فرنس آئل اور ڈیزل والے پاور ہاؤس ایل این جی پر منتقل!

فرنس آئل اور ڈیزل والے پاور ہاؤس ایل این جی پر منتقل!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ چودھری خادم حسین

وزیراعظم محمد نوازشریف کی توانائی بحران سے عہدہ برآ ہونے کی سرتوڑ کوشش سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کی سرگرمیوں اور حکومتی اقدامات کے مطلوبہ نتائج ابھی تک سامنے نہیںآئے۔ حکمرانوں کو یقین ہے کہ وہ آئندہ دو سالوں میں توانائی کے بحران پر قابو پالیں گے۔
گزشتہ روز توانائی کمیٹی کا چودھواں اجلاس ہوا جس کی صدارت خود وزیراعظم نے کی، اس میں خصوصی طور پر اس تجویز کی منظوری دے دی گئی کہ فرنس آئل اور ڈیزل سے چلنے والے پاور ہاؤسوں کو ایل این جی پر منتقل کر دیا گیا ایک تو یہ بجلی گھر ماحولیات کی آلودگی کا ذریعہ بنتے اور دوسرے ایل این جی کی نسبت تیل زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔
وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والا یہ فیصلہ صائب اور آلودگی میں اضافے کو روکنے بلکہ کمی کرنے کا ذریعہ ہوگا لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ ایل این جی کی درآمد کیوں نہیں ہو پا رہی اور قطر سے حتمی معاہدہ کیوں نہیں اور اس پر عمل کیوں نہیں ہو رہا، حالانکہ ایل این جی پر بہت انحصار کیا جا رہا ہے۔ حکومت پر اس حوالے سے وضاحت واجب ہے۔
ماحولیاتی آلودگی اور قیمت کے حوالے سے فیصلے کی تعریف کرنا چاہیے اور کی بھی گئی ہے تاہم اس کے ساتھ ہی پھر یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ ملک میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے کتنے بجلی گھر لگائے جا رہے ہیں جو کہیں زیادہ ماحولیاتی آلودگی کا ذریعہ بنیں گے۔ا س بارے میں بھی پہلے ہی سے سوچ لینا چاہیے۔
وزیراعظم محمد نوازشریف نے اقتصادی راہداری منصوبے کی وضاحت کے لئے ایک اور کل جماعتی کانفرنس بلا لی جو 28مئی کو وزیراعظم ہاؤس میں ہوگی اور اس میں اس بارے میں اعتراضات اور تحفظات پر غور ہوگا اور جواب دیا جائے گا یہ کانفرنس اس لئے بلائی گئی کہ پہلی کانفرنس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اراکین یا شرکاء کو مطمئن نہیں کر سکے اب وزیراعظم خود سب کوا عتماد میں لیں گے۔
وزیراعظم کا یہ اقدام مثبت اور اچھا جمہوری عمل ہے کہ ملکی ترقی کے معاملے میں اعتراضات دور کئے جائیں اور سب کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ چین کے تعاون سے ترقی کا جو عمل شروع ہوا وہ کسی بھی لمحے تعطل کا شکار نہ ہو، یہ درست ہے کہ اس سرمایہ کاری سے ملک کو بہت فائدہ ہوگا اسی لئے دشمن اس کی ناکامی کے درپے ہے، اس مقصد کے لئے جو پروپیگنڈہ ملک سے باہر ہوتا ہے اس سے ہمارے یہاں کے رہنما بھی متاثر ہوتے ہیں، اس کا حل یہی ہے کہ سب کو اعتماد میں ہی رکھا جائے اور جتنی جلد ممکن ہو ہر شکائت کی وضاحت کر دی جائے۔ وزیر منصوبہ بندی کو بھی احتیاط کرنا چاہیے اور سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو ناراض کرنے سے گریز کرنے کی عادت بنانا چاہیے۔
حکومت کو صرف اسی مسئلہ پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت نہیں بلکہ پن بجلی اور دوسرے منصوبوں کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کر لینا چاہیے، یہ سلسلہ جاری رہے تو کالا باغ ڈیم اور سرکلر ریلوے جیسے امور بھی طے ہونے کے امکانات ہیں جو ضروری بھی ہیں، حکومت کو عمل اور سیاست دانوں کو تعاون کرنا ہوگا۔

مزید :

تجزیہ -