،عمران خان نے تنظیمیں توڑ کر اپنی جماعت میں ایک تیر سے دو شکار کر لئے

،عمران خان نے تنظیمیں توڑ کر اپنی جماعت میں ایک تیر سے دو شکار کر لئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لگتا ہے اس کام کے لئے کسی محرک کا انتظار تھا اور غالباً ملتان کی شکست اس کا محرک ثابت ہوئی ہے، جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے تو بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تحریک انصاف کے ان پارٹی عہدیداروں کو فارغ کیا جائے جن پر بے قاعدگیوں کا الزام تھا لیکن چیئرمین عمران خان نے اس پر عمل کرنے کی بجائے خود جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو اس کام سے روک دیا جو پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کر رہا تھا، جسٹس رپورٹ میں پارٹی انتخابات میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، عمران خان کا اب بھی یہی خیال ہے کہ 2015ء انتخابات کا سال ہے اور ہو سکتا ہے کہ عام انتخابات پارٹی انتخابات سے پہلے ہو جائیں اس لئے انہوں نے تمام پارٹی عہدیداروں کو جو منتخب ہوئے تھے فارغ کر دیا ہے اور عبوری تنظیمی سیٹ اپ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت چودھری محمد سرور کو پنجاب، ڈاکٹر عارف علوی کو سندھ، اظہر فاروق کو اسلام آباد کا آرگنائزرز بنایا گیا ہے ۔ عمران خان نے کہا جسٹس(ر) وجیہہ الدین کی رپورٹ کے بعد اب بہتر الیکشن کرائیں گے۔ تسنیم نورانی سے پارٹی الیکشن کا ٹائم فریم مانگا ہے۔


ملتان کے صوبائی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کو شکست ہو گئی ہے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمود الحسن نے تحریک انصاف کے امیدوار کو دس ہزار ووٹوں سے شکست دی ہے یہی امیدوار عام انتخابات میں بھی عبدالوحید آرائیں سے ہارے تھے لیکن اس وقت ہار چار ہزار ووٹوں سے ہوئی تھی اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہاں تحریک انصاف کے حق میں پڑنے والے ووٹ کم ہو گئے ہیں اس شکست کا ذمہ دار شاہ محمود قریشی کو قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کو جو مسلم لیگ (ن) کی جیتی ہوئی تھی غلط حکمت عملی سے اتنی نمایاں حیثیت دیدی کہ اگر تحریک انصاف یہ نشست جیت بھی جاتی تو پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو کیا فرق پڑتا جس کی اسمبلی میں پہلے ہی دو تہائی سے زیادہ اکثریت موجود ہے۔ ایک نشست کی ہار سے جوہری طور پر تو کوئی فرق نہ پڑتا لیکن یہ پروپیگنڈہ کرنا ضرور آسان ہو جاتا کہ حکومتی پارٹی کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔ اب پارٹی کا ایک بڑا حلقہ شاہ محمود قریشی کو نکالنے کی راہ ہموار کر رہا تھا تو کیا براہ راست شاہ محمود قریشی کو نکالنے کا رسک لینے کی بجائے پارٹی کی تنظیمیں توڑ کر یہ مقصد حاصل کر لیا گیا ہے؟ ایسے لگتا ہے عمران خان اپنی پارٹی کے وائس چیئرمین کو ہٹانے کے حق میں نہیں تھے اور شاہ صاحب کے مخالفین ان پر ملبہ ڈالتے چلے جا رہے تھے اس لئے چیئرمین نے یہ راستہ اختیار کیا، اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کی سفارشات کو ماننے کا بھی تاثر دیدیا گیا جن کی رپورٹ میں بے قاعدگیاں کرنے والوں کو عہدوں سے الگ کرنے کی سفارش کی گئی تھی اس طرح عمران خان نے ایک تیر سے دو شکار کر لئے دیکھیں اس کا نتیجہ پارٹی کے حق میں کیا نکلتا ہے۔

مزید :

تجزیہ -