پاک چین اقتصادی راہداری اور کالاباغ ڈیم

پاک چین اقتصادی راہداری اور کالاباغ ڈیم
پاک چین اقتصادی راہداری اور کالاباغ ڈیم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حال ہی میں چین اور پاکستان نے 46 ارب ڈالر کے مختلف معاہدوں پر دستخط کئے ہیں ،جن میں توانائی کے منصوبوں کے علاوہ گوادر سے کاشغر تک اقتصادی راہدای بھی شامل ہے جس میں گوادر کو زمینی راستے سے کاشغر سے ملایا جائے گا ۔ یہ منصوبہ 2030 تک مکمل ہوگا ۔ ماہرین اقتصادیات اس بات پر متفق ہیں کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد سے پاکستان ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا ۔ یہ منصوبے پاکستان کی معاشی ترقی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان نہ صرف ایشائی ٹائیگر بن سکتا ہے، بلکہ دفاعی لحاظ سے بھی مضبوط اور طاقتور ملک بن جائے گا ۔ اقتصادی راہداری کو چاروں صوبوں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا جس سے چاروں صوبوں کو فائدہ پہنچے گا۔


ان منصوبوں کی افادیت ذہن میں رکھ کر پاکستان دشمن قوتیں شدید پریشانی میں مبتلا ہو چکی ہیں اور ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے کمر بستہ ہو چکی ہیں خاص طور پر بھارت اسرائیل ، امریکہ اور ایران کو بہت زیادہ تشویش لا حق ہو چکی ہے ۔ ان منصوبوں سے یہ ممالک خوفزدہ ہیں اور اس کو اپنے مفادات پر کاری ضرب تصور کرتے ہیں ۔یہ بندرگاہ ایک ایسی گزرگاہ پر واقع ہے جو بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم روٹ ہے ۔ اس منصوبے سے صرف پاکستان اور چین مستفید نہیں ہوں گے، بلکہ اس سے وسط ایشیائی ممالک اور روس کو بھی فائدہ ہوگا ۔روس کو گرم پانیوں تک آسان راستہ مل سکتا ہے سابق صدر زرداری نے بھی روس کو گوادر تک رسائی کی پیشکش کی تھی مستقبل میں اگر چین کے ساتھ روس بھی اس میں شامل ہوا تو گوادر بندرگاہ ایک اہم سٹرٹیجک مقام حاصل کرسکتی ہے۔ گوادر بندرگاہ کی سٹرٹیجک اہمیت کو مد نظر رکھ کر پاکستان دشمن قوتوں نے اب سازشیں شروع کی ہیں ۔ ہندوستانی دہشت گرد ایجنسی ’’را‘‘نے ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے نہ صرف ایک خصوصی ڈیسک قائم کیا ہے ،بلکہ اس مقصد کے لئے اربوں روپے کا فنڈ بھی مختص کیا ہے ۔ انڈیا نے ان معاہدوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاج کیا ہے بھارت کسی صورت بھی نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرے، اس لئے اب اس نے ان منصوبوں کے خلاف نہ صرف خود ،بلکہ اپنے وفاداروں کو بھی متحرک کیا ہے ۔


جس طرح انڈیا نے کالاباغ ڈیم مخالفین میں سالانہ اربوں روپے تقسیم کر کے کالاباغ ڈیم متنازعہ بنا دیا ہے اس طرح اب پاک چائنا کوریڈور کو ناکام بنانے کے لئے فنڈ مختص کیا ہے جو ظاہری بات ہے کہ یہاں کوریڈور کی مخالفت کرنے والوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبے کو کالاباغ ڈیم بنانے کے اعلانات یہاں کے سیاستدان تواتر سے کرتے رہتے ہیں یعنی اب ان لوگوں کی اس فنڈ پر بھی نظر ہے جو را نے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے مختص کئے ۔ کالاباغ ڈیم سراسر ایک فائدے کا سودا ہے جس سے نہ صرف تین ہزار چھ سو میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، بلکہ اس سے لاکھوں ایکڑ زمین بھی سیراب ہوگی جس سے پاکستان زرعی اجناس میں خود کفیل ہو جائے گا ،بلکہ اس زرعی پیداوار کے لئے یہاں ملز ، کارخانے اور فیکٹریاں لگ جائیں گی اس کے ساتھ ساتھ سیلابوں کے نقصانات بھی کم ہو جائیں گے لیکن عاقبت نااندیش سیاستدانوں نے اس اہم قومی منصوبے کو متنازعہ بنا کر پاکستان کو ان کے فوائد سے محروم رکھا جو یقینی طور پر پاکستان دشمن قوتوں کی خواہش ہے ۔ اب وہی قوتیں جو کالاباغ ڈیم کے خلاف ہیں اس اہم منصوبے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر کے را کے مختص شدہ فنڈ میں حصہ دار بننے کی کوشش کر رہی ہیں ۔


