سرکاری سکولوں کی خستہ ہال عمارتیں کسی سانحے کا سبب بن سکتی ہیں،کامران سیف

سرکاری سکولوں کی خستہ ہال عمارتیں کسی سانحے کا سبب بن سکتی ہیں،کامران سیف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہو(پ ر) مسلم لیگ( ق) لاہور کے جوائنٹ سیکرٹری میاں کامران سیف نے کہا ہے کہ صرف لاہور میں127سرکاری سکولوں کی خطرناک عمارتیں پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے کی عملی نفی ہے انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کی خطرناک عمارتیں کسی بھی وقت بڑے سانحہ کا سبب بن سکتی ہیں یہ خطرناک عمارتیں معصوم بچوں کے لیے ٹائم بم سے زیادہ خطرناک ثابت ہونگی جن میں بچوں کی قیمتی جانیں ہر وقت خطرے سے دوچار ہیں میاں کامران سیف نے کہا کہ لاہور کے سرکاری سکولوں میں 2900اساتذہ کی خالی آسامیوں سے بچوں کی تعلیم میں بھی حرج ہورہا ہے       انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کے لیے سنجیدہ نہیں سکولوں میں درستی مفت کتابیں بھی تاخیر سے فراہم کی جارہی ہیں     جن سے طالبعلموں کے وقت کا ضیاع ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ شہباز حکومت ایجوکیشن فنڈز سکولوں پر خرچ کرنے کی بجائے نمائشی لیپ ٹاپ سکیم اور ورلڈ ریکارڈ جیسے ایونٹس پر خرچ کررہی ہے جس سے بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹ کے پنجاب میں شرح خواندگی بڑھنے کی بجائے 60فیصد سے کم ہوکر58فیصد رہ گئی ہے شرح خواندگی 2فیصد کم ہونا حکومت کی تعلیم کے شعبہ میں عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا چوہدری پرویز الہٰی کے دور میں انقلابی تعلیمی اقدامات کے باعث صوبے میں شرح خواندگی 47فیصد سے بڑھ کر62فیصد ہوگئی تھی جبکہ موجودہ دور میں یہ 2فیصد کم ہوئی ہے۔