوتی، ہر ایک سے پیار اور خلوص سے پیش آتے ہیں۔ ملٹری پولیس کے اس انداز سے ہر کوئی متاثر اور خوش ہوتا ہے، لمبی سے لمبی لائن بھی منٹوں میں آگے بڑھ جاتی ہے۔ وہ بھی تو اِسی قوم کے سپوت ہیں، جو اپنے فرض کو عبادت سمجھ کر پورا کرتے ہیں۔ٹریفک وارڈن تو معروف شخصیات کا چالان کر کے اخبار اور ٹی وی میں خبر دینے سے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اپنا نام بنانے کے لئے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں کہ یوں لگتا ہے یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ آگاہی مہم چلائے بغیر، بورڈ پر مطلع کئے بغیر چالان کرنے کا آج کل ایک نیا انداز نکالا ہے، جس کا مقصد صرف آمدنی میں اضافہ کرنا ہے، ٹریفک کنٹرول کرنا نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ سیٹ بیلٹ باندھنا جان بچانے کے لئے اہم اور ضروری ہے، لیکن اچانک اور چھپ کر گھات لگائے ٹریفک وارڈن چالان کرتے ہوئے یوں لگتے ہیں،جیسے پورا لاہور مجرم، ملزم اور قانون سے پہلو تہی کر رہا ہے، حالانکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔

ٹریفک وارڈن کی ملازمت کو بہتر انداز میں ریگولر کیا جائے، ان کی ترقیاں کی جائیں، تربیت کا اہتمام کیا جائے، پنجاب پولیس کی طرح ان کی تنخواہیں بھی بڑھائی جائیں، سڑک پر موٹر سائیکل، کار، ویگن، رکشہ، ڈالہ، وین، بس اور دیگر گاڑیاں چلانے والوں کو انسان اور پاکستانی شہری سمجھا جائے، بلاوجہ آمدنی کے لئے چالان نہ کئے جائیں، عوام الناس میں احساس ذمہ داری اجاگر کیا جائے تاکہ لاہور،پھر پنجاب اور پورے پاکستان میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو سکے۔ ملٹری پولیس کو مثال بنا کر ان سے مدد لی جائے، تاکہ ٹریفک وارڈن ان کے نقش قدم پر چل کر نگہبان اور پاسبان بنیں نہ کہ حاکم، خواہ مخواہ گھات لگا کر بیٹھنا، سیٹ بیلٹ کا چالان فوری طور پر بند کیا جائے۔ ڈرائیور اور سپاہی کو چالان کرنے سے روکا جائے۔

مزید :

کالم -