حکومت کا آئندہ بجٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس دگنا کرنے پر غور

حکومت کا آئندہ بجٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس دگنا کرنے پر غور
حکومت کا آئندہ بجٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس دگنا کرنے پر غور

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کی طرف سے بینکوں سے نقد رقم نکالنے پر ود ہولڈنگ ٹیکس دگنا کرنے پر غور کر رہی ہے جس کی بنیادی وجہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ بیورو کریٹس کی اپنی مرضی کی ٹیکس تجاویز بجٹ میں شامل کرانے کیلئے کھینچا تانی بتائی جاتی ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ منی ایکسچینج کمپنیوں کے ود ہولڈنگ ٹیکس میںاضافہ کیا جائے جو پیشگی انکم ٹیکس کے طور پر اکاو¿نٹ ہولڈر سے چارج کیا جائے گااور اس کی شرح اعشاریہ 3 سے اعشاریہ 15 فیصد تک ہوگی جس سے مالی سال 2016-17 کے دوران 3 ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے منی ایکسچینج کمپنیوں کیلئے یہ دوسری بڑی تبدیلی ہوگی اس سے قبل گزشتہ بجٹ میں حکومت ان کمپنیوں کو ود ہولڈنگ ٹیکس کے دائرے میں لائی تھی۔

انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 231 اے کے تحت حکومت ٹیکس فائلرز سے بینک سے رقم نکلوانے پر اعشاریہ 3 فیصد جبکہ نان فائلرز سے اعشاریہ 6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 236 پی کے تحت بینکوں کی تمام ٹرانزیکشنز پر اعشاریہ 4 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ مالی سال 2014-15 کے دوران حکومت کو اعشاریہ 3 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی سے 23 اعشاریہ 3ارب روپے کی اضافی آمدن ہوئی تھی ۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے تین اعلیٰ عہدیدار ان لینڈ ریونیو پالیسی ونگ کو نظر انداز کرکے اپنی تجاویز ان 2 فائلوں میں شامل کرانا چاہتے ہیں جو ان لینڈ ریونیو (انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی) کے ٹیکس کیلئے تیار کرلی گئی ہیں۔

مزید :

بجٹ -