محفوظ ماحولیاتی اثرات کیلئے ایٹمی بجلی گھروں میں اضافہ کرنا ہوگا، اظفر منہاج

محفوظ ماحولیاتی اثرات کیلئے ایٹمی بجلی گھروں میں اضافہ کرنا ہوگا، اظفر منہاج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اکنامک رپورٹر)گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ’’انرجی مکس ‘‘ کے تحت پاور جنریشن کی اشد ضرورت ہے ۔ماس ٹرانزٹ کے نظام کو بجلی پر منتقل کرنے سے ماحولیات کے آدھے مسائل کم کیے جاسکتے ہیں۔ کے ٹو اور کے تھری نیو کلیئر پاور پروجیکٹس سے نیشنل گرڈ میں 2200میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگا ۔نیو کلیئر پاور پلانٹ کے گرد و نواح میں تابکاری کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں جس سے انسانی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ۔ان خیالات کا اظہار کراچی نیوکلیئرپاور پروجیکٹ (کینپ )کے ٹو اور کے تھری پاور پراجیکٹس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اظفر منہاج نے گزشتہ روز ’’جرنلسٹس فار انرجی اینڈ انوائرمنٹ نیٹ ورک‘‘(جین) کے زیر اہتمام کینپ کا دورہ کرنے والے صحافیوں کے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔وفد میں مبشر میر ،سید ضیغم حسین ،غلام مرتضیٰ ، منظر نقوی ،امان اللہ بشر ،مس نیر علی ،عبدالرحیم منگریو ،رضوانہ محمود ،کنول عابدی ،راجہ کامران اور دیگر صحافی شامل تھے جبکہ اس موقع پر ڈائریکٹر ایس آئی اینڈ پی آر شاہد ریاض خان اور سینئر انجینئر کینپ عزیز الرحمن اگرو بھی موجود تھے ۔
اظفر منہاج نے کہا کہ گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہورہا ہے جس کے منفی اثرات بتدریج ماحولیات کو اپنے لپیٹ میں لے رہے ہیں ۔اس کی وجہ سے گرمی میں اضافہ جبکہ سمندر میں طغیانی آرہی ہے اور برف بھی پگھل رہی ہے ۔اگر 2035تک اس صورت حال کو جوں کا توں رہنے دیا گیا تو اس کے نقصانات بہت زیادہ بڑھنے کا خدشہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو اسی جگہ روک لینا کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کو کم کرنا بہت ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح بڑھ رہی ہے کیونکہ اس پر قابو پانے کے لیے کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔اگر عالمی سطح پر اس مسئلے پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو 2050ء تک 6ڈگری منظرنامے میں داخل ہوجائیں گے جس سے دنیا ختم ہوسکتی ہے جبکہ 2ڈگری اور 4ڈگری بھی دنیا کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے ۔ اظفر منہاج نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں 439نیو کلیئر پاورپلانٹس کام کررہے ہیں ۔اگر گلوبل وارمنگ سے محفوظ رہناچاہتے ہیں تو ان کی موجودہ تعداد کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سولر اورونڈ سمیت دیگر توانائی کے متبادل ذرائع میں سے کسی ایک پر توانائی کی پیداوار کے لیے انحصار نہیں کیا جاسکتا بلکہ انرجی مکس کی ضرورت ہے کیونکہ کسی ایک ذریعہ کو توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنا ماحولیات کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ چیزوں کو بجلی پر منتقل کرنے سے ماحول کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بجلی کہاں سے آرہی ہے ۔اگر تو یہ بجلی فرنس اور دیگر ایسے ذرائع سے پیدا کی جارہی ہے جو ماحول کے لیے بہتر نہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے نیو کلیئر پاور پلانٹ کی تقابلی افادیت کے حوالے سے بتایا کہ سولر پاور پلانٹ جس کی پیداواری استعداد 100میگاواٹ ہو اسے نصب کرنے کے لیے 500ایکڑ اراضی کی ضرورت ہے ۔جبکہ تقریباً اتنی ہی اراضی پر 4تا 5نیوکلیئر پاور پروجیکٹس تیار کیے جاسکتے ہیں ۔جبکہ ہر ایک پاور پلانٹ کی پیداوار 1100میگاواٹ ہوگی ۔مثال کے طور پر 585ایکڑ اراضی پر کینپ میں کے ٹو اور کے تھری نیو کلیئر پاور پروجیکٹس لگائے گئے ہیں جبکہ ان کی تعداد کو مزید بڑھایا بھی جاسکتا ہے ۔تابکاری اثرات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی شہر میں عام طور پر ایک انسان کو تابکاری کے تین یونٹ یومیہ جھیلنے پڑتے ہیں ۔اگر تابکاری کے ایک ہزار یونٹ اثرانداز ہوں تو اس سے کینسر اور دیگر امراض پیدا ہوتے ہیں ۔جبکہ دو ہزار یونٹ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں جو کہ عموماً نہیں ہوتا ۔ایٹمی ری ایکٹرز میں ہونے والے حادثات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چرنوبل روس میں جو حادثہ ہوا تھا اس میں تابکاری سے 28افراد کی اموت ہوئی تھیں جبکہ بھوپال میں ہونے والا حادثہ گیس کے اخراج کا شاخسانہ تھا جس میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے ۔جاپان فوکوشیما میں ہونے والے حادثے میں تابکاری کے اثر سے 3تا 28افراد ہلاک ہوئے جبکہ غلط منصوبہ بندی کے تحت لوگوں کو وہاں سے منتقل کرنے کے دوران 600سے 700افراد مارے گئے جس کی تصدیق آزاد ذرائع کرچکے ہیں ۔بعد ازاں شرکاء کو کے ٹو اور کے تھری نیو کلیئرپاور پروجیکٹس کا دورہ بھی کروایا گیا۔
اظفر منہاج

مزید :

صفحہ آخر -