ایگزیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے انٹر پول اور ایف بی آئی سے قانونی مدد لی جائے گی ،وزیر داخلہ

ایگزیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے انٹر پول اور ایف بی آئی سے قانونی مدد لی جائے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این) وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ ایگزیکٹ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے انٹرپول اور ایف بی آئی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر قانونی معاونت کیلئے برطانیہ سے بھی رابطہ کیا جائے گا،انکوائری مکمل طورپر شفاف ہو گی، کسی قسم کا دباؤ برادشت نہیں کیا جائے گا، ایف آئی آر درج ہونی یا نہیں اس کا فیصلہ سات سے دس روز میں انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہو گا،اب بھی پارلیمنٹ،حکومت،اپوزیشن اوردیگراداروں میں جعلی ڈگری والے بیٹھے ہیں،غیرتصدیق شدہ ووٹ جعلی نہیں، عمران خان جوڈیشل کمیشن کو فیصلہ کرنے دیں۔ ہفتہ کویہاں وزارت داخلہ میں چوہدری نثار کی زیر صدارت ایگزیکٹ سکینڈل سے متعلق اجلاس ہواجس میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سمیت دیگر اعلی حکام شریک ہوئے ۔ اس موقع پر ڈی جی ایف آئی نے جعلی ڈگریوں سے متعلق ایگزیکٹ اسکینڈل کے حوالے سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جبکہ اس حوالے سے حکام بریفنگ بھی دی ۔ اجلاس کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ میں عمران خان کے اس بیان پر بات کرنا چاہتا ہوں جس میں انہوں نے میری ایک اسمبلی تقریر کا حوالہ دیا ہے لیکن ایگزیکٹ اہم معاملہ ہے ، اس کیس میں میڈیا کی دلچسپی کا بھی علم ہے ، اس سکینڈل کی مکمل شفاف انکوائری ہو گی ، معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں ہو گا، ایگزیکٹ 2006 میں ایس ای سی پی میں رجسٹرہوا، ایگزیکٹ اسکینڈل پرایف آئی ایک کے سامنے ٹھوس چیزیں سامنے آئی ہیں، ایف آئی اے کی تحقیقات طریقہ کارکے مطابق ہورہی ہیں، تفتیش حساس مرحلے میں ہے ایف آئی اے کے ضابطہ کار الگ اور پولیس سیل ہے مقدمہ درج ہوتا ہے ، اس کے بعد انکوائری ہوتی ہے اور بعد میں مقدمہ درج ہوتا ہے ، فیصلہ کیا جاتا ہے کہ انکوائری کے نتیجے میں ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے یا نہیں ، اس کیلئے 90 روز کا ٹائم فریم ہوتا ہے لیکن یہ اہم کیس ہے اس کے ملک کے اندر اور باہر فوکس ہے اس لئے وزارت داخلہ کو شک ہے کہ اس معاملے کی ابتدائی انکوائری کا وقت 90 روز سے کم ہو ، آج کے اجلاس میں اس کا جائزہ لیا گیا اب تک کی پیشرفت کی روشنی میں بتایا جاسکتا ہے کہ دس روز تک ابتدائی تفتیش مکمل ہو جائے گی اس کے فوری بعد اگلا قدم اٹھایا جائے گا ، ایف آئی آر درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اگلے تین سے دس روز میں ہو گا ۔ انہوں نے کہاکہ اب تک کی پیش رفت حوصلہ افزا ہے ، انکوائری تیزی سے آگے بڑھی ہے اس انکوائری سے وزارت داخلہ کا اس حد تک تعلق ہے کہ ایک غیر ملکی اخبار کی رپورٹ پر میں نے ایف آئی اے کو انکوائری کا حکم دیا ، میں چاہتا ہوں وقت کا تعین کردیا جائے تاکہ اس کی انکوائری کی مدت مقرر کر دی جائے ، وزارت واقعہ کی اس معاملے میں میڈیا کو ہینڈل کرنے یا ایف آئی اے کو سہولیات کی فراہمی سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے ، انہوں نے کہاکہ تمام اداروں کے سربراہان کو اللہ کے ساتھ جوابدہ ہونا ہے ، شفاف اور حقائق پر مبنی انکوائری ہوگی ، اب تک ہونیوالی انکوائری کی روشنی میں وزارت داخلہ اگلے دو روز میں امریکی ایف بی آئی کو خط لکھ دیا ہے جس میں بعض حقائق کی وضاحت مانگی جائے گی اور بتایا جائے گا کہ وہ امریکہ میں ایف بی اے کو قانونی امداد فراہم کرے ، ہم انٹرپول سے بھی رابطہ کررہے ہیں ، جن یونیورسٹیوں کے نام سامنے آئے ہیں ان کے حوالے سے کچھ معلومات انٹر پول سے مل سکتی ہے ، اس کیس کی تشریح کے حوالے سے بھی انٹرپول سے قانونی درخواست کی جارہی ہے ، ہوسکتا ہے کہ قانونی انداز کیلئے برطانیہ سے بھی درخواست کی جائے ، اگلے تین روز میں فیصلہ ہو گا تو برطانوی تحقیقاتی ایجنسی ، پولیس یا عدالتوں سے درخواست کرنی ہے یا نہیں ، اس کے ساتھ سکیورٹی ایکسچینج کا رپوریشن ، ایف بی آر ، پی بی اے اور پاکستان سوفٹ ویئر ایسوسی ایشن کو بھی ایف آئی اے کی طرف سے وضاحتی درخواست اور کیس کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا ضرورت سے زیادہ اس معاملے کو ایف آئی اے کے ذرائع کا حوالہ دے شائع نہ کرے ، اس وقت انکوائری کررہی ہے ، اسلام آباد میں ڈائریکٹر ایف آئی اے انعام غنی اور کراچی میں ڈائریکٹر شاہد حیات انکوائری کررہے ہیں ، غیر مصدقہ رپورٹ تحقیقات متاثر ہوسکتی ہے ، غیر مصدقہ رپورٹس میں ایف آئی اے کا حوالہ نہ دیا جائے یہ اہم ہے اور اس نے قابل فخر کام کیا ہے ، انہوں نے کہاکہ ہم روایتی طورپر نکتہ چین قوم بن گئے ہیں ، میں روز میڈیا کی رپورٹس پر ایکشن لیتا ہوں ، میڈیا رہنمائی کرتا ہے اس معاملے میں فوری ایکشن نہ ہوتا تو بہت سارا ریکارڈ ضائع کردیا جاتا ، ایک شخص ہر بری بات مجھ سے منسوب کردیتا ہے وہ بیٹھے مسلم لیگ (ن) میں ہیں اور اپنے کالم میں ساری گند بھی پارٹی کے کھاتے میں ڈالتے ہیں، مجھ سے ٹکٹ کی مخالفت کا غصہ ہو گا ، جب الیکشن ہوئے نہ صرف خود بلکہ ٹکٹ کے لئے اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے آیا ، میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے دونوں کو ٹکٹ دینے کی مخالف کی ، اب وہ غصہ ہر روز کالم میں نکال رہے ہوتے ہیں۔ ایک سوال پروزیرداخلہ نے کہاکہ اب بھی پارلیمنٹ،حکومت،اپوزیشن اوردیگراداروں میں جعلی ڈگری والے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ غیرتصدیق شدہ ووٹ جعلی نہیں، عمران خان جوڈیشل کمیشن کو فیصلہ کرنے دیں، جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ قبول کریں گے، قانون اورانصاف سب کیلئے برابرہونا چاہیے،جن ووٹوں کونادراکی مشینری ریڈ نہیں کرسکتی وہ جعلی نہیں،الیکشن ٹربیونلزمیں تحریک انصاف کی46پٹیشنزمسترداور3منظورہوئیں ۔

مزید :

صفحہ اول -