امریکہ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی، امریکیوں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف ہتھیار اُٹھالئے

امریکہ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی، امریکیوں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف ہتھیار ...
امریکہ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی، امریکیوں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف ہتھیار اُٹھالئے

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا ہو یا مصر، اب تک کئی اسلامی ممالک کی حکومتیں گرانے کے لیے امریکہ خانہ جنگی کا سامان کر چکا ہے مگر اب اس کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے کیونکہ امریکی شہریوں نے اب اپنی ہی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کے خلاف شہریوں نے ایک مسلح تحریک شروع کر دی ہے جس میں تیزی کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ شہریوں کا حکومت سے اعتبار اٹھ چکا ہے جس کی وجہ سے یہ تحریک پیدا ہوئی۔ اس تحریک کے اراکین خود کو محبت وطن قرار دیتے ہیں۔ ڈیفینسو یونٹ (Defensive Unit) کے نام سے اس تحریک کی بنیاد2سال قبل 40سالہ بی جے سوپر (B.J. Soper)نے رکھی ہے جو پیشے کے اعتبار سے ایک ٹھیکیدار ہے۔آغاز میں اس تحریک میں 30سے زائد مرد، خواتین اور بچے شامل ہوئے تھے مگر اب ان کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے۔اس تحریک کا مقصد ملک کے تمام اندرونی و بیرونی دشمنوں سے مسلح طور پر نمٹنا ہے۔یہ تمام لوگ باقاعدہ اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، ان میں بے جے سوپر کی دو بیٹیاں اور بیوی بھی شامل ہیں جنہیں وہ خود اسلحہ چلانے کی تربیت دے رہا ہے۔

امریکہ نے پاکستانی فوجی امداد حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی اور شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کر دی

بی جے سوپر کا کہنا ہے کہ ”تحریک کے اراکین کو اسلحہ چلانا اس لیے سکھایا جا رہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ہم مل کر دشمن کے خلاف لڑ سکیں۔“اس تحریک کے اراکین امریکہ کی وفاقی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ مکمل طور پر آئین کی پیروی کرے اور لینڈ رائٹس، گن رائٹس اور آزادی اظہار رائے سمیت شہریوں کی ہر طرح کی آزادی کی خلاف ورزیاں بند کرے۔“امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام اس تحریک کو خطرناک،فریب کارانہ اور پرتشدد قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”2008ءمیں امریکہ میں پہلے سیاہ فام باشندے کے صدر منتخب ہونے اور ملک کے معاشی بحران کا شکار ہونے کے باعث شہری غصے سے بھر گئے تھے اور ان کا وفاقی حکومت سے اعتماد اٹھ گیا تھا۔یہی عناصر اس تحریک کے قیام کی وجہ بنے جس کی طاقت اور اراکین کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔“رپورٹ کے مطابق اس تحریک میں ٹھیکیدار، نرسیں، پینٹرز، ہائی سکولوں کے طلباءو طالبات سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے لوگ شامل ہورہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے پاس خوراک و اسلحے وغیرہ کا ذخیرہ رکھتے ہیں اور ہنگامی حالات میں زندہ رہنے کی مہارت کی مشقیں کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک کے اراکین کو جنگی حربے بھی سکھائے جاتے ہیں۔ انہیں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ جنگ کے دوران زخمی ہونے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ یہ امریکہ کا آئین پڑھتے ہیں اور اپنی جدید رائفلوں کے ذریعے لڑائی کی مشقیں بھی باقاعدگی کے ساتھ کرتے ہیں۔سوپر کا کہنا ہے کہ ”ہمارے آئین میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ آپ اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ہم نے حکومت کو اپنے اوپر چڑھ دوڑنے اور حکمرانی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ یہ اس ملک کے قیام کا مقصد ہرگز نہیں تھا۔ “

خطرے کی گھنٹی بج گئی، چینی طیاروں نے امریکہ کے جنگی جہاز کا راستہ روک دیا

واضح رہے کہ جے بی سوپر کی بنائی گئی تحریک ہی امریکہ میں اکیلی مسلح جدوجہد کرنے والی تحریک نہیں ہے۔ ملک میں ایسے گروپوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ شدت پسندی کو مانیٹر کرنے والے سدرن پاورٹی لاءسنٹر(Southern Poverty Law Center) کے ماہر مارک پوٹک کا کہنا ہے کہ ”2008ءمیں ان گروپوں کی تعداد 150تھی جو اب ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ان گروپوں کے اراکین کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔“ امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مارک پوٹک کی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں۔ امریکی سکیورٹی اداروں کے مطابق فیس بک پر ان گروپوں کا ایک پیج بھی ہے جس کو اب تک 5لاکھ 25ہزار لوگ لائیک کر چکے ہیں۔ اس سے بھی ان کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -