پاکستان نے ایٹمی مواد کی تیاری روکنے کے مجوزہ معاہدے میں شمولیت کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا

پاکستان نے ایٹمی مواد کی تیاری روکنے کے مجوزہ معاہدے میں شمولیت کا امریکی ...
پاکستان نے ایٹمی مواد کی تیاری روکنے کے مجوزہ معاہدے میں شمولیت کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان نے افزودہ ایٹمی مواد کی تیاری روکنے کے مجوزہ معاہدہ ایف ایم سی ٹی میں شمولیت کے بارے میں امریکہ کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے مجوزہ معاہدہ کے سقم دور کئے جائیں، پاکستان کے تحفظات کو تسلیم کی جائے، اسکے بعد پاکستان اس موضوع پر ہونیوالے مذاکرات میں شرکت کا سوچے گا۔ اخبار روزنامہ نوائے وقت کے مطابق پاکستان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپ برائے سلامتی، سٹرٹیجک استحکام اور ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقد ہونے والے آٹھویں اجلاس کے دوران اس مﺅقف کا اظہار کیا گیا۔ خارجہ سیکرٹری اعزاز چوہدری اور امریکہ کے انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ برائے آرمز کنٹرول روز گوٹی مور نے اجلا س کی مشترکہ صدارت کی۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں بھارت کی طرف سے آبدوز کے ذریعہ بیلسٹک میزائل داغنے کے تجربہ اور میزائل شکن نظام کے تجربہ اور ان تجربات میں امریکہ کی طرف سے مدد کا معاملہ بھی اٹھایا اور واضح کیا کہ بھارت کے یہ تجربات خطہ میں عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں جن کے جواب میں پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دونوں ملکوں نے اس موضوع پر بامقصد مذاکرات کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ جنوبی ایشیاءمیں سٹریٹجک استحکام قائم ہو گا اور تمام تنازعات پرامن انداز میں طے پا سکیں گے۔ دونوں وفود نے ایٹمی دہشت گردی کی روک تھام کی کوششوں میں موثر شمولیت کے عزم کا اظہار کیا۔ اس اجلاس میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن کے بارے میں بات چیت کی۔ امریکہ نے ایک بار پھر سے جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اجلاس میں کہا کہ نیو کلیئر سپلائرز گروپ اور میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول کے رکن بننے کے اہل ہیں۔

مزید :

اسلام آباد -