محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اربوں روپے کرپشن کی انکوائریاں نمٹانے میں ناکام

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اربوں روپے کرپشن کی انکوائریاں نمٹانے میں ناکام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) سی اینڈڈبلیو کی انتظامیہ بے بس ہوگئی۔ اربوں روپے کی کرپشن پر مبنی بیسیوں انکوائریاں نمٹائی نہ جاسکیں۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات پنجاب میاں مشتا ق احمد کے بار بار خط لکھنے کے باوجود انکوائری افسر تاخیر کرنے لگے۔باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی محکمہ مواصلات وتعمیرات میں انکوائری افسروں نے مبینہ طورپر اربوں روپے کی کرپشن پر مبنی بیسیوں انکوائریاں دانستاًسردخانے میں ڈال رکھی ہیں۔ یہ انکوائریاں سٹرکوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر مرمت کے دوران کی جانے والی بدعنوانیوں پر مشتمل ہیں۔ محکمے کی انتظامیہ کو اس حوالے سے مکمل طورپر بے بسی کا سامنا ہے۔ صوبائی سیکرٹری مواصلات وتعمیرات میاں مشتاق احمد کے بارہا خط لکھنے کے باوجود انکوائری افسرٹس سے مس نہیں ہورہے۔اور اپنے ماتحت چہیتوں کو بچانے کے لیے لیت ولعل سے کام لینے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق سی اینڈڈبلیو کے انجینئر ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے سرکاری منصوبہ جات میں ایک طرف ناقص تعمیراتی مٹیریل سی کلاس(سوئم ) اینٹیں ، انڈر گریڈ سریا، سی کلاس سیمنٹ استعمال کرتے ہیں۔ریت ، سیمنٹ اور بجری وغیر ہ کو مکس کرنے کے سرکاری فارمولے کی بجائے من چاہے فارمولے پر عمل کیا جاتا ہے۔ جس سے تعمیر ہونے والی سرکاری عمارتوں کی عمر اصل سے نصف رہ جاتی ہے۔سٹرکوں کی تعمیر کے دوران بیس اور سب بیس پر انتہائی کم توجہ دی جاتی ہے۔ لک (BITUMEN) کی مقدار کم رکھی جاتی ہے۔ جس سے سٹرکیں جلد ہی ادھڑ جاتی ہیں۔ دوسری طرف ان منصوبوں میں تاخیر کا سبب پیدا کرکے ٹھیکیداروں کو پرائس ایسکیلیشن فارمولے کے تحت اضافی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔جبکہ بعض انجینئر غیر قانونی طورپر مختلف منصوبہ جات میں ٹھیکیداروں کو ایڈوانس ادائیگیاں کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق سی اینڈڈبلیوکے انجینئر وں کو ہی دیگر اور جونےئر انجینئر وں کو انکوائری افسر مقرر کیا جاتا ہے۔ان میں اکثر الزام علیہہ انجینئر ماضی میں انکوائری افسروں کے ماتحت انجینئر کے طورپر کام کرچکے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انکوائری افسر الزام علیہان کے خلاف نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اور انکوائریاں بروقت مکمل کرنے کی بجائے سرد خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اکثر انکوائری افسر اپنے ہی محکمے کے انجینئر وں کے حق میں انکوائری رپورٹ لکھنے یالٹکانے کے عوض بھاری رشوت بھی لیتے ہیں۔ صوبائی سیکرٹر مواصلا ت وتعمیرات میاں مشتاق احمد نے اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ا نجینئر وں کی انکوائریاں دبائے جانے کی شکایات سامنے آنے پر صوبے بھر سے تمام انکوائری افسروں کو اپنے دفتر میں طلب کرکے کئی مرتبہ ان کی سرزنش کرچکے ہیں ۔ انہیں تحریری ہدایات جاری کرچکے ہیں۔ لیکن یہ اس کے باوجود انکوائری افسروں نے حیلوں بہانوں سے انکوائریاں لٹکا رکھی ہیں۔ محکمہ سی اینڈڈبلیو

مزید :

صفحہ آخر -