نئے بھارتی ہیڈ کوچ کا انتخاب درد سر بن گیا

نئے بھارتی ہیڈ کوچ کا انتخاب درد سر بن گیا
نئے بھارتی ہیڈ کوچ کا انتخاب درد سر بن گیا

  

ممبئی (ویب ڈیسک) بھارت کیلئے نئے کوچ کا انتخاب درد سر بن کر رہ گیا، سابق کرکٹر ز پر مشتمل ایڈوائزری کمیٹی ابھی تک کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پائی ، سارگنگولی کہتے ہیں کہ ہیڈ کوچ کے تقرر میں دوماہ لگ سکتے ہیں ، دورہ زمبابوے سے قبل ایسا ممکن نہیں ہے ۔ دوسری جانب بی سی سی آئی کے نئے صدر انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ 10 جون تک پوسٹ کیلئے اشتہار جاری کر سکتے ہیں. تفصیلات کے مطابق بھارتی کرکٹ ٹیم گزشتہ برس ڈنکن فلیچر کی رخصتی کے بعد سے ہیڈ کوچ سے محروم ہے، فلیچر کے جانے کے بعد ٹیم کی ذمہ داری روی شاستری کوسونپی گئی تھی جن کیلئے خاص طور پر ٹیم ڈائریکٹر کا عہد تشکیل دیا گیا تھا، اس کی مدت بھی ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے ساتھ ہی ختم ہو چکی مگر ابھی تک نئے کوچ کا انتخاب نہیں ہو سکا ہے ۔ بی سی سی آئی نے موزوں کوچ کی تلاش کا کام سابق کرکٹرز پر مشتمل ایڈوائزری کمیٹی کو سونپا تھا جس میں سچن ٹنڈولکھر ، لکشمن اور سارو گنگولی شامل ہیں، ابھی تک یہ کمیٹی بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائی ہے۔ بھارت میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ کوچ ملکی ہو یا غیر ملکی ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں راہول ڈریوڈ کا بھی نام لیا جارہا ہے جو کہ اس وقت انڈر 19 اور اے ٹیم کے کوچ بھی ہیں ، کئی سابق کرکٹر ز بھی ان کی حمایت کر چکے ۔ روی شاستری بھی بدستور دوڑ میں شامل ہیں ، ان کی خواہش ہے کہ ٹیم ڈائریکٹر کے طورپر عہدے کی مدت میں مزید توسیع کر دی جائے ۔ ایڈوائزری کمیٹی کے ممبر سارو گنگولی نے بھی کہہ دیا ہے کہ نئے کوچ کے تقرر میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ بھارتی ٹیم کو 11 جون سے شروع ہونے والے دورہ زمبابولے پر بغیر کوچ کے جانا پڑسکتا ہے ۔ گنگولی کہتے ہیں کہ نئے کوچ کا تقرر دو ماہ تک ہو سکتا ہے ، میں نہیں سمجھتا کہ زمبابوے کے دورے سے پہلے ایسا ہو سکے گا کیونکہ ابھی اس میں وقت لگ سکتا ہے ۔ ادھر انوراگ نے نئے کوچ کی تلاشی کیلئے اشتہار کے اجرا کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا ہے ۔

مزید :

کھیل -