حکومت کے اس اعلان کے باوجود کہ راہداری منصوبے کو ایک انچ بھی تبدیل نہیں کیا گیا ہے ،بلکہ وہی پرانا روٹ ہے اور اس پر وزیر اعظم کی موجودگی میں تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو بریفنگ دی گئی تھی جس پر تمام پارٹیوں نے حکومتی کوششوں کو سراہا تھا اور اطمینان کا اظہار کیا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں کچھ لوگ پاکستان کی ترقی نہیں چاہتے اور اس روٹ کو متنازعہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اصل میں پاکستان دشمن قوتوں کی کوشش ہے کہ اگر اس منصوبے کو ناکام نہ بھی بنا سکیں تو کم از کم اس کی معاشی افادیت کو کم کیا جائے اور اسی ایجنڈے پر یہاں کے کچھ لوگ عمل پیرا ہیں۔ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ اس راہداری منصوبے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جائے اس مقصد کے لئے اسی پرانے روٹ تک پنجاب سے نئے روڈ بننے کا منصوبہ ہے جسے اسی روٹ سے منسلک کیا جانا ہے جو اصل روٹ ہے ۔ اس طرح پاکستان کے وہ علاقے بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے جو اس روٹ سے دور ہیں اور یہ ایک اچھی بات ہے گوادر اور کاشغر تک روڈ سے دوسرے علاقوں کو منسلک کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے لیکن ترقی کے مخالفین اس کو مسئلہ بنا کر اس کو تبدیل شدہ روٹ کہتے ہیں ۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بزنجو صاحب کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے زیر صدارت ہونے والی بریفنگ میں جب اسفندیار ولی خان نے اس روٹ کی تبدیلی پر اعتراض کیا تو ان سے سوال کیا گیا کہ کہاں پر روٹ کو تبدیل کیا گیا ہے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ اس طرح بزنجو صاحب کا کہنا ہے کہ ہمیں اس روٹ پر کوئی اعتراض اس لئے نہیں ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ،بلکہ اس میں مزید اضافہ کیا گیا ہے ،جس سے پرانے روٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔


اصل میں عوام میں یہ کنفیوزن حکومتی رویئے نے پیدا کی حکومت نے کبھی اس طرح کی کوشش نہیں کی جس طرح ان منصوبوں کے مخالفین کر رہے ہیں ۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ کھل کر اور بھرپور انداز میں اس منفی پروپیگنڈے کا توڑ کرتی، لیکن حکومت نے ایک مبہم سا موقف اختیار کیا ہوا تھا جس سے مخالفین کے پروپیگنڈے کو تقویت مل رہی تھی ۔ حکومت نے تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو بریفنگ دے کر ایک اچھا اقدام کیا جس بہت حد تک کنفیوزن دور ہو چکا ہے لیکن مخالفین ابھی تک شوشے چھوڑ رہے ہیں اور اس منصوبے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اگر حکومتی بریفنگ میں کچھ کسر رہ گئی ہے اور کچھ سیاسی رہنماؤں کے تحفظات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں تو ان کے ساتھ دوبارہ بیٹھ کر ان کے تحفظات دور کریں ۔دوبارہ اے پی سی بلائی گئی ہے، جو 28مئی کو ہو گی امید ہے اس میں سب کے تحفظات دور ہو جائیں گے۔

مزید :

کالم -