سعودی عرب میں نئے شہر کی تعمیر،وہ حقائق جنہیں جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے

سعودی عرب میں نئے شہر کی تعمیر،وہ حقائق جنہیں جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے
سعودی عرب میں نئے شہر کی تعمیر،وہ حقائق جنہیں جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب معاشی طور پر تیل پر انحصار کرتا ہے، مستقبل میں اس حوالے سے درپیش آنے والے خطرات کوبھانپتے ہوئے اس نے اپنی معیشت کا رخ صنعت و تجارت کی طرف موڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے ایک نیا شہر بسانا شروع کر دیا ہے۔ آئیے آپ کو اس نئے شہر کے بارے میں کچھ حقائق سے آگاہ کرتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:ایئرایشیاء طیارہ حادثہ ،خودکو ذمہ دار قرار دینے والے برطانوی انجینیئر نے خودکشی کر لی
اس نئے شہر کی تعمیر پر 100بلین ڈالرلاگت آئے گی اور یہ منصوبہ 2035ءمیں مکمل ہو گا ۔
نیا شہر بحرہ عرب پر واقع ممالک کے لیے ایک صنعتی حب کی حیثیت کا حامل ہو گا۔
یہ شہر دنیا کی 10بڑی بندرگاہوں میں شمار کیا جائے گا۔
یہ شہر سعودی عرب کے موجودہ کمرشل حب جدہ سے 100کلومیٹر شمال میں واقع ہے، اس میں 2ملین لوگوں کی رہائش کی گنجائش ہو گی اور یہاں کمرشل اور انڈسٹریل پارکس ، ہسپتال ، سکول اور گولف کلب بنائے جائیں گے۔
شہر کی بندرگاہ ابتدائی طور پر سالانہ2.7ملین کنٹینر کی نقل و حمل کی اہل ہو گی اور اس کی استعداد کار میں 20ملین کنٹینرز سالانہ کا اضافہ کیا جائے گا۔
اس شہر کو ہائی سپیڈ ٹرین کے ذریعے جدہ، مکہ المکرمہ اور مدینہ المنورة سے ملایا جائے گا اور یہ شہر سائز میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے بڑا ہو گا۔
شہر میں اس وقت 3ہزار افراد رہائش پذیر ہیں اوراس کے انڈسٹریل پارک میں 100کمپنیاں اپنے کاروبار کا آغاز کر چکی ہیں
شہر کی تعمیر دبئی کی ڈیویلپمنٹ کمپنی ایمار کر رہی ہے، ایمار کے حکام کا کہنا ہے کہ 2020ءتک 25فیصد شہر تعمیر کر لیا جائے گا جس میں 50ہزار افراد کے رہنے کی گنجائش ہوگی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -